Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

یونہی خود منقح مذہب سیدنا امام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں بچّہ جب پانی میں اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈال دے تو خاص اُس بچّہ کو رکھ پاؤں دیکھیں اگر ڈالتے وقت نجاست ثابت ہو تو ناپاك اور پاکی ظاہر ہو تو طاہر اور کچھ نہ کھلے تو صرف مستحب ہے کہ اور پانی استعمال کریں اور اگر اسی سے وضو کرلے نماز پڑھ لے تاہم بے شبہہ جائز۔

فی سیرۃ الاحمدیۃ للعلامۃ محمد الرومی احمدی عن التاترخانیۃ عن اصل الامام محمد رحمہ الله تعالٰی الصبی اذادخل یدہ فی کوز ماء اورجلہ فان علم ان یدہ طاھرۃ

محمد رومی آفندی کی کتاب سیرت احمدیہ میں تتارخانیہ کے حوالے سے امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی اصل (مبسوط) سے منقول ہے کہ جب بچّہ اپنا ہاتھ یا پاؤں پانی کے کُوزے (لوٹے وغیرہ) میں ڈالے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوا کہ اس کا

بیقین (بان غسلھا لہ اوغسلت عندہ اھ نابلسی) یجوز التوضی بھٰذا الماء وان علم ان یدہ نجسۃ بیقین (بان رأی علیھا عین النجاسۃ اواثرھا اھ حدیقۃ) لایجوز التوضی بہ وان کان لایعلم انہ طاھرا ونجس فالمستحب ان یتوضأ بغیرہ لان الصبی لایتوقی عن النجاسات عادۃ ومع ھذا لوتوضأبہ اجزأہ [1] اھ۔                                      

ہاتھ پاك تھا (یعنی اس نے خود اسے دھویا ےیا اس کے سامنے دھویا گیا اھ نابلسی) تو اس پانی کے ساتھ وضو جائز ہے اگر یقین کے ساتھ معلوم ہوکہ وہ ناپاك تھا (مثلًا اس پر عینِ نجاست یا اس کا نشان دیکھا اھ حدیقہ) تو اس سے وضو جائز نہیں اور اگر معلوم نہ ہوکہ وہ پاك ہے یا ناپاک ، تو مستحب ہے کہ اس کے غیر سے وضو کرے کیونکہ بچّہ عام طور پر نجاستوں سے پرہیز نہیں کرتا اس کے باوجود اگر اس کے ساتھ وضو کرے تو کافی ہوگا اھ۔ (ت)

خاص ضابطہ کی تصریح لیجئے سیدنا امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :

بہ نأخذ مالم نعرف شیأ حراما بعینہ وھو قول ابی حنیفۃ واصحابہ[2] اھ نقلہ الامام الاجل ظہیر الدین فی فتاواہ وغیرہ فی غیرھا۔

ہم اسی کو اختیار کریں گے جب تك ہمیں بعینہ کسی چیز کے حرام ہونے کا علم نہ ہوجائے امام ابوحنیفہ اور آپ کے اصحاب (شاگردوں) رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکا یہی قول ہے اھ اسے امام اجل ظہیر الدین نے اپنے فتاوٰی میں اور دوسروں نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے۔ (ت)

 حدیقہ میں ہے :

الحرمۃ بالیقین والعلم وھو لم یتیقن ولم یعلم ان عین مااخذہ حرام ولایکلف الله نفسا الاوسعھا [3] اھ

اقول :  وھذا وانکان فی مسئلۃ الجوائز فلیس الحرام للغصب بدون الحرام                                   حرمت ، یقین اور علم کے ساتھ ہوتی ہے اور وہ نہیں جانتا اور نہ اسے یقین ہے کہ جو کچھ اس نے لیا ہے وہ بعینہٖ حرام ہے اور اللہتعالٰی کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا اھ (ت)

اقول : یہ اگرچہ تحائف کے مسئلہ میں ہے پس اجتناب کے حکم میں غصب کی صورت میں حرام ہونے والا نجاست کی بنیاد پر حرام ہونے والے سے

للنجاسۃ فی حکم الاجتناب کمالایخفی۔

کم نہیں ہے جیسا کہ مخفی نہیں (ت)

بالجملہ ایسی صورت میں حکمِ کُلی یہی ہے کہ نوع کی نسبت غیر کلی یقین منع کلی کا موجب نہیں ب لکہ خصوص افراد کا لحاظ کریں گے والله تعالٰی اعلم۔

