Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

توشہ دان سے وضو کیا۔ امام شافعی اور عبدالرزاق وغیرہ نے سفیان بن عُینہ سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایك نصرانی عورت کے گھڑے کے پانی سے وضو فرمایا۔ (ت)میں کہتا ہوں ، امام بخاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے تعلیقًا روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے گرم پانی سے اور ایك عیسائی عورت کے گھر سے

عــــہ :  اقول :  واذ قد علمت ان البخاری انما اوردہ معضلا فاطلاق العزو الیہ کما وقع عن الشاہ ولی الله الدھلوی فی ازالۃ الخفاء فیہ خفاء کمالایخفی ۱۲ منہ (م)

اقول : جب یہ معلوم ہوگیا کہ امام بخاری نے اسے معضلًا ذکر کیا تو مطلقًا تعلیق کی طرف منسوب کرنے (جیسا کہ شاہ ولی اللہدہلوی سے ازالۃ الخفاء میں واقع ہوا ہے) میں خفاء (غلطی) ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)

سیرۃ الاولین استغراق جمیع لاھم فی تطھیر القلوب والتساھل ای عدم عـــہ١ المبالاۃ فی تطہیر الظاھر وعدم الاکتراث عـــہ ٢بتنظیف البدن والثیاب والاماکن من النجاسات حتی ان عمر مع علو منصبہ توضأ بماء فی جرۃ نصرانیۃ مع علمہ بان النصاری لایتحامون النجاسۃ وعادتھم انھم یضعون الخمر فی الجرار[1] اھ ملخصا۔   

وضو فرمایا اھ طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح میں ہے “ امام محمد غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے احیاء العلوم میں فرمایا : پہلے لوگوں کی سیرت یہ ہے کہ ان کے تمام فکر وغم کا محور دلوں کی تطہیر ہوتی تھی جبکہ ظاہر کو پاك کرنے میں سُستی کرتے اور بدن ، کپڑوں اور جگہوں کی پاکیزگی حاصل کرنے کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے یہاں تك کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے ثابت ہے کہ آپ نے باوجود بلند منصب پر فائزہونے کے ایك عیسائی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ جانتے تھے کہ عیسائی نجاست سے پرہیز نہیں کرتے اور ان کی عادت ہے کہ وہ گھڑوں میں شراب رکھتے ہیں اھ تلخیص (ت)۔

(۷) تامل کرو کس قدر معدن بے احتیاطی بلکہ مخزن ہرگونہ گندگی ہیں کفار خصوصًا ان کے شراب نوش کے کپڑے علی الخصوص پاجامے کہ وہ ہرگز استنجاء کا لحاظ رکھیں نہ شراب پیشاب وغیرہما نجاسات سے احتراز کریں پھر علماء حکم دیتے ہیں کہ وہ پاك ہیں اور مسلمان بے دھوئے پہن کر نماز پڑھ لے تو صحیح وجائز جب تك تلوث واضح نہ ہو۔

فی الدرالمختار ثیاب الفسقۃ واھل الذمۃ طاھرۃ  [2]  وفی الحدیقۃ سراویل الکفرۃ من الیھود والنصاری و المجوس یغلب علی الظن نجاستہ لانہم لایستنجون من غیر ان یأخذ القلب بذلك فتصح الصلاۃ فیہ لان الاصل الیقین بالطھارۃ  [3] اھ ملخصا۔                

درمختار میں ہے فاسق اور ذمّی لوگوں کے کپڑے پاك ہیں اھ اور حدیقہ میں ہے یہودیوں ، عیسائیوں ، مجوسیوں وغیرہ کفار کی شلوار غالب گمان کے مطابق ناپاك ہے کیونکہ وہ استنجاء نہیں کرتے لیکن جب یہ بات دل میں نہ بیٹھے تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے کیونکہ اصل چیز طہارت کا یقین ہے اھ تلخیص (ت)

 

عـــہ۱   :  اقول الاولی لفظًا ومعنےیً تبدیل العدم بالقلۃ ۱۲ منہ (م)

عـــہ۲   :  ای قلتہ ای ترك التعمق فیہ ۱۲ منہ (م)

میں کہتا ہوں لفظی اور معنوی اعتبار سے بہتری “ عدم “ کو “ قلت “ سے تبدیل کردینے میں ہے ۱۲ منہ (ت)

یعنی کم پرواہ کرتے یعنی پاکیزگی میں کوشش کو ترك کرتے تھے۔ (ت)

بلکہ عہد صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے آج تك مسلمین میں متوارث کہ لباس غنیمت میں نماز پڑھتے ہیں اور ظنون وساوس کو دخل نہیں دیتے۔

فی الحلیۃ التوارث جارفیما بین المسلمین فی الصلوۃ بالثیاب المغنومۃ من الکفرۃ قبل الغسل[4] اھ

حلیہ میں ہے کہ کفار سے مال غنیمت میں حاصل ہونے والے کپڑوں کو دھونے سے پہلے ان میں نماز پڑھنا مسلمانوں میں نسل درنسل سے چلاآرہا ہے اھ (ت)

