Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

مسئلہ ۱۵۱ : ازقصبہ میراں پور کٹرہ ضلع شاہجہان پور مرسلہ محمد صدیق بیگ ۲۹ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد کب تك عورت ناپاك رہتی ہے کتنے یوم کے بعد غسل کرکے نماز پڑھے؟

الجواب :

بچّہ پیدا ہونے کے بعد جب تك خون آئے ناپاك رہے گی جس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس روز کامل ہے اور کم کی کوئی حد نہیں ، اگر پاؤمنٹ آکر بند ہوگیا اور چالیس۴۰ روز تك پھر نہ آیا تو اُسی پاؤمنٹ کے بعد پاك ہوگئی نہاکر نماز پڑھے اور اگر چالیس روز کامل تك آیا ےیا اُس سے کم ، تو جس وقت بند ہوا اس وقت پاك ہوئی۔ بیس۲۰ تیس۳۰ چالیس۴۰ جتنے دن ہوں اور اگر چالیس دن سے زیادہ آیا تو اس سے پہلے ولادت میں جتنے دن آیا تھا اُتنا نفاس ہے اُس کے بعد پاك ہوگئی باقی استحاضہ ہے اُس کی نمازیں کہ قضا ہوئی ہوں ادا کرے۔ اور اگر پہلی دلادت ہے تو چالیس۴۰ دن کامل تك نفاس تھا باقی جو آگے بڑھا استحاضہ ہے اُس میں نہاکر نمازیں پڑھے روزے رکھے خون اگر پُورے چالیس دن پر بند ہو تو نہالے اور نماز پڑھے اور اس سے کم پر بند ہوتو اس سے پہلی ولالت پر جتنے دن آیا تھا اُتنے دن پُورے کرکے بند ہوا تو ابھی نہاکر نماز پڑھ سکتی ہے مگر بہتر یہ کہ نماز کے اخیر وقت مستحب تك انتظار کرے اور اگر عادت سابقہ سے کم پر بند ہوگیا تو واجب ہے اخیر وقت مستحب تك انتظار کرکے نہائے اور نماز پڑھے پھر اگر چالیس دن کے اندر آگیا تو پھر چھوڑدے پھر بند ہوجائے تو اُسی طرح کرے یہاں تك کہ چالیس دن پُورے ہوں وھو تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۵۲ : ازجنوبی افریقہ مقام بھوٹا بھوٹی برٹش باسوٹولینڈ مسئولہ حاجی اسمٰعیل میاں بن حاجی امیر میاں کاٹھیاواڑی۔

زید اگر ایامِ حیض میں عورت کی ران یا شکم پر آلہ کو مس کرکے انزال کرے تو جائز ہے یا نہیں اور زید کو شہوت کا زور ہے اور ڈر یہ کہ کہیں زنا میں نہ پھنس جاؤں۔

الجواب :

پیٹ پر جائز ہے ران پر ناجائز کہ حالتِ حیض ونفاس میں ناف کے نیچے سے زانو تك اپنی عورت کے بدن سے تمتعّ نہیں کرسکتا کمافی المتون وغیرھا (جیسا کہ (کتبِ) متون وغیرہ میں ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

سوال۱۵۳ دوم : نکاح پڑھتے وقت عورت کو پانچ کلمے پڑھاتے ہیں اب وہ عورت حیض کی حالت میں ہے تو وہ پانچ کلمے اپنی زبان سے پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :

حالتِ حیض میں صرف قرآن عظیم کی تلاوت ممنوع ہے کلمے پانچوں پڑھ سکتی ہے کہ اگرچہ اُن میں بعض کلماتِ قرآن ہیں مگر ذکر وثنا ہیں اور کلمہ پڑھنے میں نیتِ ذکر ہی ہے نہ نیتِ تلاوت ، تو جواز یقینی ہے۔ کماصرحوا بہ قاطبۃ (جیسا کہ تمام فقہاء نے اس کی تصریح کی ہے۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

سوال۱۵۴سوم : عمرو پر غسل جنابت یا احتلام کا ہے اور زید سامنے ملا اور سلام کہا تو اُس کو جواب دے یا نہیں؟ اور اگر اپنے دل میں کوئی کلامِ الٰہی یا درود شریف پڑھے تو جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :

دل میں بایں معنی کہ نِرے تصوّر میں بے حرکت زبان تو یوں قرآن مجید بھی پڑھ سکتا ہے اور زبان سے قرآن مجید بحالتِ جنابت جائز نہیں اگرچہ آہستہ ہو ، اور درود شریف پڑھ سکتا ہے مگر کلی کے بعد چاہے اور جوابِ سلام دے سکتا ہے اور بہتر یہ کہ بعد تمیم ہو کما فعلہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم (جیسا کہ نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے کیا۔ ت)تنویر میں ہے :

لایکرہ النظر الیہ (ای القراٰن) لجنب وحائض ونفساء کادعیۃ[1]۔

جنبی ، حائضہ اور نفاس والی عورت کے لئے دعاؤں کی طرح قرآن پاك کی طرف دیکھنا بھی مکروہ نہیں۔ (ت)

ردالمحتار میں ہے :

نص فی الھدایۃ علی استحباب الوضوء لذکر الله تعالٰی [2]۔

ہدایہ میں اللہتعالٰی کے ذکر کیلئے وضو کے مستحب ہونے پر تصریح کی ہے۔ (ت)

اسی میں ہے :

ترك المستحب لایوجب الکراھۃ [3]۔ والله تعالٰی اعلم۔

مستحب کو چھوڑنے سے کراہت ثابت نہیں ہوتی۔ والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

مسئلہ ۱۵۵ : از پچم گاؤں ضلع پترہ ملك بنگال مرسلہ سید عبدالاغفر ۱۰۔ ربیع الاول شریف ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کسی اردو کتاب یا اخبار میں چند آیاتِ قرآن بھی شامل ہوں تو اُس کو بلاوضو چھُونا یا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :

کتاب یا اخبار جس جگہ آیت لکھی ہے خاص اُس جگہ کو بلاوضو ہاتھ لگانا جائز نہیں اُسی طرف ہاتھ لگایا جائے جس طرف آیت لکھی ہے خواہ اس کی پشت پر دونوں ناجائز ہیں باقی ورق کے چھُونے میں حرج نہیں پڑھنا بے وضو جائز ہے۔ نہانے کی حاجت ہو تو حرام ہے والله تعالٰی اعلم۔

فصل فی المعذور

مسئلہ ۱۵۶ :    از لکھنؤ محلہ محمودنگر مطبع مصطفائی مرسلہ مولوی ضیاء الدین صاحب                                 ۷ جمادی الاولٰی ۱۳۱۳ھ

ما تقولون ایھا السادۃ العلماء فی من لایستطیع ان یصلی صلاۃ واحدۃ الابوضع القطن فی الاحلیل لمابہ من سلس البول وجریانہ فی کل وقت بحیث یبتل رأس احلیلہ وینجس ازارہ ھل ھو معذور عند الشرع ویجری علیہ احکام المعذورین من الوضوء فی کل وقت واداء الصلٰوۃ بذلك الثوب وعدم صلوحہ لامامۃ الناس وغیرھا من الاحکام ام لاوکیف یصلی فی الاسفار سیما اذاکان علی الوابور البری ای المرکب الدخانی الذی یجری فی کثیر من بلادنا فان فی وضع القطن ھناك فی الاحلیل تعذرا ای تعذر بینوا ھذا وفصلوا بمالامزید علیہ من الکتاب والسنۃ واقاویل السلف واستحقوا الثواب الجزیل من الله سبحٰنہ وتعالٰی فی غدان شاء الله تعالٰی۔                                      

اے رہبری کرنے والے علماء کرام! آپ اس شخص کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو آلہ تناسل کے سوراخ میں رُوئی رکھے بغیر ایك نماز بھی نہیں پڑھ سکتا کیونکہ وہ سلسل البول کا مریض ہے اور اس کا پیشاب ہر وقت اس طرح جاری رہتا ہے کہ عضو مخصوص کے سوراخ کا سر تر رہتا ہے اور اس کی ازار ناپاك رہتی ہے کیا وہ شرعی طور پر معذور ہے اور اس پر معذور کے احکام جاری ہوں گے کہ وہ ہر وقت کیلئے وضو کرے اور وہ اس ناپاك کپڑے کے ساتھ نماز پڑھ سکے نیز وہ لوگوں کی امامت کرانے اور اس طرح کے دیگر کی صلاحیت نہ رکھتا ہو ، یا وہ معذور نہیں ہے۔ وہ سفر میں نماز کیسے پڑھے خصوصًا جب بھاپ سے چلنے والی گاڑی پر ہو جو ہمارے اکثر شہروں چلتی ہیں کیونکہ وہاں سوراخِ ذَکر



[1]   دُرمختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۳۳

[2]   ردالمحتار ، کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۸

[3]   ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۲۸



Total Pages: 269

Go To