Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

ووقع فی کنز العمال ومنتخبہ فامرہ ان یتصدق بخمسین دینارا[1] ولااراہ الاتصحیفا والله تعالٰی اعلم وذکر فیہ عاز یا للحارث فی مسندہ ورامز الابن ماجۃ ولم ارہ لم عن عمر رضی الله تعالٰی عنہ انہ اتی جار یۃ لہ فقالت انی حائض فوقع بھا فوجدھا حائضا فوقع بھا فوجدھا حائضا فاتی النبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم فذکر ذلك لہ فقال یغفرالله لك یااباحفص تصدق بنصف دینار [2] اقول :  ویبعد تعدد الواقعۃ فیرجع الی الترجیح فان کان ھذا اقوی سند اخرج             

کی تخریج معلوم ہوچکی البتہ دینار کے پانچویں حصے والی روایت امام دارمی اور ابن راہویہ نے نقل کی ہے اور خاتم الحفّاظ (علّامہ ابن حجر عسقلانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ) نے اسے حسن قرار د یا ہے وہ حضرت عبدالحمید بن زید بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ایك لونڈی ، جماع کو ناپسند کرتی تھی آپ جب بھی اس کے پاس جانے کا اردہ فرماتے وہ حیض کا بہانہ پیش کردیتی۔ ایك مرتبہ آپ نے اس سے جماع کیا تو (واقعی) وہ سچی تھی ، آپ بارگاہِ نبوی میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دینار کا پانچواں حصّہ صدقہ کرنے کا حکم د یا اھ۔ کنز العمال اور اس کے انتخاب میں ہے کہ آپ نے ان کو پچاس دینار صدقہ کرنے کا حکم د یا۔ میرے خیال کے مطابق ان کو پڑھنے میں غلطی لگی ہے ، واللہتعالٰی اعلم۔ اس میں حارث کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہ اُنہوں نے اپنی مسند میں لکھا اور ابن ماجہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ذکر کیا لیکن میں نے اس میں وہ روایت نہیں پائی وہ یہ ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاپنی ایك لونڈی کے پاس تشریف لے گئے اس نے کہا میں حائضہ ہوں آپ نے اس سے جماع کیا تو اسے حائضہ پا یا پھر نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرما یا : اے ابو حفص! اللہ

الخمس من الاضطراب ثم اقول :  الاصوب ان اوللتنویع کمابینتہ الروایات الثلاث الاخیرۃ لکن العجب انہ جعلھا للشك ثم ادخلہ فی الاضطراب وکیف یسری الاضطراب الی المتن بشك بعض الرواۃ فی بعض الالفاظ ھذا لایقول بہ احد ثم قدبقی علیہ من الروایات خمسا دینار فروی ابوداود مرسلا عن الحکم بترك المقسم وابن عباس وفیہ فامرہ ان یتصدق بخمسی دینار [3] بصیغۃ التثنیۃ فی نسخہ الثلاث فعلی طریقتہ تمت سبعا

اقول :  ولیس ھذا اضطرابا قادحا فانہ مالایمکن جمعہ کماافادہ المحققان العسقلانی وابن الھمام والجمع ھھنا میسور فالخمس والخمسان لمن وقع فیہ خطأ کماھی واقعۃ الفاروق رضی الله تعالٰی عنہ والنصف والنصفان علی من تعمد کمایشیر الیہ لفظ من اتی والتوزیع باعتبار

تعالٰی تمہاری مغفرت کرے نصف دینار صدقہ کرو۔

اقول : واقعہ کا متعدد ہونا (سمجھ سے) بعید ہے پس ترجیح کی طرف رجوع کیا جائے اگر اس (نصف دینار والی روایت) کی سند قوی ہو تو خُمس (پانچویں حصّے) والی روایت اضطراب سے نکل جائے گی ثم اقول : لفظ “ او “ تقسیمِ نوع کیلئے ہے جیسے آخری تین روایات سے واضح ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ انہوں نے اسے شك کے لئے قرار دے کر اضطراب میں داخل کیا (لیکن) بعض راویوں کے بعض الفاظ میں شك سے متن میں اضطراب کیسے ہوگا ، اس بات کا کوئی بھی قائل نہیں۔ اس کے بعد روایات میں سے دینار کے دو خمس والی روایت باقی رہ گئی امام ابوداؤد نے حکم سے مرسلًا روایت کرتے ہوئے مقسم اور حضرت ابن عباس رضی اللہعنہما کا ذکر چھوڑ دیا  [4]۔  اس روایت میں ہے “ پس آپ نے دو۲ خمس دینار صدقہ کرنے کا حکم فرمایا ان (امام ابوداؤد) کے تین نسخوں[5] میں تثنیہ کے صیغے سے مروی ہے پس ان کے طریقے پر سات۷ روایات پُوری ہوگئیں۔

