Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

مذکور متن وشرح (طریقہ وحدیقہ) میں ہے “ اسی طرح اس پانی کا حکم ہے جس میں بچّے نے ہاتھ داخل کیا کیونکہ بچّے نجاست سے اجتناب نہیں کرتے لیکن شك اور گمان کی بنیاد پر اس کا حکم نہیں دیا جائے گا البتہ عینِ نجاست یا اس کا اثر ظاہر ہوجائے تو نجاست کا حکم دیا جائے گا اھ ملخصا (ت)

(۴) لحاظ کرو کس درجہ مجال وسیع ہے روغن کتان میں جس سے صابون بنتا ہے اس کی کلیاں کھلی رکھی رہتی ہیں اور چوہا اُس کی بُو پر دوڑتا اور جیسے بن پڑے پیتا اور اکثر اُس میں گِر بھی جاتا ہے پھر ائمہ ارشاد کرتے ہیں ہم اس بنا پر روغن کو ناپاك نہیں کہہ سکتے کہ یہ فقط ظن ہیں کیا معلوم کہ خواہی نخواہی ایسا ہُوا ہی۔

فیھما عن التاتارخانیۃ عن المحیط البرھانی قدوقع عند بعض الناس ان الصابون نجس لانہ یؤخذ من دھن الکتان ودھن الکتان نجس لانہ اوعیتہ تکون مفتوحۃ الرأس عادۃ والفأرۃ تقصد شربھا وتقع فیھا غالبا ولکنا محشر الحنفیۃ لانفتی بنجاسۃ الصابون لانالانفتی بنجاسۃ الدھن لان وقوع الفأرۃ مظنون ولانجاسۃ بالظن [1] اھ ملخصا۔                                             

ان دونوں (طریقہ وحدیقہ) میں بحوالہ تتارخانیہ ، محیط برہانی سے منقول ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیك صابن ناپاك ہے کیونکہ وہ کتان کے تیل سے بنایا جاتا ہے اور کتان کا تیل ناپاك ہے کیونکہ اس کے برتن عام طور پر کھُلے منہ ہوتے ہیں اور چُوہے اس کو پینا چاہتے ہیں اور اکثر اس میں گر پڑتے ہیں لیکن ہم گروہِ احناف صابن کے ناپاك ہونے کا فتوٰی نہیں دیتے کیونکہ تیل کی نجاست پر ہمارا فتوی نہیں ہے اس لئے کہ چُوہے کا گرنا محض گمان ہے اور گمان سے نجاست ثابت نہیں ہوتی اھ تلخیص (ت)

(۵) نظر کرو کتنی ردی حالت ہے اُن کھانوں اور مٹھائیوں کی جو کفار وہنود بناتے ہیں کیا ہمیں اُن کی سخت بے احتیاطوں پر یقین نہیں کیا ہم نہیں کہہ سکتے کہ اُن کی کوئی چیز گوبر وغیرہ نجاسات سے خالی نہیں کیا ہمیں نہیں معلوم کہ اُن کے نزدیك گائے بھینس کا گوبر اور بچھیا کا پیشاب نظیف طاہر بلکہ طھورو مطہر بلکہ نہایت مبارك ومقدس ہے کہ جب طہارت ونظافت میں اہتمام تمام منظور رکھتے ہیں تو ان سے زائد یہ فضیلت کسی شے سے حاصل نہیں جانتے پھر علما اُن چیزوں کا کھانا جائز رکھتے ہیں۔

فی ردالمختار عن التترخانیۃ طاھر ما یتخذہ اھل الشرك او الجھلۃ من المسلمین کالسمن والخبز والاطعمۃ والثیاب [2] اھ ملخصا۔

ردالمحتار میں تتارخانیہ سے منقول ہے کہ جو چیز مشرکین اور جاہل مسلمان بناتے ہیں مثلًا گھی ، روٹی ، کھانے اور کپڑے وغیرہ وہ پاك ہیں اھ ملخصا (ت)

بلکہ خود حضور سید المرسلین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے بکمال رافت ورحمت وتواضع ولینت وتالیف واستمالت کفار کی دعوت قبول فرمائی   صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ۔

الامام احمد عن انس رضی الله تعالٰی عنہ ان

امام احمد نے حضرت انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت کیا ہے

یھودیا دعا النبی صلی الله تعالٰی علیہ وآلہ وسلم الی خبز شعیرو اھالۃ سخنۃ فاجابہ [3]۔

کہ ایك یہودی نے نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو جَو کی روٹی اور پرانے تیل کی دعوت دی آپ نے قبول فرمائی۔ (ت)

