Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

من اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ[1] اخرجہ الستۃ عن النعمان بن بشیر رضی الله تعالٰی عنھم۔

اور نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ جو شخص شبہات سے بچا اس نے اپنا دین اور عزّت بچالی “ ۔ اس حدیث کو اصحابِ صحاح ستّہ نے حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے روایت کیا ہے (ت)

بچنا چاہے اور اُن امور کا کہ ہم مقدمہ دہم میں ذکر کر آئے لحاظ رکھے بہتر وافضل اور نہایت محمود عمل مگر اس کے ورع کا حکم صرف اسی کے نفس پر ہے نہ کہ اس کے سبب اصل شے کو ممنوع کہنے لگے یا جو مسلمان اُسے استعمال کرتے ہوں اُن پر طعن واعتراض کرے اُنہیں اپنی نظیر میں حقیر سمجھے اس سے تو اس ورع کا ترك ہزار درجہ بہتر تھا کہ شرح پر افترا اور مسلمانوں کی تشنیع وتحقیر سے تو محفوظ رہتا۔

وقال الله تبارك وتعالٰی

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ(۱۱۶) [2]وقال جل مجدہ

وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ [3] ای لایعب بعضکم بعضًا واللمزھو الطعن باللسان [4] و لابی داؤد وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم کل المسلم علی المسلم حرام مالہ وعرصہ ودمہ حسب امریئ من الشران یحتقر اخاہ المسلم[5]۔                       

اور اللہتعالٰی نے فرمایا : “ اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھُوٹ بیان کرتی ہیں یہ حلال ہے اور یہ حرام کہ اللہپر جھُوٹ باندھو ، بیشك جو اللہتعالٰی پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہ ہوگا “ اور اللہبزرگ وبرتر نے فرمایا : اپنے آپ پر طعن نہ کرو۔ یعنی ایك دوسرے پر طعن نہ کرو۔ زبان سے طعنہ زنی کو “ اللمز “ کہتے ہیں۔

ابوداؤد اور ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے نقل کیا آپ نے فرمایا : “ مسلمان کا مال ، عزّت اور جان دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ کسی انسان کے بُرا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ (ت)

عجب اس سے کہ ورع کا قصد کرے اور محرمات قطعیہ میں پڑے یہ صرف تشدد وتعمق کا نتیجہ ہے اور واقعی دین وسنّت صراطِ مستقیم ہیں ان میں جس طرح تفریط سے آدمی مداہن ہوجاتا ہے یونہی افراط سے اس قسم کے آفات میں ابتلا پاتا ہے لم یجعل لہ عوجا (اس میں اصلًا کجی نہ رکھی ت) دونوں مذموم۔ بھلا عوام بیچاروں کی کیا شکایت آج کل بہت جہال منتسب بنام علم وکمال یہی روش چلتے ہیں مکروہات کہ مباحات بلکہ مستحبات جنہیں بزعمِ خود ممنوع سمجھ لیں اُن سے تحذیر وتنفیر کو کیا کچھ نہیں لکھ دیتے حتی کہ نوبت تابہ اطلاق شرك وکفر پہنچانے میں باك نہیں رکھتے۔ پھر یہ نہیں کہ شاید ایك آدھ جگہ قلم سے نکل جائے تو دس جگہ اس کا تدارك عمل میں آئے۔ نہیں نہیں بلکہ اُسے طرح طرح سے جمائیں ، اُلٹی سیدھی دلیلیں لائیں۔ پھر جب مؤاخذہ کیجئے تو ہوا خواہ بفحواے عذر گناہ بدتر ازگناہ تاویل کریں کہ بنظر تخویف وترہیب تشدد مقصود ہے۔ سبحٰن اللہاچھا تشدد ہے کہ اُن سے زیادہ بدتر گناہوں کا خود ارتکاب کر بیٹھے کیا نہیں جانتے کہ مسلمان کو کافر ومشرك بتانا بلالکہ براہِ اصرار اُسے عقیدہ ٹھہرانا کتنا شدید وعظیم اور دین حنیف سہل لطیف سمح نظیف میں یہ سخت گیری کیسی بدعت شنیع ووخیم ولاحول ولاقوۃ الّا بالله العزیز الحکیم نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں : “ آسانی کرو اور دقت میں نہ ڈالو اور خوشخبری دو اور نفرت نہ دلاؤ “

احمد والبخاری ومسلم والنسائی عن انس رضی الله تعالٰی عنہ مرفوعًا یسروا ولا تعسروا وبشروا ولاتنفروا [6]۔ ولمسلم وابی داؤد عن ابی موسٰی الاشعری رضی الله تعالٰی عنہ کان صلی الله تعالٰی علیہ وسلم اذابعث احدًا من اصحابہ فی بعض امرہ قال بشروا ولاتنفروا ویسروا ولا تعسروا[7]۔                                       

امام احمد ، بخاری ، مسلم اور نسائی رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیحضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مرفوعًا روایت کرتے ہیں نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : آسانی پیدا کرو ، تنگی نہ کرو ، خوشخبری دو ، نفرت پیدا نہ کرو۔ امام مسلم اور ابوداؤد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیحضرت ابوموسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں کہ سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم جب کسی صحابی کو کسی کام کے لئے بھیجتے تو فرماتے خوشخبری دو ، متنفر نہ کرو ، آسانی پیدا کرو ، تنگی میں نہ ڈالو (ت)

اور فرماتے ہیں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم تم آسانی کرنے والے بھیجے گئے ہو ، نہ دشواری میں ڈالنے والے۔

احمد والستۃ ماخلا مسلما عن ابی ھریرۃ

امام احمد اور اصحابِ صحاح ستہ ماسوائے امام مسلم کے

رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم انما بعثتم میسرین ولم تبعثوا معسرین [8]۔

(رحمہم اللہ) حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بناکر بھیجا گیا ہے تنگی میں ڈالنے والا بناکر نہیں بھیجا گیا۔ (ت)

اور فرماتے ہیں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم : “ ہلاك ہوئے غلو وتشدد والے “ ۔

احمد ومسلم وابوداؤد عن ابن مسعود رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ھلك المتنطعون[9]۔

امام احمد ، مسلم اور ابوداؤد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیحضرت عبداللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کرتے ہیں نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : گفتگو میں شدت اختیار کرنے والے ہلاك ہُوئے۔ (ت)

اور وارد ہوا فرماتے ہیں  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں نرم شریعت ہر باطل سے کنارہ کرنے والی لے کر بھیجا گیا جو میرے طریقے کا خلاف کرے میرے گروہ سے نہیں۔

الخطیب فی التاریخ عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بعثت بالحنیفیۃ السمحۃ ومن خالف سنّتی فلیس[10] منی الی غیر ذلك من احادیث یطول ذکرھا والتی ذکرنا کافیۃ وافیۃ نسأل الله سبحانہ العفو والعافیۃ اٰمین۔                                         

 



[1]   صحیح البخاری باب فضل من استبرألدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۳

[2]   القرآن ۱۶ / ۱۱۶

[3]   القرآن ۴۹ / ۱۱

[4]   تعلیقات جدیدۃ من التفاسیر المعتبرۃ لحل الجلالین مع الجلالین مطبوعہ اصح المطالع دہلی ۲ / ۴۲۸

[5]   سُنن ابنِ ماجہ باب حرمۃ دم المؤمن ومالہ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۹۰