یہ سات۷ نظیریں ہیں اور اگر استقصا ہو تو کتاب ضخیم لکھنا ہو تو وجہ کیا ہے وہی جو ہم اوپر ذکر کرآئے کہ طہارت وعلت اصل ومتتیقن اور ازلہ یقین کو یقین ہی متعین۔ ولہٰذا عادت علمائے دین یوں ہے کہ حکم بطہارت کے لئے ادنٰی احتمال کافی سمجھتے ہیں اور اس کا عکس ہرگز معہود نہیں کہ محض خیالات پر حکمِ نجاست لگادیں۔ دیکھو گائے بکری اور ان کی امثال اگر کنویں میں گر کر زندہ نکل آئیں قطعًا حکمِ طہارت ہے حالانکہ کون کہہ سکتا ہے کہ اُن کی رانیں پیشاب کی چھینٹوں سے پاك ہوتی ہیں مگر علما فرماتے ہیں محتمل کہ اس سے پہلے کسی آبِ کثیر میں اُتری ہوں اور اُن کا جسم دُھل کر صاف ہوگیا ہو۔

فی حاشیۃ ابن عابدین افندی رحمہ الله تعالٰی قال فی البحر وقیدنا بالعلم لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طہارتھا بان سقطت عقب دخولھا ماء کثیرا مع ان الاصل الطھارۃ اھ ومثلہ فی الفتح [5] اھ۔

یقول العبد الضعیف غفرالله تعالٰی لہ علقت ھھنا علی ھامش ردالمحتار مانصہ۔   

حاشیہ ابن عابدین آفندی میں ہے : “ البحرالرائق میں فرمایا ہم نے اسے علم (یقین) کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ انہوں نے گائے اور اس کی مثل جو (کنویں سے) زندہ نکلیں ، کے بارے میں کہا ہے کہ کسی چیز کا نکالنا واجب نہیں اگرچہ ظاہر یہ ہے کہ اُن کی رانوں پر پیشاب لگا ہوتا ہے لیکن اس بات کا احتمال ہے کہ اس کے زیادہ پانی میں داخل ہونے کے بعد نجاست دُھل گئی ہو اور وہ پاك ہوگئی ہو علاوہ ازیں طہارت اصل ہے اھ اور اسی طرح فتح القدیر میں ہے اھ۔ بندہ ضعیف ، اللہتعالٰی اس کی بخشش فرمائے ، کہتا ہے کہ میں نے اس مقام پر ردالمحتار کے حاشیے پر کچھ تحریر کیا ہے جس کی عبارت یہ ہے (ت)

اقول :  لولاھیبۃ العلامۃ المحقق علی الاطلاق مقارب الاجتہاد صاحب الفتح رضی الله تعالٰی عنہ لقلت ان ھذا الاحتمال انما یتمشی فی السوائم اوفی بعضھا اما العلوفۃ فلاتخفی احوالھا علی مقتنیھا غالبًا والحکم عام فلا بد من توجیہ اٰخر ویظھر لی عـــہ والله تعالٰی اعلم ان ھذا الاشتمال انما ھو ظاھر یغلب علی الظن من غیران یبلغ درجۃ الیقین لان البول لاینزل علی الافخاذ والقرب غیر قاض بالتلوث دائما وھی ربما تتفاج وتنخفض حین الاھراق فلم یحصل العلم بالنجاسۃ والٰی ھذا یشیر اٰخر کلام المحقق حیث یقول وقیل ینزح من الشاۃ کلہ والقواعد تنبو عنہ ما لم یعلم یقینا تنجسھا [6] اھ۔ نعم الظھور المفضی الٰی غلبۃ الظن یقضی باستحباب التنزہ وھذا لاشك فیہ قد استحبوا فی ھذہ المسئلۃ نزح عشرین دلوا[7] کما نص علیہ فی الخانیۃ فافھم ، والله تعالٰی اعلم اھ ماعلقتہ علی الھامش                                                                                                                           

اقول : اگر محقق علی الاطلاق اور منصب اجتہاد کا قُرب رکھنے والے صاحبِ فتح القدیر کی ہیبت کا خیال نہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ احتمال سال بھر چرنے والے تمام یا بعض جانوروں کے بارے میں ہے جہاں تك گر میں چارہ کھانے والے جانوروں کا تعلق ہے تو عام طور پر مالك سے ان کا حال پوشیدہ نہیں ہوتا اور حکم عام ہے لہذا کسی دوسری توجیہ کی ضرورت ہے مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی.اور اللہبہتر جانتا ہے کہ پیشاب کا رانوں سے لگاہونا ظاہرًا غلبہ ظن ہے درجہ یقین کو



[1]   الحدیقۃ الندیۃ الدقۃ امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ فیصل آباد ۲ / ۶۵۸

[2]   درمختار فصل الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷

[3]   الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱

[4]   حلیۃ المحلی