Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

دُرمختار میں ہے :

مرارۃ کل حیوان کبولہ وجرتہ کزب لہ[1]۔

ہر جانور کا پِتّا اس کے پیشاب کی طرح اور اس کی جگالی گوبر کے حکم میں ہے۔ (ت)

کتاب التجنیس والمزیر میں ہے :

لانہ واراہ جوفہ [2]۔

(کیونکہ اس نے اسے پیٹ میں چھپایا۔ ت)

درمختار میں ہے :

ینقضہ قیئ ملا ئفاہ من مرۃ اوطعام اوماء اذا وصل الی معدتہ وان لم یستقر وھو نجس مغلظ ولومن صبی ساعۃ ارتضاعہ وھو الصحیح لمخالطۃ النجاسۃ ولوھو فی المرئ فلانقض اتفاقا [3] اھ ملخصا۔

صفرا نیز کھانے یا پانی کی قے منہ بھر وضو کو توڑ دیتی ہے جب وہ معدے تك پہنچے اگرچہ وہاں نہ ٹھہرے اور وہ نجاست غلیظہ ہے اگرچہ دُودھ پیتے بچّے کی ہو اور یہی صحیح ہے کیونکہ وہ نجاست سے مِل جاتی ہے اور اگر وہ نرخرے میں رہے تو بالاتفاق وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ملخصا۔ (ت)

وقدعلم من لہ ادنی فھم وجہ الاستنباط فی المسألتین واعلم انابیننا الکلام علی ظاھر الروایۃ المصحح المرجح الواضح الوجہ القوی الدلیل الواجب التعویل وان کان ھھنا فی بعض الصور کلام للکمال اجبنا عــہ عنہ علی ھامشہ والحمدلله حمدا کثیرا والله تعالٰی اعلم۔

جس شخص کو ادنٰی سمجھ بھی حاصل ہے وہ دونوں مسئلوں میں استنباط کی وجہ جان سکتا ہے جان لوکہ ہمارے کلام کی بنیاد ظاہر روایت ہے جس کی تصحیح کی گئی اسے ترجیح دی گئی وہ نہایت واضح ہے اس کی دلیل قوی ہے اور اس پر اعتماد واجب ہے۔ اگرچہ اس جگہ بعض صورتوں میں کمال نے کلام کیا ہے جس کا جواب ہم نے اس کے حاشیے پر دیا ہے۔ اللہتعالٰی کے لئے بہت زیادہ حمد ہے اور اللہتعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)

مسئلہ ۱۷۳ :   مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رام پُوری۲۰۔ ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نجس چیز ایك مرتبہ میں پاك ہوگی بغیر مبالغہ کے یا نہیں بینوا توجروا۔

الجواب :

نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشك ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اُس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں بلکہ زوال عین درکار ہے خواہ ایك بار میں ہوجائے یا دس بار میں مگر بقائے اثر بقائے عین پر دلیل تو زوال اثر مثل رنگ وبو ضرور لیکن وہ اثر جس کا زوال دشوار ہو معاف کیا جائےگا ، صابُون یا گرم پانی وغیرہ سے چھُڑانے کی حاجت نہیں۔ درمختار میں ہے :

یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بعد جفاف بزوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبمافوق ثلث فی الاصح ولایضربقاء اثرکلونٍ وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الٰی ماء حار اوصابون ونحوہ [4] اھ ملخصا۔

اصح قول کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ سے عینِ نجاست اور اس کا اثر دُور کیا جائے ، خواہ ایك مرتبہ سے یا تین۳ سے بھی زیادہ مرتبہ سے دور ہو تو خشك ہونے کے بعد پاك ہوجاتی ہے ، اور ایسا اثر جو اس کے لئے لازم ہوچکا ہے (یعنی دور نہیں ہوتا) مثلًا رنگ اور بُو ، تو اسے گرم پانی یا صابن وغیرہ کے ساتھ دُور کرنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی اھ ملخصا (ت)

 

عـــہ وقدتقدم فی المسألۃ العاشرۃ باب الوضوء (م)

اس کا جواب باب الوضوء کے دسویں مسئلہ میں گزرچکا ہے۔ (ت)

