Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

اور اگر ریزے ہیں جن پر سے کھُرچنا میسر نہیں یا نجاست جگر میں پَیر گئی کہ کھُرچے سے نہ جائے گی تو مصری کو قوام کریں کہ خوب رقیق وسیال ہوجائے اور اس کے ساتھ ہی دوسری مصری پاك بھی قوام کریں کہ وہ بھی اسی حالت پر آئے اب فورًا بحالت رقّت وسیلان ہی یہ پاك مصری اُس ناپاك کے برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ بھر کر اُبلنے لگے اور قدرے بَہہ جائے سب پاك ہوگئی یا دونوں مصریوں پاك وناپاك کی دھار ملاکر تیسرے خالی برتن میں چھوڑیں کہ ناپاك مصری کی بوند نہ اس پاك سے پہلے اُس برتن میں پہنچے نہ بعد بلکہ ہوا میں دونوں کی دھار ایك ہوکر برتن میں گرے سب پاك ہوجائے گی کمابیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ ت)والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۶۸ : ایضًا۔

روسر کی شکر جیسی شاہجہان پور میں بنتی ہے اور اُس کی نسبت مشہور ہے کہ ہڈی کی راکھ سے صاف کی جاتی ہے کھانا جائز یا ناجائز۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

حلال ہے جب تك تحقیق نہ ہوکہ اس خاص شکر میں جو ہمارے سامنے رکھی ہے کوئی نجس یا حرام چیز ملی ہے محرر مذہب سیدنا امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں :

بہ ناخذ مالم نعرف شیئاحرما بعینہ[1]۔

ہم اسے اختیار کریں گے جب تك ہمیں کسی چیز کا بالذات حرام ہونا معلوم نہ ہو۔ (ت)

فقیر نے  اس شکر کی تحقیق یں بحمد اللہتعالی ایك کافی و وافی رسالہ مسمی بنام تاریخی الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر۱۳۰۳ھ لکھا جس میں نہ صرف اس شکر بلکہ اس قسم کی تمام چیزوں اور انگریزی دواؤں شربتوں وغیرہا کا حکم منقح کردیا اس باب میں بفضلہ تعالٰی وہ نفیس ضوابط لکھے جس سے ہر جزئیہ کا حکم بہ نہایت انجلا منکشف ہوسکے من شاء فلیرجع الیھا (جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے۔ ت) واللہسبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۶۹ : از رائے پور ڈاك خانہ ہنڈوان راج سوائی جے پور مرسلہ سیدمحمد نوازش علی صاحب۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ

بعد سلام سنّۃ الاسلام کے عرض یہ ہے کہ ایك سبوچہ سرکہ میں چھپکلی گر پڑی اور قریب چار پانچ منٹ کے سرکہ میں پڑی رہی بعد ازاں اسے زندہ نکال لیا کہ بھاگ گئی ایسی صورت میں اُس سرکہ کو کھانا چاہیے یا نہیں ، اور حرام ہے یا مکروہ اور اگر سرکے میں مرجائے تو کیا حکم ہے ، اور وہ سرکہ کس طرح پاك ہوسکتا ہے۔ جواب سے سرفرازی بخشیے فقط۔

الجواب :

جبکہ وہ زندہ نکل آئی سرکہ پاك ہے۔

فی الدرالمختار لواخرج حیاولیس بنجس العین ولابہ حدث اوخبث لم ینزح شیئ الاان یدخل فمہ الماء فیعتبر بسؤرہ [2]۔

درمختار میں ہے اگر اسے زندہ نکالا گیا تو وہ نہ تو نجسِ عین ہے اور نہ ہی اس پر پاخانہ یا نجاست لگی ہوئی ہے تو کچھ بھی نہ نکالا جائے مگر یہ کہ اس کا منہ پانی تك پہنچ جائے پس (اس وقت) اس کے جھُوٹے کا اعتبار کیا جائیگا۔ (ت)

پھر اگر اس کا مُنہ سرکہ میں نہ ڈوبا بلکہ تیرتی ہی رہی تو اس سرکہ کا کھانا مکروہ تك نہیں اور ڈوب گیا تو غنی کیلئے کراہت تنزیہی ہے فقیر کے لئے اس قدر بھی نہیں۔

فی الدرالمختار سؤرسواکن البیوت طاھر للضرورۃ مکروہ تنزیھا ان وجد غیرہ والالم یکرہ اصلاکاکلہ لفقیر اھ ملخصا [3]۔

