Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

اقول :  وقد یلمح الیہ علی مافیہ قولہ فی الحدیث فانا نرد علی السباع وترد علینا[1] وقولہ کمازاد رزین عن بعض الرواۃ وانی سمعت رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یقول لھا مااخذت فی بطونھا ومابقی فھولنا طھور[2]۔

ومااخرج الامام الشافعی عن عمربن دینار ان عمربن الخطاب رضی الله تعالٰی عنہ ورد حوض مجنّۃ فقیل انما ولغ الکلب اٰنفا فقال انما  ولغ بلسانہ فشرب وتوضأ [3]۔

ویکدر ھذا والذی قبلہ جمیعا انکم ملتم بالکلام الی خلاف ما یتبادر منہ فان ظاھر النھی کراھۃ الاخبار وماذاك الاخشیۃ ان لواخبر لزمہ التحرج فاراد التوسیع باستصحاب الطھارۃ مالم یعلم ولوکان الامر کما ذکرتم من کثرۃ الماء اوطھارۃ السؤر لما ضر اخبارہ شیأ فعلی ماینھاہ عنہ بل کان حق الکلام                               

اقول : حدیث شریف میں حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے الفاظ کہ “ ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے پاس آتے ہیں “ میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے ، نیز رزین نے بعض راویوں سے جو حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکا یہ قول زائد نقل کیا ہے کہ میں نے رسولِ اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے سنا ، آپ نے فرمایا : “ جو کچھ ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے اور جو باقی رہ گیا ہے وہ ہمارے لئے پاك ہے۔

اسی طرح جو امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے عمربن دینار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے نقل کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمجنّہ کے حوض پر تشریف لے گئے تو کہا گیا ابھی یہاں کتّے نے منہ مارا ہے۔ تو آپ نے فرمایا : اس نے اپنی زبان سے چاٹا ہے۔ پھر آپ نے اس سے پِیا اور وضو فرمایا۔ اس میں بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ (ت)یہ اور اس سے پہلے کی تمام بحث سے یہ بات مکدر ہوجاتی ہے کیونکہ تمہارے کلام کا میلان اس بات کے خلاف ہے جو واضح طور پر ذہن میں آتی ہے کیونکہ نہی سے ظاہر ہوتا ہے کہ خبر دینا مکروہ ہے اور یہ اس ڈر کی بنیاد پر ہے کہ اگر خبر دے گا تو حرج میں پڑنا لازم آئے گا لہذا ان کی مراد یہ تھی کہ جب تك علم نہ ہو حصولِ طہارت میں وسعت ہونی چاہئے۔ اور اگر وہ بات ہوتی جس کا تم نے ذکر کیا پانی زیادہ تھا یا وہ جھوٹے کو پاك سمجھتے تھے تو اس صورت میں ان کا خبر دینا نقصان دہ نہ ہوتا پس انہوں نے کس

ح ان یقول لعمروماذا ترید بالاستنخبار الماء کثیر ولوولغت اوسؤرھا طاھر فما فعلت الی ھذا اشار محمد رحمہ الله تعالٰی حیث قال بعد روایۃ الحدیث فی مؤطاہ اذاکان الحوض عظیما ان حرکت منہ ناحیۃ لم تتحرك بہ الناحیۃ الاخری لم یفسد ذلك الماء ماولغ فیہ من سبع ولاماوقع فیہ من قذر الا ان یغلب علی ریح اوطعم ای اولون فاذاکان حوضا صغیرا ان حرکت منہ ناحیۃ تحرکت الناحیۃ الاخری فولغ فیہ السباع اووقع فیہ القذر لایتوضأ منہ الایری ان عمربن الخطاب رضی الله تعالٰی عنہ کرہ ان یخبرہ ونھاہ عن ذلك وھذا کلہ قول ابی حنیفۃ رحمہ الله تعالٰی[4]اھ۔

اقول :  فعلی ھذا معنی قولہ فانانرد الخ وکذا استشھادہ بارشاد النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان ثبت انا نعلم ان المیاہ قلما تسلم عن

ورد السباع لکن لم نؤمر بالبحث ولابالتکلف وامرنا بالاتکال علی اصل الطھارۃ مالم نعلم بعروض النجاسۃ فلھا       

