Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

اپنے سامنے اس قسم کا دروازہ کھول دیں تو حرج میں پڑ جائیں گے اور شرعی طور پر حرج دُور کیا گیا ہے ، پس غور کرو جیسے غور کرنے کا حق ہے۔ اور یہ خیال نہ کروکہ یہ معاملہ توسیع کی مصلحت اور نہی عن المنکر سے روکنے کی خرابی کے درمیان دائر ہے بلکہ وسوسہ اور بہت گہرائی میں جانے کے فساد کو دُور کرنے اور اس فساد کے درمیان دائر ہے جس کا میں نے ذکر کیا اور وہ موجود یقینی ہے جبکہ اس میں احتمال اور وہم ہے پس پہلے کو ترجیح حاصل ہوگی۔ سمجھ لو ، والله تعالٰی اعلم(ت)

ہاں اس میں شك نہیں کہ شبہہ کی جگہ تفتیش وسوال بہتر ہے جب اس پر کوئی فائدہ مترتب ہوتا سمجھے ،

فی البحر الرائق عن السراج الھندی عن الفقیہ ابی اللیث ان عدم وجوب السؤال من طریق الحکم وان سأل کان احوط لدینہ الخ۔

البحرالرائق میں سراج ہندی سے منقول ہے انہوں نے فقیہ ابواللیث سے نقل کیا کہ سوال کا واجب نہ ہونا شرعی حکم کے طریقے پر ہے اور اگر سوال کرے تو یہ دینی اعتبار سے زیادہ محتاط ہونا ہے الخ (ت)

اور یہ بھی اسی وقت تك ہے جب اس احتیاط وورع میں کسی امراہم وآکد کا خلاف نہ لازم آئے کہ شرع مطہر میں مصلحت کی تحصیل سے مفسدہ کا ازالہ مقدم تر ہے مثلًا مسلمان نے دعوت کی یہ اس کے مال وطعام کی تحقیقات کررہے ہیں کہاں سے لایا ، کیونکر پیدا کیا ، حلال ہے یا حرام ، کوئی نجاست تو اس میں نہیں ملی ہے کہ بیشك یہ باتیں وحشت دینے والی ہیں اور مسلمان پر بدگمانی کرکے ایسی تحقیقات میں اُسے ایذا دینا ہے خصوصًا اگر وہ شخص شرعًا معظم ومحترم ہو ، جیسے عالمِ دین یا سچّا مرشد یا ماں باپ یا استاذ یا ذی عزت مسلمان سردار قوم تو اس نے اور بے جا کیا ایك تو بدگمانی دوسرے موحش باتیں تیسرے بزرگوں کا ترك ادب ، اور یہ گمان نہ کرے کہ خفیہ تحقیقات کر لُوں گا حاشا وکلّا اگر اسے خبر پہنچی اور نہ پہنچنا تعجب ہے کہ آج کل بہت لوگ پرچہ نویس ہیں تو اس میں تنہا برر وپوچھنے سے زیادہ رنج کی صورت ہے کماھو مجرب معلوم (جیسا کہ تجربہ سے معلوم ہے۔ ت) نہ یہ خیال کرے کہ احباب کے ساتھ ایسا برتاؤ برتوں گا “ ہیہات “ احبا کو رنج دینا کب روا ہے۔ اور یہ گمان کہ شاید ایذا نہ پائے ہم کہتے ہیں شاید ایذا پائے اگر ایسا ہی شاید پر عمل ہے تو اُس کے مال وطعام کی حلت وطہارت میں شاید پر کیوں نہیں عمل کرتا۔ معہذا اگر ایذا نہ بھی ہُوئی اور اُس نے براہِ بے تکلفی بتادیا تو ایك مسلمان کی پردہ دری ہوئی کہ شرعًا ناجائز۔ غرض ایسے مقامات میں ورع واحتیاط کی دو۲ ہی صورتیں ہیں یا تو اس طور پر بچ جائے کہ اُسے اجتناب ودامن کشی پر اطلاع نہ ہو یا سوال وتحقیق کرے تو اُن امور میں جن کی تفتیش موجب ایذا نہیں ہوتی مثلًا کسی کا جُوتا پہنے ہے وضو کرکے اُس میں پاؤں رکھنا چاہتا ہے دریافت کرلے کہ پاؤں تر ہیں یوں ہی پہن لوں وعلٰی ہذا القیاس یا کوئی فاسق بیباك مجاہر معلن اس درجہ وقاحت وبیحیائی کو پہنچا ہواہوکہ اُسے نہ بتادینے میں باك ہو نہ دریافت سے صدمہ گزرے نہ اُس سے کوئی فتنہ متوقع ہو نہ اظہار ظاہر میں پردہ دردی ہو تو عندالتحقیق اُس سے تفتیش میں بھی جرح نہیں ورنہ ہرگز بنام ورع واحتیاط مسلمانوں کی نفرت ووحشت یا اُن کی رُسوائی وفضیحت یا تجسّس عیوب ومعصیت کا باعث نہ ہو کہ یہ سب امور ناجائز ہیں اور شکوك وشبہات میں ورع نہ برتنا ناجائز نہیں عجب کہ امر جائز سے بچنے کے لئے چند نارواباتوں کا ارتکاب کرے یہ بھی شیطان کا ایك دھوکا ہے کہ اسے محتاط بننے کے پردے میں محض غیر محتاط کردیا اے عزیز! مدارات خلق والفت وموانست اہم امور سے ہے۔

عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم بعثت بمدارۃ الناس [1] الطبرانی فی الکبیر عن جابر وقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم رأس العقل بعد الایمان بالله التحبب الی الناس [2]  الطبرانی فی الاوسط عن علی والبزار فی المسند عن ابی ھریرۃ والشیرازی فی الالقاب عن انس والبھیقی فی الشعب عنھم جمیعا رضی الله تعالٰی عنھم۔

نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے مروی ہے ، فرمایا : “ مجھے لوگوں سے خاطر مدارات کے لئے بھیجا گیا ہے “ ۔ اسے طبرانی نے کبیر میں حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بیان کیا۔ اور رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ اللہتعالٰی پر ایمان لانے کے بعد کمالِ عقل انسانوں سے محبت کرنا ہے “ ۔ اس کو طبرانی نے اوسط میں حضرت علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا۔ اور بزار نے مسند میں حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور شیرازی نے القاب میں حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے اور بیہقی نے شعب الایمان میں ان تمام سے روایت کیا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم(ت)

مگر جب تك نہ دین میں مداہنت نہ اُس کے لئے کسی گناہِ شرعی میں ابتلا ہو۔

قال الله تعالٰی    لَا یَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىٕمٍؕ- [3]

وقال تعالٰی لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ [4]

وقال تعالٰی وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ(۶۲) [5]

۔ وقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لاحد فی معصیۃ الله انما الطاعۃ فی المعروف [6] الشیخان و

اللہتعالٰی ارشاد فرماتا ہے : “ وہ اللہتعالٰی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے “ ۔

اور ارشادِ خداوندی ہے : “ ان دونوں (زانی اور زانیہ) کے بارے میں تمہیں دینِ خداوندی میں نرمی نہیں کرنی چاہئے “ ۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے : “ اور اللہتعالٰی اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق رکھتے ہیں کہ

وابوداود والنسائی عن علی کرم الله تعالٰی وجھہ۔ وقال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق [7] احمد الامام ومحمد الحاکم عن عمران والحکم بن عمرو الغفاری رضی الله تعالٰی عنھم۔

وہ (لوگ) انہیں راضی کریں اگر وہ ایمان دار ہیں “ ۔            

نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ اللہتعالٰی کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں فرمانبرداری صرف نیك امور میں ہے “ اس حدیث کو امام بخاری ، مسلم ، ابوداؤد اور نسائی نے حضرت علی کرم اللہوجہہ سے روایت کیا ہے۔ اور نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں “ ۔ اسے امام احمد اور محمد حاکم نے حضرت عمران اور حکم بن عمرو غفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے روایت کیا۔ (ت)

پس ان امور میں ضابطہ کلیہ واجبۃ الحفظ یہ ہے کہ فعل فرائض وترك محرمات کو ارضائے خلق پر مقدم رکھے اور ان امور میں کسی کی مطلقًا پروانہ کرے اور اتیان مستحب وترك غیر اولٰی پر مدارات خلق ومراعات قلوب کو اہم جانے اور فتنہ ونفرت وایذا ووحشت کا باعث ہونے سے بہت بچے۔ اسی طرح جو عادات ورسوم خلق میں جاری ہوں اور شرع مطہر سے اُن کی حُرمت وشناعت نہ ثابت ہو اُن میں اپنے ترفع وتنزہ کے لئے خلاف وجُدائی نہ کرے کہ یہ سب امور ایتلاف وموانست کے معارض اور مراد ومحبوب شارع کے مناقض ہیں ہاں وہاں ہوشیار وگوش دار کہ یہ وہ نکتہ جمیلہ وحکمتِ جلیلہ وکُوچہ سلامت وجادہ کرامت ہے جس سے بہت زاہدان خشك واہلِ تکشف غافل وجاہل ہوتے ہیں وہ اپنے زعم میں محتاط ودین پرور بنتے ہیں اور فی الواقع مغز حکمت ومقصود شریعت سے دور پڑتے ہیں خبردار ومحکم گیر یہ چند سطروں میں علم غزیر وباللہالتوفیق والیہ المصیر (یہ سب اللہتعالٰی کی توفیق سے ہے اور اسی کی طرف رجوع کرنا ہے۔ ت)

 



[1]   شعب الایمان فصل فی الحلم والتورۃ الخ حدیث ۸۴۷۵ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت۶ / ۳۵۱

[2]   شعب الایمان فصل فی الحلم والتورۃ الخ حدیث ۸۴۴۷ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۳۴۴

[3]   القرآن ۵ / ۵۴

[4]   القرآن ۲۴ / ۲

[5]   القرآن ۹ / ۶۲

[6]   صحیح البخاری کتاب اخبار الآحاد مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۰۷۸

[7]          مسند امام احمد بن حنبل عن علی مطبوعہ دارالکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۱۲۹



Total Pages: 269

Go To