(۶) نگاہ کرو مشرکوں کے برتن کون نہیں جانتا جیسے ہوتے ہیں وہ انہی ظروف میں شرابیں پَیں سَور چکھیں جھٹکے کے ناپاك گوشت کھائیں ، پھر شرع فرماتی ہے جب تك علم نجاست نہ ہو حکم طہارت ہے۔

فی الحدیقۃ اوعیۃ الیھود والنصاری والمجوس لا تخلوعن نجاسۃ لکن لایحکم بھا بالاحتمال والشك [4] اھ ملخصا۔

حدیقہ میں ہے یہودیوں ، عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتن اکثر پاك نہیں ہوتے لیکن محض احتمال اور شك کی بنا پر اس کا حکم نہیں دیا جائیگا اھ تلخیص (ت)

یہاں تك کہ خود صحابہ کرام حضور سیدالعٰلمین  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے سامنے غنیمت کے برتن بے تکلف استعمال کرتے اور حضور منع نہ فرماتے۔

احمد فی المسند و ابوداود فی السنن عن جابر رضی الله تعالٰی عنہ قال کنا نغزو مع رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فنصیب من آنیۃ المشرکین واسقیتھم ونستمتع بھافلا یعیب ذلك علینا  [5] ،  قال المحقق النابلسی ای ننتفع بالاٰنیۃ والاسقیۃ من غیر غسلھا فلایعیب علینا فضلا عن نھیہ وھودلیل الطھارۃ وجواز الاستعمال [6] اھ ملخصا۔

اقول :  بل قدصح عن النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم التوضؤ من مزادۃ مشرکۃ                                                 امام احمد نے مسند میں اور امام ابوداؤد نے سُنن میں حضرت جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے ساتھ جہاد میں جاتے تو ہمیں مشرکین کے برتن اور مشکیزے ملتے اور ان سے ہم فائدہ حاصل کرتے اور حضور علیہ السلام اس بات کو ہمارے لئے معیوب نہ جانتے۔ محقق نابلسی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں یعنی ہم ان برتنوں اور مشکیزوں کو بغیر دھوئے استعمال کرتے تو آپ ہمارے لئے معیوب نہ سمجھتے ، روکنا تو الگ بات ہے۔ یہ طہارت اور جوازِ استعمال کی دلیل ہے اھ تلخیص۔ (ت)میں کہتا ہوں ، بلکہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا مشرکہ عورت کے توشہ دان سے وضو کرنا صحیح طور پر ثابت ہے

وعن امیر المؤمنین عمر رضی الله تعالٰی عنہ من جرۃ نصرانیۃ مع علمہ بان النصاری لایتوقون الانجاس بل لانجس عندھم الادم الحیض کما فی مدخل الامام ابن الحاج ،  الشیخان فی حدیث طویل عن عمران بن حصین رضی الله تعالٰی عنہ وعن جمیع الصحابۃ ان النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ توضؤا من مزادۃ امرأۃ مشرکۃ [7]  ،  الشافعی وعبدالرزاق وغیرھما عن سفےٰن بن عیےنۃ عن زید بن اسلم عن ابیہ ان عمر رضی الله تعالٰی عنہ توضأ من ماء فی جرۃ النصرانیۃ [8]۔

قلت وقدعلقہ عـــہ خ فقال توضأ عمر بالحمیم ومن بیت نصرانیۃ  [9] اھ فی الطریقۃ وشرحھا وقال الامام الغزالی فی الاحیاء                                             

اور حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ایك نصرانی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ عیسائی نجاست سے اجتناب نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیك خونِ حیض کے علاوہ کوئی چیز ناپاك نہیں ، جیسا کہ امام ابن الحاج کی مدخل میں ہے۔ امام بخاری ومسلم نے ایك طویل روایت میں حضرت عمر ابن حصین اور تمام صحابہ کرام سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اور آپ کے صحابہ کرام نے ایك مشرکہ عورت کے



[1]   الحدیقۃ الندیہ الصنف الثانی من الصنفین فیماورد عن ائمتنا الحنفیۃمطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۷۵

[2]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۱۱

[3]                مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ دار المعرفۃ المکتب الاسلامی بیروت ۳ / ۲۷۰

[4]   الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۱

[5]   سنن ابی داؤد باب فی استعمال آنیۃ اھل الکتاب مطبوعہ آفتاب عالم پریس ، لاہور ۲ / ۱۸۰

[6]   الحدیقۃ الندیۃ بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۷۱۲

[7]   الطریقۃ المحمدیۃ الباب الثالث مطبوعہ مطبع اسلام اسٹیم پریس لاہور ۲ 

Total Pages: 269

Go To