بنا پر اس سے منع فرمایا بلکہ اس وقت حق کلام یہ تھا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، حضرت عمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے فرماتے خبر حاصل کرنے سے تمہارا کیا مقصد ہے پانی زیادہ ہے اگرچہ اس میں (درندہ) منہ ڈالے یا ان کا جھوٹا ہو پاك ہے پس تم کیا کروگے امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بھی اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جب انہوں نے اپنے مؤطا میں یہ حدیث روایت کرنے کے بعد فرمایا جب حوض اتنا بڑا ہوکر اس کی ایك جانب کو حرکت دی جائے تو دوسری جانب حرکت نہ کرے تو اس میں درندے کے پانی پینے یا نجاست گرنے سے پانی ناپاك نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کی بُو اور ذائقے پر غالب آجائے اور اگر حوض اتنا چھوٹا ہوکہ اس کی ایك طرف کو حرکت دینے سے دوسری جانب متحرك ہو اور اس میں سے درندے نے پانی پیا یا نجاست پڑ گئی تو اس سے وضو نہ کیا جائے۔ کیا نہیں دیکھا گیا کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ناپسند کیا کہ وہ ان کو خبر دے اور اس سے منع فرمادیا یہ تمام حضرت امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکا مسلك ہے۔ (ت)

اقول : اس بنیاد پر ان کے قول “ ہم درندوں کے پاس جاتے اور وہ ہمارے ہاں آتے ہیں “ اور نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ارشاد گرامی سے انکے استدلال ، بشرطیکہ وہ ثابت ہو ، کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم جانتے ہیں کہ پانی ، درندوں کی آمدورفت سے بہت کم محفوظ ہوتے ہیں لیکن ہمیں بحث اور تکلّف کا حکم نہیں دیا گیا ہمیں اصل طہارت پر بھروسا کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تك نجاست کے واقع ہونے کا

ماحملت فی بطونھا لان ماء الله مباح علی کل ذات کبد حرّاء ولنا ما غیر طھور لعدم التیقن بعروض المحذور فاٰل الکلام الی ماوصفنا لك من ان الیقین الاجمالی بعروض النجاسۃ لنوع لایقضی بتنجس کل فرد منہ وبالجملۃ فالحدیث ذووجوہ والاوجہ ماذکرنا فصح الاستدلال علی عدم وجوب السؤال لاجل ظن اواحتمال وکان اول قدوۃ لنا فیہ امامنا محمد رضی الله تعالٰی عنہ۔ لکن یرتاب فیہ بان النھی عن الاخبار علی ھذا یکون نھیًا عن مناصحۃ المسلمین وصونھم عن تعاطی المنکر فی الدین فان من علم ان فی ثوب المصلی نجاسۃ مثلا وھولایدری وجب علیہ اخبارہ بذٰلك ان ظن قبولہ لان فعلہ علی خلاف امر الله سبحٰنہ وتعالٰی فی نفسہ وان ارتفع الاثم لعدم العلم۔

والجواب عنہ کماافاد العارف النابلسی ان عمر بن الخطاب رضی الله تعالٰی عنہ لایعلم ان صاحب الحوض یعلم ان السباع تردہ حتی یکون قولہ ذلك کفا و منعا من الامر بالمعروف والنھی عن المنکر ومن النصیحۃ فی الدین غایتہ انہ اراد                                                                                                                                 

