Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میں حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : مجھے آسانی اور ہر باطل سے جُدا شریعت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس نے میری سنّت کی مخالفت کی وہ مجھ سے نہیں۔ اس کے علاوہ احادیث ہیں جن کا ذکر باعثِ طوالت ہے جو کچھ ہم نے ذکر کیا وہ کافی ووافی ہے ہم اللہتعالٰی سے عفو وعافیت کا سوال کرتے ہیں۔ (ت)

فقیر غفرلہ اللہتعالٰی لہ ، نے آج تك اس شکّر کی صورت دیکھی نہ کبھی اپنے یہاں منگائی نہ آگے منگائے جانے کا قصد ، مگر بایں ہمہ ہرگز ممانعت نہیں مانتا نہ جو مسلمان استعمال کریں اُنہیں آثم خواہ بیباك جانتا ہے نہ تو ورع و احتیاط کا نام بدنام کرکے عوام مومنین پر طعن کرے نہ اپنے نفس ذلیل مہین رذیل کے لئے اُن پر ترفّع وتعلّی روا رکھے ،

وبالله التوفیق٭والعیاذ من المداھنۃ والتضیيق٭وھو سبحانہ وتعالٰی اعلم٭وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم٭واعلم ان لنافی الکلام٭علٰی ھذا المرام٭بتوفیق المولی۔ سبحانہ وتعالٰی مباحث اخرٰی٭ادق واعلٰی لکنھا دقیقۃ المنزع٭عمیقۃ المشرع٭عریصۃ المنال٭طویلۃ الازیال٭وقد قضینا الوطر عن ابانۃ الصواب وتحقیق الجواب٭فکیفنا امرھا۔ فطوینا ذکرھا فھاك جوابا قل ودل۔ بفضل الملك عزوجل فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ- [1]۔

ومعلوم ان ماقل وکفٰی۔ خیرمماکثر والھی[2]۔  قالہ المصطفی علیہ افضل الثنا۔ رواہ ابویعلی والضیاء المقدسی۔ عن ابی سعیدن الخدری رضی الله تعالٰی عنہ وعن کل ولی اٰمین۔

اور اللہہی توفیق دینے والا ہے ، منافقت اور تنگی پیدا کرنے سے اس کی پناہ چاہتا ہوں ، اور اس پاك اور بلند ذات کا علم زیادہ ہے اس کی ذات بلند اور اس کا علم نہایت مکمل اور مضبوط ومحکم ہے۔ جان لو اپنے مولٰی سبحانہ ، وتعالٰی کی توفیق سے اس مقصد پر ہمارے پاس کچھ اور مباحث بھی ہیں جو نہایت باریك اور اعلٰی ہیں لیکن ان کا حصول نہایت باریك بینی کا کام ہے اور ان کا منبع نہایت گہرائی میں ہے ان کو پانا دشوار ہے اور ان کا دامن نہایت طویل ہے۔ ہم نے راہِ حق کے اظہار اور جواب کی تحقیق میں مقصود حاصل کرلیا ہے ہم نے اس معاملہ میں اسی پر اکتفاء کیا اور اس کا ذکر ختم کردیا کہ جواب عزّت وبزرگی والے بادشاہ کے فضل سے قلیل لیکن زیادہ راہنمائی کرنے والا ہے اگر تیز بارش نہ بھی پہنچے تو اوس کافی ہے۔ اور یہ بات معلوم ہے کہ جو بات مختصر اور کفایت کرنے والی ہو وہ زیادہ اور غافل کرنے والی سے بہتر ہے حضرت محمد مصطفی علیہ افضل الثناء نے یہی بات فرمائی ، اسے ابویعلٰی اور ضیاء مقدسی نے حضرت ابوسعید خدری سے روایت کیا اللہتعالٰی ان سے اور ہر ولی سے راضی ہو۔ آمین (ت)

