Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

جنب کو جب اتنا ہی پانی ملے جس سے صرف وضو کرسکے تو ہمارے نزدیك  تیمم اسے کافی ہوگا اس لئے کہ دھونے سے جب جواز نماز کا فائدہ نہیں حاصل ہوسکتا تو اس میں مشغولی بے وقوفی ہے۔ ساتھ ہی اس میں پانی کی بربادی بھی ہے اور یقینا یہ حرام ہے۔ تو اس کا حال اس کی طرح ہوا جسے اسی قدر ملاکہ اس سے پانچ مسکینوں کو کھلاسکے اس لئے اس نے روزوں سے کفارہ ادا کیا تو جائز ہے اور اسے پانچ کو کھلانے کا حکم نہیں د یا جائےگا اس لئے کہ بے فائدہ ہے۔ اسی طرح یہ بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہے اس لئے کہ وہاں مال کی بربادی تك  معاملہ نہیں پہنچتا کیونکہ صدقہ کرنے کا ثواب مل جائےگا ، اس کے باوجود اس کا اسے حکم نہ د یا گیا تو یہاں بدرجہ اولٰی حکم نہ ہوگا۔ اور اگر جنب نے تیمم کیا پھر اس کے

قدرمایتوضأ بہ فانہ یتوضأ بہ لان ھذا محدث ولیس بجنب ومعہ من المائقدر مایکفیہ للوضؤ فیتوضأبہ [1]۔

بعد اسے حدث ہوا اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جس سے وضو کرلے تو وہ وضو کرے گا کیونکہ یہ بے وضو ہے جنب نہیں ہے اور اس کے پاس اتنا پانی ہے جو وضو کےلئے کافی ہے تو اس سے وضو کرے گا۔ (ت)

یونہی درمختار میں ہے :

لوتیمم للجنابۃ ثم احدث صار محدثا لاجنبا فیتوضأ [2]۔

اور اگر جنابت کا تیمم کیا پھر اسے حدث ہوا تو وہ محدث ہے جنب نہیں اس لئے وضو کرےگا۔ (ت)

تیمم کے بعد حدث پر حکم وضو کو اس پر متفرع کیا کہ اب وہ محدث ہے جنب نہیں یعنی جنب ہوتا تو حدث کے باعث وضو نہ کرتا ولہذا ردالمحتار میں فرما یا :

افاد انہ اذا وجد ماء یکفیہ للوضوء فقط انما یتوضأ بہ اذا احدث بعد تیممہ عن الجنابۃ امالووجدہ وقت التیمم قبل الحدث لایلزمہ عندنا الوضوء بہ عن الحدث الذی مع الجنابۃ لانہ عبث اذ لابد لہ من التیمم [3] اھ۔

تنبیہ : قول ملك  العلماء قدس سرہ فیہ تضییع الماء تبعہ فیہ الامام النسفی فی الکافی فقال لنا انہ اذالم یطھر عن الجنابۃ باستعمالہ تکون تضییعا [4]اھ۔                  

اس سے یہ افادہ فرما یا کہ جب اسے اتنا پانی ملے جس سے صرف اس کا وضو ہوسکتا ہو تو وہ اس سے وضو کرے گا جبکہ اسے اپنے تیمم جنابت کے بعد حدث ہوا ہو۔ لیکن اگر یہ پانی تیمم ہی کے وقت قبل حدث ملا تو ہمارے نزدیك  اسے اس حدث سے جو جنابت کے ساتھ ہے وضو کرنا لازم نہیں کیونکہ عبث ہے اس لئے کہ تیمم اس کےلئے ضروری ہے۔ اھ (ت)

تنبیہ : ملك  العلماء قدس سرہ ، کا ارشاد “ فیہ تضییع الماء “ (اس میں پانی برباد کرنا ہے) اس پر امام نسفی نے ان کی پیروی کی ہے-وہ فرماتے ہیں : “ ہماری دلیل یہ ہے کہ اس کے استعمال سے جب وہ جنابت سے پاك  نہ ہوا تو یہ برباد کرنا ہی ہے “ اھ (ت)

وتبعھما الامام الزیلعی فی التبیین فقال اذا لم یفدکان الاشتغال عبثا وتضییعا للماء فی موضع عزتہ وتضییع(۱) المال حرام [5]  اھ۔

وتبعھم المحقق فی الفتح فقال لایفید اذلایتجزأ بل الحدث قائم مابقی ادنی لمعۃ فیبقی مجرد اضاعۃ مال خصوصا فی موضع عزتہ مع بقاء الحدث کماھو [6] اھ۔ وتبعہ فی الحلیۃ والبحر علی الفاظہ وزادت الحلیۃ وقدصح عن رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انہ قال وانھی امتی عن اضاعۃ المال [7] اھ والفقیر تبعھم فیما مضی واَجدر بھم للاتباع۔

