Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

بدن پاك کرنے میں نہ چھوٹے قطرے صاف کرکے دوبارہ دھونا ضرور نہ انقطاع تقاطر کا انتظار درکار بلکہ قطرات وتقاطر درکنار دھار کا موقوف ہونا لازم نہیں نجاست اگر مرئیہ ہو جب تو اُس کے عین کا زوال مطلوب اگرچہ ایك ہی بار میں ہوجائے اور غیر مرئیہ ہے تو زوال کا غلبہ ظن جس کی تقدیر تثلیث سے کی گئی جہاں عصر شرط ہے اور وہ متعذر ہو جیسے مٹّی کا گھڑا یا معتسر ہو جیسے بھاری قالین دری تو شك لحاف وہاں انقطاع تقاطر یا ذہاب تری کو قائم مقام عصر رکھا ہے بدن میں عصر ہی درکار نہیں کہ ان کی حاجت ہو صرف تین بار پانی بَہ جانا چاہئے اگرچہ پہلی دھار ابھی حصّہ زیریں پر باقی ہے مثلًا ساق پر نجاست غیر مرئیہ تھی اوپر سے پانی ایك بار بہایا وہ ابھی ایڑی سے بَہ رہا ہے دوبارہ اوپر سے پھر بہایا ابھی اس کا سیلان نیچے باقی تھا سہ بارہ پھر بہایا جب یہ پانی اُتر گیا تطہیر ہوگئی بلکہ ایك مذہب پر تو انقطاع تقاطر کا انتظار جائز نہیں اگر انتظار کرے گا طہارت نہ ہوگی کہ ان کے نزدیك تطہیر بدن میں عصر کی جگہ توالی غسلات یعنی تینوں غسل پے درپے ہونا ضرور ہے مذہب ارجح میں اگرچہ اس کی بھی ضرورت نہیں مگر خلاف سے بچنے کے لئے اس کی رعایت ضرور مناسب ہے اس تقریر سے تین سوال اخیر کا جواب ہوگیا۔ درمختار میں ہے :

یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بقلعا ای زوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبما فوق ثلث فی الاصح ولایضر بقاء اثرلازم ومحل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف ای انقطاع تقاطر فی غیر منعصر ممایتشرب النجاسۃ والا فبقلعھا [1]۔

اصح مذہب کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ عین نجاست اور اس کے اثر کو دُور کرنے سے پاك ہوجاتی ہے اگرچہ ایك مرتبہ سے ہو یا تین بار سے زیادہ یہ اصح مذہب ہے۔ اس سے لازم ہونے والے (نہ دُور ہونے والے) اثر کا باقی رہنا کچھ نقصان دہ نہیں اور جہاں نجاست نظر نہ آتی ہو اگر دھونے والے کو اس جگہ کے پاك ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاك ہوجائیگی۔ اس میں گنتی شرط نہیں اور اسی پر فتویٰ ہے۔ جس چیز کو نچوڑا جاسکتا ہے وہ تین بار دھونے اور خوب نچوڑنے کے ساتھ کہ اب کوئی قطرہ باقی نہ ہو ، پاك ہوجاتی ہے۔ اور جس کا نچوڑنا ممکن ہو اور اس میں نجاست جذب ہوتی ہو وہ تین بار خشك کرنے یعنی قطرات کے ختم ہونے سے پاك ہوجاتی ہے ورنہ اسے زائل کیا جائے۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

بتثلیث جفاف ای جفاف کل غسلۃ من الغسلات الثلاث وھذا شرط فی غیر البدن ونحوہ امافیہ فیقوم مقامہ توالی الغسل ثلثا قال فی الحلیۃ والاظھر ان کلا من التوالی

تین بار خشك کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہربار دھونے کے بعد خشك کیا جائے یہ شرط غیرِ بدن وغیرہ میں ہے بدن میں تین بار مسلسل دھونا اس کے قائم مقام ہوگا حلیہ میں فرمایا اظہر بات یہ ہے کہ اس میں تسلسل اور

