Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

ثلاث من الجفاء ان یبول الرجل قائما اویمسح جبھتہ قبل ان یفرغ من صلاتہ

تین۳ باتیں جفا وبے ادبی سے ہیں یہ کہ آدمی کھڑے ہوکر پیشاب کرے یا نماز میں اپنی پیشانی سے (مثلًا

اوینفخ فی سجودہ [1]۔

مٹی یا پسینہ) پُونچھنے یا سجدہ کرتے وقت (زمین پر مثلًا غبار صاف کرنے کو) پھُونکے۔ (م)

تیسیر میں ہے :  رجالہ رجال الصحیح [2] (اس حدیث کے سبب راوی ثقہ معتمد صحیح کے راوی ہیں۔ م)عمدۃ القاری میں ہے :  رواہ البزار بسند صحیح [3] اسے بزار نے بسند صحیح روایت کیا۔ م)قال وقال الترمذی حیث بریدۃ فی ھذا غیر محفوظ وقول الترمذی یردُّ بہ [4] (اور کہا کہ امام ترمذی نے فرمایا : اس سلسلے میں حضرت بریدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت غیر محفوظ ہے۔ اور امام ترمذی کا قول اس کے ساتھ رَد کیا جاتا ہے۔ ت)حدیث سوم : ترمذی عـــہ۱ وابن ماجہ وبیہقی امیر المومنین فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

قال راٰنی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ابول قائما فقال یاعمر لاتبل قائما فمابلت قائما بعد [5]۔

رسول اللہ  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھے کھڑے ہوکر پیشاب کرتے دیکھا تو فرمایا : “ اے عمر! کھڑے ہوکر پیشاب نہ کرو “ ۔ اس دن سے میں نے کبھی کھڑے ہوکر پیشاب نہ کیا۔ (م)

 حدیثِ چہارم : ابن ماجہ عـــہ۲ وبیہقی جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے راوی :

نھی رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان یبول الرجل قائما [6]۔

رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے سے منع فرمایا۔ (م)

امام خاتم الحفاظ فرماتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ رہی حدیثِ حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ:

عـــہ۱ :  اقتصر فی عمدۃ القاری علی عزوہ للبھیقی وھو ممالاینبغی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)

عـــہ۲ :  کذا اقتصر ھھنا علی عزوہ للبھیقی ۱۲ منہ غفرلہ (م)                                   

عمدۃ القاری میں اس حدیث کو بیہقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے حالانکہ ایسا کرنا مناسب نہیں۔ (ت)

اسی طرح یہاں بھی اس حدیث کو بیہقی کی طرف منسوب کرنے پر اقتصار کیا ہے۔ (ت)

نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ایك گھُورے پر تشریف لے گئے اور وہاں کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ (رواہ الشیخان) (ت)

اتی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم سباطۃ قوم فبال قائما [7]۔ رواہ الشیخان۔

ائمہ کرام علمائے اعلام نے اس سے بہت جواب دیے : اوّل : یہ حدیث ام المؤمنین صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے منسوخ ہے۔ یہ امام ابوعوانہ نے اپنی صحیح اور ابن شاہین نے کتابُ السُّنّہ میں اختیار کیا ،  امام عسقلانی اور عینی نے ان دونوں کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا : صحیح بات یہ ہے کہ یہ غیر منسوخ ہے کیونکہ حضرت عائشہ اور حضرت حذیفہ رضی اللہعنہما دونوں نے جو کچھ دیکھا اس کی خبر دی اھ (ت)

اقول : یہ بات معلوم ہے کہ حضرت حذیفہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی روایت نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آخری دَور کی نہیں جبکہ حضرت ام المومنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے آپ کو وصال تك دیکھا اور آپ کے افعال مبارکہ پر مطلع رہیں اور آخری عمل کو اپنایا جاتا ہے لہذا آپ کے بھی آخری فعل پر عمل ہوگا۔ بنا بریں ہر ایك کا اپنے مشاہدے کے مطابق خبر دینا نسخ کو منع نہیں کرتا جب ہمیں معلوم ہوجائے کہ دو مشاہدوں میں سے ایك متاخر بھی ہے اور جاری بھی اور حکمِ نسخ پر آپ کا وہ قول حاوی ہوگا جو صحیح طور پر ثابت ہے کہ یہ ظلم ہے اور نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تمام

وتعقبھما العسقلانی والعینی فقالا الصواب انہ غیر منسوخ زاد العینی لان کلامن عائشۃ وحذیفۃ رضی الله تعالٰی عنھما اخبربما شاھدۃ [8] اھ۔ اقول :  معلوم ان حدیث حذیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ لم یکن فی اٰخر عمرہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم وقدرأتہ ام المؤمنین رضی الله تعالٰی عنہا واطلعت علی افعالہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم الی یوم لحق الله عزوجل وانما یؤخذ بالاٰخر فالاٰخر من افعالہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فکون کل اخبربما شاھد لایمنع النسخ اذاعلمنا ان احدی المشاھدتین متأخرۃ مستمرۃ والحاوی علی حکم النسخ ماصح من قولہ صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انہ من الجفاء[9] 

وقدکان صلی اللّٰۃ تعالٰی علیہ وسلم ابعد الناس عنہ۔

لوگوں سے بڑھ کر اس سے پرہیز کرتے تھے۔ (ت)

دوم : اُس وقت زانوائے مبارك میں زخم تھا بیٹھ نہ سکتے تھے۔ یہ ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہوا ، حاکم ودارقطنی وبیہقی اُن سے راوی :

ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بال قائما من جرح کان بمابضہ [10] لکن ضعفہ ھذان وابن عساکر فی غرائب مالك وتبعھم الذھبی فقال منکر۔

نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس زخم کی وجہ سے جو زانو کے اندرونی طرف تھا کھڑے ہوکر پیشاب فرمایا۔ لیکن ان دونوں (دارقطنی اور بہیقی) اور ابن عساکر نے غرائب مالك میں اسے ضعیف قرار دیا اور ذہبی نے بھی ان کی اتباع کرتے ہوئے فرمایا یہ منکر ہے۔ (ت)

سوم : وہاں نجاسات کے سبب بیٹھنے کی جگہ نہ تھی امام عبدالعظیم زکی الدین منذری نے اس کی ترجی کی۔

 



[1]   کشف الاستار عن زوائد البزار باب مانہی عنہ فی الصلوٰۃ مطبوعہ موسسۃ الرسالۃ بیروت ۱ / ۲۶۶

[2]   فیض القدیر شرح الجامع الصغیر زیر حدیث مذکور مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳ / ۲۹۳

[3]                 عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ / ۱۳۵

[4]   عمدۃ القاری باب البول قائمًا وقاعدًا الطباعۃ المنیریہ بیروت ۳ /