اور غیر مرئیہ کو سُوکھنے کے بعد نہ دکھائی دے اس میں علماء کے دو قول ہیں ایك قول پر غلبہ ظن کا اعتبار ہے یعنی جب گمان غالب ہوجائے کہ اب نجاست نکل گئی پاك ہوگیا اگرچہ یہ غلبہ ظن ایك ہی بار میں حاصل ہو یا زائد میں۔ اور دوسرے قول پر تثلیث یعنی تین بار دھونا شرط ہے ہر بار اتنا نچوڑیں کہ بوند نہ ٹپکے اور نچوڑنے کی چیز نہ ہو تو ہر بار خشك ہونے کے بعد دوبارہ دھوئیں اس قول پر اگر یوں تثلیث نہ کرے گا طہارت نہ ہوگی۔ ایك جماعتِ علماء نے فرمایا یہ طریقہ خاصل اہلِ وسواس کے لئے ہے جسے وسوسہ نہ ہو وہ اسی غلبہ ظن پر عمل کرے ، ان علماء کا قصد یہ ہے کہ دونوں قولوں کو ہر دو حالت وسوسہ وعدمِ وسوسہ پر تقسیم کرکے نزاع اُٹھادیں۔

اقول :  الا ان ھذا التطبیق لایکاد یلائم ظاھر اطلاق عامۃ المتون فان الموسوسین فی الناس اقل قلیل بالنسبت الی غیرھم واطلاق الحکم المختص بالغالب الکثیر غیر بعید ولامستنکر بخلاف عکسہ کمالایخفی۔                                                                      

اقول : مگر یہ تطبیق عام متون کے ظاہر اطلاق کے مناسب معلوم نہیں ہوتی کیونکہ وسوسے والے لوگ دوسروں کی نسبت بہت کم ہیں اور حکم کا اطلاق جو غالب اکثریت سے مختص ہے وہ (عقل سے) نہ تو بعید ہے اور نہ ہی غیر معروف ، بخلاف اس کے عکس کے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)

دُوسری جماعتِ ائمہ نے فرمایا قول ثانی قول اول کی تحدید وتقدیر ہے یعنی یہ غلبہ ظن غالبًا تین بار میں حاصل ہوتا ہے۔

ای وانما العبرۃ للغالب وعلیہ تبنی الاحکام ویقطع النظر عن القلیل النادر۔

یعنی اعتبار غالب کا ہوتا ہے اور احکام کی بنیاد بھی یہی ہے ، قلیل وکمیاب سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ (ت)

اس تقدیر پر دونوں قول قولِ ثانی کی طرف عود کرآئیں گے ہدایہ وکافی ودرر وغنیہ وتنویر وغیرہا میں اسی طرف میل فرمایا اور بیشك وہ بہت قرینِ قیاس ہے بالجملہ دنوں قول نہایت باقوت ہیں اور دونوں کو ظاہر الروایۃ کہا گیا اور دونوں طرف تصحیح وترجیح۔

اقول : مگر قول ثانی عامہ متون میں مذکور اور غالبًا اُسی میں احتیاط زیادہ اور اُس میں انضباط ازید اور آج کل اگر بعض لوگ موسوس ہیں تو بہتیرے مُداہن وبے پروا ہیں انہیں ایك ایسے غیر منضبط بات بتانے میں اُن کی بے پرواہی کی مطلق العنانی ہے لہذا قول ثانی ہی پر عمل انسب والیق ہے اور ہدایہ وکافی کی توفیق حسن پر تو قول ثانی کے سوا دوسرا قول ہی نہیں۔ بہرحال ایك بار دھونے سے جبکہ زوال نجاست کا ظن غالب نہ ہو اور غالبًا بلامبالغہ سرسری طور پر ایك دفعہ دھونے میں ایسا ہی ہوگا تو اس صورت میں بالاتفاق حاصل نہ ہوگی۔

دُرِمختار میں ہے :

یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل لومکلفا والا فمستعمل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف فی غیر منعصر [5] اھ ملخصا۔

 



[1]   درمختار باب الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۷

[2]   ردالمحتار باب الاستنجاء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۳۳

[3]   درمختار نواقض الوضوء مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۲۵

[4]   درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶

[5]      درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۵۶



Total Pages: 269

Go To