والجفاف لیس بشرط فیہ وقدصرح بہ فی النوازل وفی الذخیرۃ مایوافقہ [2] اھ واقرہ فی البحر۔

اور خشك کرنے (دونوں) میں سے کوئی بات بھی شرط نہیں نوازل میں اس کی تصریح ہے ، ذخیرہ میں اس کے موافق ہے اھ بحرالرائق میں اس کو برقرار ررکھا ہے۔ (ت)

رہا سوال اول یہ تو ظاہر ہوگیا کہ ہر بار قطرات کا پونچھنا فضول تھا بلکہ بلاوجہ ہاتھ ناپاك کرلینا مگر جبکہ اس نے ایسا کیا ، مثلًا پاؤں پر نجاست تھی سیدھے ہاتھ میں لوٹا لے کر اُس پر پانی بہایا اور جو قطرات باقی رہے بائیں ہاتھ سے پونچھ لیے تو یہ ہاتھ ناپاك ہوگیا مگر ایسی نجاست سے کہ دوبار دھونے سے پاك ہوجائے گی اس لئے کہ ایك بار دُھل چکی اب پاؤں پر دوبار پانی ڈالنا تھا دوسری بار کے بعد ایك ہی بار ڈالنا تھا لیکن اس نے دوبارہ دھوکر نجس ہاتھ سے پھر اس کے قطرے پونچھے تو اب پاؤں کو وہ نجاست لگ گئی جو دوبار دھونے کی محتاج ہے تو پاؤں کو پھر دوبار دھونے کی ضرورت ہوگئی اور ہاتھ بدستور اُسی نجاست سے نجس رہا اُس میں تخفیف نہ ہُوئی کہ اُس پر سیلان آب نہ ہوا اب پاؤں پر سہ بارہ کا پانی دوبارہ کے حکم میں ہے کہ اس کے بعد ایك بار اور دھونے کی حاجت ہے لیکن اس نے اس کے بعد بھی وہی نجس ہاتھ اس کے قطرات صاف کرنے میں استعمال کیا تو اب پھر پاؤں کو دو۲ بار دھونے کی ضرورت ہوگئی وھکذا (اور اسی طرح ہے۔ ت) لہذا اُسے لازم کہ پاؤں پر دوبار پانی بہائے اور قطرات نہ پونچھے اور وہ ہاتھ جدا دوبار دھولے۔ رد المحتار میں ہے :

قال فی الامداد والمیاہ الثلثۃ متفاوتۃ فی النجاسۃ فالاولی یطھر مااصابتہ بالغسل ثلثا والثانیۃ بالثنتین والثالثۃ بواحدۃ وکذا الاوانی الثلثۃ التی غسل فیھا واحدۃ بعد واحدۃ وقیل یطھر الاناء الثالث بمجرد الاراقۃ والثانی بواحدۃ والاول بثنتین [3] اھ والله تعالٰی اعلم۔                                 

الامداد “ میں فرمایا نجاست میں تینوں پانی الگ الگ حکم رکھتے ہیں پہلا پانی جس چیز کو لگ جائے وہ تین بار دھونے سے پاك ہے۔ دوسرا پانی جسے پہنچے وہ دو بار ، اور تیسرے پانی جسے پہنچے ایك بار دھونے سے پاك ہوجاتی ہے۔ اسی طرح وہ تینوں برتن جو یکے بعد دیگرے اس میں دھوئے گئے۔ اور کہا گیا ہے تیسرا برتن محض پانی بہانے سے پاك ہوجائے گا دوسرا ایك بار دھونے سے اور پہلا دوبار دھونے سے پاك ہوگا اھ والله  تعالٰی  اعلم (ت)