مقدمہ تاسعہ:

جب بازار میں حلال وحرام مطلقًا یا کسی جنس خاص میں مختلط ہوں اور کوئی ممیز وعلامت فارقہ نہ ملے تو شریعت مطہرہ خریداری سے اجتناب کا حکم نہیں دیتی کہ آخر ان میں حلال بھی ہے تو ہر شَے میں احتمالِ حلت قائم اور رخصت واباحت کو اسی قدر کافی ، یہ دعوٰی بھی ہماری تقریرات سابقہ سے واضح اور خود ملاذ مذہب ابوعبداللہشیبانی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے مبسوط میں کہ کتب ظاہر الروایۃ سے ہے اُس پر نص فرمایا۔

فی الاشباہ عن الاصل اذاختلط الحلال بالحرام فی البلد تقوم دلالۃ علی انہ من الحرام[4] اھ۔

وفی الحمویۃ کون الغالب فی السوق الحرام لایستلزم کون المشتری حراما لجواز کونہ من الحلال المغلوب والاصل الحل [5] اھ۔

اشباہ میں اصل (مبسوط) سے نقل کیا گیا ہے کہ جب شہر میں حلال وحرام مخلوط ہوجائے تو اس کا خریدنا اور لینا جائز ہے مگر یہ کہ اس کے حرام ہونے پر کوئی دلالت قائم ہوجائے اھ۔ اور حمویہ میں ہے بازار میں حرام کی بکثرت پائے جانے سے لازم نہیں آتا کہ جو کچھ خریدا ہے وہ بھی حرام ہو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز حلال مغلوب سے ہو اور اصل بات حلّت ہے اھ (ت)

تنبیہ اقول : وبالله التوفیق (اور اللہتعالٰی کی توفیق سے میں کہتا ہوں۔ ت) یہ احتمال حل پر عمل کا قاعدہ نظر بفروع فقہیہ اُس صورت سے مخصوص ہے کہ وہ سب اشیا جن میں وجود حرام کا تیقن اور اُن میں سے ہر فرد کے تناول میں تناول حرام کا احتمال ہے اس تناول کرنے والے کی ملك میں نہ ہوں ورنہ اُن میں سے کسی کا استعمال جائز نہ ہوگا مگر تین صورتوں سے ایك یہ کہ وجہ حرمت جب صالح ازالہ ہو تو اُن میں کسی سے اُسے زائل کردیا جائے کہ اب بقائے مانع میں شك ہوگیا اور یقین مجہول المحل جس کا محل خاص بالتعین معلوم نہ ہو ایسے شك سے زائل ہوجاتا ہے مثلًا چادر کا ایك گوشہ یقینا ناپاك تھا اور تعیےن یاد نہ رہے کوئی سا کونا دھولے پاکی کا حکم دیں گے عــہ۔

عــہ : تنبیہ بعد کو اضافہ فرمائی تھی مگر نامکمل رہی ۱۲ ح (م)

مقدمہ عاشرہ:

حضرت حق جل وعلا نے ہمیں یہ تکلیف نہ دی کہ ایسی ہی چیز کو استعمال کریں جو واقع ونفس الامر میں طاہر وحلال ہو کہ اس کا علم ہمارے حیطہ قدرت سے ورا۔

قال الله تعالٰی لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- [6]۔

ارشادِ باری تعالٰی ہے “ اللہتعالٰی کسی نفس کو اسکی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا “ ۔ (ت)

نہ یہ تکلیف فرمائی کہ صرف وہی شے برتیں جسے ہم اپنے علم ویقین کی رُو سے طیب وطاہر جانتے ہیں کہ اس میں بھی حرج عظیم اور حرج مدفوع بالنص۔

قال تعالٰی وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍؕ- [7]

 



[1]   الحدیقۃ الندیۃ اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۲

[2]   فتاوٰی ہندیۃ باب فی الہدایا والضیافات مطبوعہ نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲

[3]   الحدیقۃ الندیۃ الفصل الثانی من الفصول الثلاثہ فی بیان حکم التورع الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد۲ / ۷۲۱

[4]   الاشباہ والنظائر القاعدۃ الثانیۃ من الفن الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ، ۱ / ۱۴۸

[5]   حمویۃ المعروف غمزالعیون مع الاشباہ مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کراچی ص ۱۴۸

[6]   القرآن ۲ / ۲۸۶