درمختار میں ہے گھروں میں رہنے والے جانوروں کا جھُوٹا ضرورت کے تحت پاك ہے اس کے سوا موجود ہو تو مکروہ تنزیہی ہے ورنہ بالکل مکروہ نہیں جیسے فقیر کیلئے اس کا کھانا (مکروہ نہیں) اھ ملخصا (ت)

ہاں اگر مرجائے تو سرکہ ناپاك ہوگیا پس زندہ رہنے کی حالت میں اگر غنی ازالہ کراہت اور سرکہ کا اپنے حق میں ستھرا نظیف ہوجانا چاہے یا مرجانے کی صورت میں پاك کریں تو اس کے دو طریقے ہیں : ایك یہ کہ دوسرا سرکہ صاف محفوظ کسی لوٹے میں لے کر اس گھڑے میں ڈالتے جائیں یہاں تك کہ یہ مُنہ تك بھر کر اُبل جائے اور باہر نکلنا شروع ہو جب زمین پر کچھ دُور بَہہ جائے موقوف کریں سارا گھڑا صاف ونظیف ہوجائے گا۔ اور انسب یہ کہ اس قدر ڈالیں جس میں سرکہ گھڑے سے اُبل کر بقدر د وڈیڑھ ہاتھ طول کے بہہ جائے۔

دوم : یہ کہ ایك گھڑا طیب محفوظ سرکہ کالے کر دونوں سبوچے کسی بلندی مثلا پلنگ پر رکھیں اور اُن کی محاذات میں کوئی بڑا دیگچہ کشادہ مُنہ کا نیچے رکھا ہو دونوں گھڑوں کو ایك ساتھ اس طرح جھکائیں کہ اُن کی دھاریں دیگچے تك پہنچنے سے پہلے ہوا میں باہم مل جائیں اور دیگچے میں ایك دھار ہوکر گریں یوں جس قدر سرکہ دیگچے میں پہنچے گا سب پاك ونظیف بلاکراہت ہوجائیگا مگر اس میں یہ خیال رکھیں کہ مکروہ یا نجس سرکہ کا کوئی جز بغیر دوسرے سرکہ سے ملے ہوئے دیگچے میں نہ پہنچے مثلًا جھُکاتے وقت دوسرا سرکہ ابھی نہ گرا تھا کہ اس کی دھار اول گئی یا دُوسرا گھڑا ختم ہوگیا اس میں کا سرکہ باقی تھا وہ بعد کو ڈال دیا گیا یا کسی وقت ایسا ہوا کہ دونوں کی دھار الگ الگ ہوکر گری یہ صورتیں نہ ہونے پائیں بلکہ اس سرکہ کا ہر جز دیگچے میں دوسرے سرکہ کی دھار سے ہوا میں مل ہی کر پہنچے۔ یہ دونوں نفیس طریقے بغور سمجھ کر ہمیشہ محفوظ رکھے جائیں کہ وہ نہ صرف ازالہ کراہت بلکہ ازالہ نجاست میں بھی بکار آمد ہیں۔ دودھ ، پانی ، سرکہ ، تیل ، رقیق گھی اور ایسی ہی ہر بہتی چیز جو ناپاك ہوجائے دودھ ہو تو پاك دودھ اور پانی ہو تو پاك پانی ، وعلی ھذا القیاس ہر شَے اپنی ہی جنس کے ساتھ ملاکر بطور مذکور بہادیں یا دھاریں ملاکر برتن میں لے لیں سب پاك ہوجائے گا اور دوسرا طریقہ پہلے سے بھی افضل واعلٰی ہے کہ اس میں اس شَے کا کوئی جُز ضائع نہیں جاتا۔ درمختار میں ہے :

المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ [4]۔

مختار یہ ہے کہ ناپاك چیز کو محض جاری کرکے پاك کیا جائے۔ (ت)

بحرالرائق میں ہے :

وان قل الخارج [5]۔

اگرچہ نکلنے والا کم ہو۔ (ت)

علّامہ عبدالبر ابن الشحنہ نے فرمایا :

لانہ صارجاریا حقیقۃ وبخروج بعضہ

کیونکہ وہ حقیقتًا جاری ہوگیا اور بعض کے نکلنے سے

 



[1]                فتاوٰی عالمگیری الباب الثانی فی الہدایا والضیافات نورانی کتب خانہ پشاور ۵ / ۳۴۲

[2]   درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۹

[3]   درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۰

[4]   درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۶

[5]   البحرالرائق کتاب الطہارۃ مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۸ ، ردالمحتار مطلب یطہرا لحوض بمجرد الجریان مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۳۰



Total Pages: 269

Go To