مسئلہ ۱۹۸ :                از سرنیا ضلع بریلی مسئولہ امیر علی صاحب رضوی ۱۶ شوال ۱۳۲۲ھ

اگر کپڑوں پر بیلوں کے پیشاب گوبر وغیرہ کی چھینٹیں پڑی ہیں اور کپڑے بدلنے کی فرصت نہیں ہے نماز ایسی حالت میں ہوگی یا نہیں؟

الجواب :

اگر چھینٹیں چہارم کپڑے سے کم پر پڑی ہیں نماز ہوجائے گی ورنہ نہیں اور کھیت کے کام سے فرصت نہ ہونے کا کچھ اعتبار نہیں ، والله  تعالٰی  اعلم۔

مسئلہ ۱۹۹ :

از موضع بھوٹا بھوٹی بسوٹولانڈ ملك افریقہ مرسلہ حاجی اسمٰعیل میاں صاحب صدیقی حنفی قادری ابن امیر میاں ۲۳ صفر ۱۳۳۶ھ

گھی گرم تھا اس میں مُرغی کا بچّہ گرا اور فورًا مرگیا یہ گھی کھانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :

گھی ناپاك ہوگیا ، بے پاك کیے اُس کا کھانا حرام ہے۔ پاك کرنے کے تین۳ طریقے ہیں : ایك یہ کہ اُتنا ہی پانی اُس میں ملاکر جنبش دیتے ہیں یہاں تك کہ سب گھی اُوپر آجائے اُسے اتارلیں۔ اور دُوسرا پانی اُسی قدر ملاکر یونہی کریں۔

پھر اتارکر تیسرے پانی سے اُسی طرح دھوئیں۔ اور اگر گھی سرد ہوکر جم گیا ہو تو تینوں بار اُس کے برابر پانی ملاکر جوش دیں یہاں تك کہ گھی اوپر آجائے اتارلیں۔

اقول : جوش دینے کی پہلی ہی بار حاجت ہے پھر تو گھی رقیق ہوجائے گا اور پانی ملاکر جنبش دینا کفایت کرے گا۔ ردالمحتار میں ہے :

قال فی الدرر لوتنجس الدھن یصب علیہ الماء فیغلی فیعلوا الدھن الماء فیرفع بشیئ ھکذا ثلاث مرات اھ وھذا عند ابی یوسف خلافًا لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی کمافی شرح الشیخ اسمٰعیل عن جامع الفتاوٰی وقال فی الفتاوی الخیریۃ لفظۃ فیغلی ذکرت فی بعض الکتب والظاھر انھا من زیادۃ الناسخ فانالم نرمن                                      

الدرر میں فرمایا اگر تیل ناپاك ہوجائے تو اس پر پانی ڈال کر جوش دیا جائے اس طرح تیل پانی پر غالب آکر کچھ اُوپر آجائے گا۔ یوں ہی تین بار کیا جائے اھ یہ امام ابویوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك ہے امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا اس میں اختلاف ہے ، اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتویٰ ہے جیسے شرح شیخ اسمٰعیل میں جامع الفتاویٰ سے منقو ل ہے۔ اور فتاویٰ خیریہ میں فرمایا : “ فیغلیٰ “ (جوش دیا جائے) کا لفظ بعض

شرط لتطھیر الدھن الغلیان مع کثرۃ النقل فی المسألۃ والتتبع لھا الا ان یرادبہ التحریك مجازا فقدصرح فی مجمع الروایۃ وشرح القدوری انہ یصب علیہ مثلہ ماء ویحرك فتأمل اھ اویحمل علی مااذاجمد الدھن بعد تنجسہ ثم رأیت الشارح صرح بذلك فی الخزائن فقال والدھن السائل یلقی فیہ الماء والجامد یغلی بہ حتی یعلو [4] الخ۔

 



[1]        درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶

[2]   ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۱

[3]   ردالمحتارباب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲

[4]   ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۲۲



Total Pages: 269

Go To