علم نہ ہو پس جو ان جانوروں نے اپنے پیٹوں میں لے لیا وہ ان کے لئے ہے۔ کیونکہ اللہتعالٰی کا پانی ہر گرم جگر والی چیز کیلئے مباح ہے اور جو کچھ باقی ہے وہ ہمارے لئے پاك ہے کیونکہ ناپاك چیز کے گرنے کا ہمیں علم نہیں۔ پس ہم نے جو کچھ کہا اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کسی نوع کے ناپاك ہونے کا اجمالی یقین اس کے ہر فرد کی نجاست کا تقاضہ نہیں کرتا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حدیث (کا مفہوم) کئی وجوہ پر مشتمل ہے لیکن زیادہ مناسب وہ ہے جو ہم نے ذکر کیا ، پس ظن یا احتمال کی وجہ سے سوال واجب نہ ہونے پر استدلال صحیح ہے اور اس میں ہمارے پہلے مقتدا امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہیں۔ (ت)لیکن یہاں شك پیدا ہوتا ہے کہ اس بنیاد پر خبر دینے سے روکنا دین کے سلسلے میں مسلمانوں کی خیر خواہی اور برائی میں مشغول ہونے سے ان کی حفاظت سے روکنا ہو کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ نمازی کے کپڑے پر نجاست لگی ہوئی ہے اور اسے (نمازی کو) معلوم نہیں تو اس پر واجب ہے کہ اسے خبر کردے اگر اس کی قبولیت کا گمان ہو کیونکہ حقیقت میں ا سکا یہ فعل اللہتعالٰی کے حکم کے خلاف ہے اگرچہ عدمِ علم کی وجہ سے وہ گناہ گار نہ ہوا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ عارف نابلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِسے مستفاد ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو معلوم نہ تھا کہ حوض والے کو اس پر درندوں کے آنے جانے کا علم ہے جس کی وجہ سے آپ کا وہ قول “ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر “ اور دین میں خیر خواہی سے باز رکھتا اور رکاوٹ بنتا ہو نتیجہ یہ ہوا کہ آپ نے پانی کی طہارت کے سلسلے میں

رضی الله تعالٰی عنہ نفی الوسواس فی طھارۃ الماء والنھی عن کثرۃ السؤال فی الامور المبنیۃ علی الیقین فی ان الاصل فی الماء الطھارۃ [5] اھ۔

قلت وحاصلہ ان المحذور ای کون النھی نھیًا عن النھی عن المنکر مبنی علی العلم بکونہ منکرا وھو مبتن علی العلم بالتجنس واذلیس ھذا فلیس ذاك فلیس ذٰلك ولم یکن ان صاحب الحوض ھم بالاخبار فنھاہ عمر حتی یکون نھیا بعد الظن بانہ یعلم شیأ وانما سأل عمرو ولایدری ماعند المسؤل عنہ فاراد سدباب الظنون والتنبیہ علی انالم نؤمر بذلك ولو فتحنا مثل ھذا الباب علی وجوھنا لوقعنا فی الحرج والحرج مدفوع بالنص فتأمل حق التأمل ولاتظنن ان الامر دار بین مصلحۃ التوسیع ومفسدۃ النھی عن النھی عن المنکر بل بین دفع مفسدۃ الوسوسۃ والتعمق والمفسدۃ التی ذکرتُ وتلك حاضرۃ متیقنۃ وھذہ محتملۃ متوھمۃ فترجح الاول فافھم والله تعالٰی اعلم۔                                             

وسوسوں کی نفی فرمائی اور جو امور یقین پر مبنی ہیں ان کے بارے میں کثرتِ سوال سے منع فرمایا کیونکہ پانی میں اصل طہارت ہے اھ۔ (ت)

قلت اس کا ماحصل یہ ہے کہ ممنوع یعنی نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت اس پر مبنی ہے کہ اس کے منکر ہونے کا علم ہو اور وہ اس پر مبنی ہے کہ اس کے نجس ہونے کا علم ہو۔ پس جب یہ بات (اس کا ناپاك ہونا) نہیں تو وہ (یعنی اس کے منکر ہونے کا علم نہیں) لہذا نہی عن المنکر سے روکنے کی ممانعت بھی نہ پائی گئی اور یہ بات بھی نہیں کہ حوض کا مالك خبر دینے کا ارادہ کرچکا تھا تو حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے روك دیا تاکہ اس ظن کے بعد کہ وہ کچھ جانتا تھا یہ نفی کہلائے حضرت عمرو رَضِیَ اللہُ



[1]   المؤطا امام مالك الطہور للوضوء مطبوعہ میر محمد کتب خانہ کراچی ص۱۷

[2]   مشکوٰۃ المصابیح باب احکام المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ص۵۱

[3]   مصنف عبدالرزاق حدیث ۲۴۹ باب الماء تردہ الکلاب والسباع مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۱ / ۷۶

[4]              المؤطالامام محمد باب الوضوء ممایشرب منہ السباع وتلغ فیہ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع آرام باغ کراچی ص۶۶

[5]   الحدیقۃ الندیۃ الصف الثانی من الصنفین فیما ورد  عن ائمتنا الحنفیۃ مطبوعہ نوریۃ رضویہ آباد  ۲ / ۶۵۶



Total Pages: 269

Go To