اقول :  لکن(۲) للعبد الضعیف نظر فیہ قوی فانہ وان لم یرفع الحدث لعدم تجزیہ فلاشك  انہ یسقط الفرض                                    

تبیین میں امام زیلعی نے ان دونوں حضرات کی پیروی کی ہے۔ تو فرما یا : “ جب یہ بے فائدہ ہے تو اس میں مشغول عبث ہے اور ایسی جگہ پانی برباد کرنا ہے جہاں پانی کم یاب ہے اور مال برباد کرنا حرام ہے اھ “

اور محقق علی الاطلاق نے فتح القد یر میں ان حضرات کی پیروی کرتے ہوئے فرما یا : “ بے فائدہ ہے اس لئے کہ حدث کی تجزّی نہیں ہوتی بلکہ جب تك  ذرا سا بھی حصّہ چھُوٹا رہے گا حدث رہے گا تو صرف مال کی بربادی باقی رہ جائے گی خصوصًا ایسی جگہ جہاں پانی کم یاب ہے باوجودیك  ہ حدث جیسے تھا ویسے ہی باقی رہے گا “ ۔ اھ (ت)اب حلیہ اور بحر نے الفاظ میں بھی ان کی پیروی کی۔ حلیہ نے مزید یہ فرما یا : حالانکہ رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے بروایت صحیحہ ثابت ہے کہ فرما یا : “ اور میں اپنی اُمت کو مال برباد کرنے سے منع فرماتا ہُوں “ اھ۔ فقیر نے بھی ماضی میں انہی حضرات کی پیروی کی اور وہ ان کی پیروی کا ز یادہ مستحق ہے۔

اقول : لیکن بندہ ضعیف کو اس میں نظر قوی ہے کیونکہ اس سے حدث غیر متجزی ہونے کے باعث اگرچہ ختم نہیں ہوتا لیکن اس میں شك  نہیں کہ جس حصّے

عما یصیبہ وکفی بہ فائدۃ ویعظم وقعہ اذاوجد بعدہ مایکفی للباقی بعد ھذا الاستعمال ولوترکہ وراح ثم وجد ھذالم یکف۔

وقدقال الامام رضی الدین السرخسی فی المحیط فیما اذا(۱) اغتسل وبقیت لمعۃ ثم وجد ماء لایکفی لھا یغسل شیئا من اللمعۃ ان شاء تقلیلا للجنابۃ [8]اھ قال فی الحل یۃ بعد نقلہ فی مسألۃ اُخری نظیرہ مانصہ یغسل من اللمعۃ مایتأتی تقلیلا للجنابۃ [9]  اھ

وفی خزانۃ المفتین عن شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی وان کان لایکفی یغسل مقدار ما یکفیہ حتی تقل الجنابۃ ویتیمم[10]اھ

ومثلہ فی الخلاصۃ وشرح الوقا یۃ وکثیر من الکتب بل قدقال فی الکافی نفسہ جنب(۲) علی ظھرہ لمعۃ ونسی اعضاء وضوئہ وماؤہ یکفی احدھما صرفہ الی ایھما شاء لان کل واحد نجاسۃ الجنابۃ فاعضاء الوضؤ اولی اقامۃ

تك  پہنچے گا اس سے فرض ساقط کردے گا۔ اتنی افادیت کافی ہے۔ اس کی وقعت اس وقت اور بڑھ جائےگی جب اس کے بعد اسے اتنا پانی ملے جو اسے استعمال کرنے کے بعد بقیہ اعضا کےلئے کافی ہو۔ اور اگر اسے چھوڑ کر چلاجائے پھر یہ ملے تو ناکافی ہوگا۔ امام رضی الدین سرخسینے محیط میں فرما یا ہے : “ اس صورت میں جبکہ غسل کرلیا اور کچھ جگہ چمکتی رہ گئی پھر اتنا پانی ملا جو اس کےلئے کافی نہیں تو اگر چاہے جنابت کم کرنے کےلئے اس جگہ کا کچھ حصّہ دھولے“۔  اھ حلیہ کے اندر اسے نقل کرنے کے بعد ویسے ہی ایك  دوسرے مسئلہ میں یہ لکھا : “ چھوٹی ہوئی جگہ سے جو ہوسکے جنابت کم کرنے کی خاطر دھولے “ اھ خزانۃ المفتین میں امام اسبیجابی کی شرح طحاوی سے نقل ہے :



[1]   بدائع الصنائع شرائط التیمم ، مکتبہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ / ۵۰

[2]               دُرمختار ، باب التیمم ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱ / ۴۵

[3]   ردالمحتار باب التیمم ، مکتبہ مصطفی البابی مصر ، ۱ / ۱۸۷

[4]   کافی للامام النسفی

[5]   تبیین الحقائق باب التیمم ، مطبعہ امیریہ بولاق مصر ۱ / ۴۱

[6]               فتح القد یر باب التیمم ، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۹

[7]   حلیہ

[8]   محیط رضی الدین السرخسی

[9]   حلیہ