تنبیہ : فقیر غفراللہتعالٰی لہ نے ان مقدمات عشرہ میں جو مسائل ودلائل تقریر کیے جو انہیں اچھی طرح سمجھ لیا ہے اس قسم کے تمام جزئیات مثلًا بسکٹ ، نان پاؤ رنگت کی پُڑیوں ، یورپ کے آئے ہوئے دودھ ، مکھن ، صابون ، مٹھائیوں وغیرہا کا حکم خود جان سکتا ہے۔ غرض ہر جگہ کیفیت خبر وحالت مخبر وحاصل واقعہ وطریقہ مداخلت حرام ونجس وتفرقہ ظن ویقین ومدارج ظنون وملاحظہ ضابطہ کلیہ ومسالك ورع ومدارات خلق وغیرہا امور مذکورہ کی تنقیح ومراعات کرلیں پھر ان شاء اللہتعالٰی کوئی جزئیہ ایسا نہ نکلے گا جس کا حکم تقاریر سابقہ سے واضح نہ ہوجائے۔

والله سبحانہ الموفق والمعین۔ وبہ نستعین فی کل حین۔ وصلی اللّٰۃ تعالٰی علی سیدالمرسلین وخاتم النبین۔ محمد واٰلہ وصحبہٖ اجمعین وعلینا معھم برحمتك یاارحم الراحمین۔ اٰمین اٰمین الٰہ الحق اٰمین۔ استراح القلم من تحریرہ فی ثلٰثۃ ایام من اواخر ذی القعدۃ المحرم۔ اٰخرھا یوم السبت السادس والعشرون من ذاك الشھر المکرم۔ سنۃ ثلٰث بعد الالف ھ وثلٰثمائۃ من ھجرۃ حضرۃ سید العالم۔ صلی الله تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وبارك وسلم۔ مع اشتغال البال برد اھل الضلال وشیون اُخر۔ والحمد لله العلی الاکبر۔ مالذا الملح وحُبّ السُّکّر۔ والله تعالٰی اعلم۔ وعلّمہ اتم۔ وحکمہ احکم۔

اللہسبحٰنہ وتعالٰی ہی توفیق دینے والا اور مدد کرنے والا ہے اور ہر وقت ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں۔ رسولوں کے سردار اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی اور آپ کے تمام آل واصحاب پر رحمت ہو ، اور ان کے ساتھ ہم پر بھی ، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے تیری رحمت کے ساتھ۔ یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما ، یا اللہ! ہماری دعا قبول فرما ، اے سچّے معبود! ہماری دعا قبول فرما۔ حرمت والے ذیقعد کے آخر میں تین دن کے اندر قلم اس کی تحریر سے فارغ ہوگیا۔ ۲۶ ذی القعدۃ ۱۳۰۳ھ بروز ہفتہ آخری دن تھا۔ باوجودیکہ میں گمراہ لوگوں کے رَد اور دوسرے امور میں قلبی طور پر مشغول تھا ، اللہبزرگ وبرتر کے لئے حمد ہے۔ (ت)

مسئلہ ۱۸۳ :     از نینی تال متصل سوکھاتال مرسلہ حافظ محمد ابراہیم خان محرر پیشی ڈائریکٹر کرنیل میجر ریاست گوالیار ۱۴ ذی الحجہ ۱۳۱۵ھ

حضرت محذومی دامت برکاتہم بعد آداب خادمانہ التماس خدمت اطہر کہ مسئلہ مندرجہ ذیل سے جلد غلام کو سرفراز فرمائیں ، عیسائی کے ہاتھ کی چھُوئی ہوئی شیرینی قابلِ استعمال ہے یا نہیں۔ مثلًا زید عیسائی ہے اور بکر مسلمان ہے زید نے بازار سے مٹھائی لی اور بکر کو قبل اپنے کھانے کے احتیاط کے ساتھ دے دی تو بکر استعمال کرسکتا ہے یا نہیں۔ بکر مسلمان اپنے یہاں سے کتھّا چُونا زید کو دے دیتا ہے اور جب ضرورت ہوتی ہے تو بکر اپنے یہاں سے پانی وغیرہ اُس کتھے چُونے میں ڈال دیتا ہے اور اپنے ہی یہاں کے پانی سے بکر پان وغیرہ بھگودیتا ہے بلالکہ زید خود احتیاط رکھتا ہے کہ جب ضرورت ہوتی ہے تو پانی بکر کے یہاں سے اُس میں استعمال کے واسطے منگوالیتا ہے اس حالت میں بکر پان زید کے ہاتھ کا استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب :

نصارٰی کے مذہب میں خونِ حیض کے سوا شراب پیشاب پاخانہ غرض کوئی بلااصلا ناپاك نہیں وہ ان چیزوں سے بچنے پر ہنستے اور اپنی ساختہ تہذیب کے خلاف سمجھتے ہیں تو اُن کا ظاہر حال نجاست سے متلوث ہی رہتا ہے۔ امام ابن الحاج مکی مدخل میں فرماتے ہیں :

یتعین علی من لہ امران یقیم من الاسواق من یشتغل بھذا السبب (یرید بیع الاشربۃ الدوائیۃ کشراب العناب وشراب البنفسج وغیر ذلک) من اھل الکتاب لان النصاری عندھم ابوالھم طاھرۃ ولایتدینون بترك نجاسۃ الادم الحیض فقط فالشراب الماخوذ من النصاری الغالب علیہ انہ متنجس[3]۔ صاحبِ اختیار کا فرض ہے کہ وہ ان اہل کتاب کو بازاروں سے اٹھادے جو اس کام میں مشغول ہیں (یعنی دوائیوں پر مبنی مشروبات جیسے عناب اور بنفشہ وغیرہ کا شربت بیچتے ہیں) کیونکہ عیسائی اپنے پیشاب کو پاك سمجھتے ہیں اور وہ خونِ حیض کے علاوہ کسی نجاست کو چھوڑنے کا عقیدہ نہیں رکھتے۔ لہذا عیسائیوں سے حاصل کردہ مشروب غالب گمان کے مطابق ناپاك ہوتا ہے۔ (ت)

استفسارات رد نصارٰی کے سترھویں استفسار میں ہے مسلمان لوگ بَول وبراز اور خُون سے آلُودہ رہنے کو عقلًا بھی نامستحسن جانتے ہیں اور عیسائی لوگ اس بات پر اُنہیں ہنسا کرتے ہیں تو ان کی چھوئی ہُوئی تر چیزوں کا استعمال شرعًا مطلقًا مکروہ ناپسند جیسے بھیگے ہوئے پان اگرچہ مسلمان ہی کے پانی سے بھیگے ہوں کماحققنا ذلك فی کتابنا الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر (جیسا کہ ہم نے اسے اپنی کتاب “ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر “ میں تحقیق سے بیان کیا ہے۔ ت) اور اس کے سوا یہاں ایك دقیقہ انیقہ اور ہے جو اس کراہت کو تر وخشك دونوں کو شامل اور اشد وکامل کرتا ہے شرع مطہر میں جس طرح گناہ سے بچنا فرض ہے یونہی مواضع تہمت سے احتراز ضرور ہے اور بلاوجہ شرعی اپنے اوپر دروازہ طعن کھولنا ناجائز اور مسلمانوں کو اپنی غیبت وبدگوئی میں مبتلا کرنے کے اسباب کا ارتکاب ممنوع اور انہیں اپنے سے نفرت دلانا قبیح وشنیع۔ احادیث واقوالِ ائمہ دین سے اس پر صدہا دلائل ہیں وقد ذکرنا بعضھا فی کتاب الحظر من فتاوٰنا وفی غیرہ من تصانیفنا منھا الحدیث الصحیح بشروا ولاتنفروا [4]  (ہم اپنے فتاوٰی کی “ کتاب الحظر “ اور دوسری تصانیف میں اس کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے اس سے ایك صحیح حدیث یہ ہے : خوشخبری دو متنفر نہ کرو۔ ت) وحدیث ایاك ومایعتذرمنہ [5] 

 



           [1] القرآن ۲ / ۲۶۵

             [2]مسند ابی یعلی عن مسند ابی سعید الخدری حدیث ۱۰۴۸ مطبوعہ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت۲ / ۱۷