اقول : یہ اضطراب نقصان دِہ نہیں کیونکہ نقصان اس صورت میں ہوتا ہے جب روایات کے درمیان موافقت ممکن نہ ہو جیسے دو محققین علامہ عسقلانی اور ابن ہمام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی نے بتایا لیکن یہاں روایات کے درمیان مطابقت ممکن ہے لہذا

اٰخر الدم واولہ کمافی الروایۃ الثالثۃ والرابعۃ وفی اولہ ایضا باعتبار الواجد والفاقد کمافی الروایۃ الخامسۃ وھذا جمع جلی واضح ولله الحمد والتخفیف عن المخطئ ظاھر وعن اتی فی اخر الدم فزعم العلّامۃ فرشتۃ ان الصفرۃ مترددۃ بین الحمرۃ والبیاض فبالنظر الی الثانی لایجب شیئ وبالنظر الی الاول یجب الکل فینصف[6] اھ

اقول :  وفیہ مالایخفی فان الصفرۃ حیض قطعا لاتردد فیہ ثم التعبیر بالوجوب خلاف المذھب واستظھر القاری انہ تعبد محض لامدخل للعقل فیہ قال والاقرب ماقیل فیہ ان الحکمۃ فی اختلاف الکفارۃ بالاقبال والادبار انہ فی اولہ قریب عھد بالجماع فلم یعذر فیہ بخلافہ فی اٰخرہ فخفف فیہ [7]اھ۔

اقول :  اذاکان ھذا اقرب فکیف یکون کونہ تعبدیا اظھر ولاشك انہ نزع ظاھر ولایصار الی التعبد مالم ینسد باب العقل۔ والله تعالٰی اعلم۔ خُمس (۵ / ۱) اور دو خمس (۵ / ۲) کا حکم اس شخص کیلئے ہوگا جس نے غلطی سے جماع کیا ، جیسے حضرت فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا واقعہ ہے ، نصف اور پُورا دینار اس شخص پر ہوگا جس نے جان بُوجھ کر ایسا کیا جیسے لفظ “ من اتی “ (جو شخص عورت کے پاس جائے) سے اشارہ ہوتا ہے اور تقسیم خون کے آغاز واختتام کے اعتبار سے بھی ہے جیسا کہ تیسری اور چوتھی روایت میں ہے اور شروع میں دینار پانے والے اور نہ پانے والے کے اعتبار سے ہے جیسا کہ پانچویں روایت میں ہے یہ جمع نہایت روشن اور واضح ہے اور اللہتعالٰی ہی کیلئے حمد وستائش ہے مخطی سے تخفیفہ کا ہونا تو ظاہر اور جو مرد حیض کے آخری ایام میں جماع کرے تو اس کے بارے میں علّامہ فرشتہ کا خیال ہے کہ زرد رنگ سُرخی اور سفیدی کے درمیان میں ہے لہذا دوسرے (سفید رنگ) کا اعتبار کرتے ہوئے کچھ بھی واجب نہیں ہوتا اور پہلے (سُرخ رنگ) کے اعتبار سے پُورا دینار واجب ہوتا ہے لہذا (زرد رنگ میں) نصف کردیا جائے گا اھ۔

اقول : اس قول کی خرابی واضح ہے کیونکہ زرد رنگ قطعًا حیض ہے جس میں کوئی شك نہیں پھر وجوب سے تعبیر کرنا خلافِ مذہب ہے۔ مُلّا علی قاری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے واضح طورپر فرمایا کہ یہ محض ایك تعبدی حکم ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں انہوں نے فرمایا اس سلسلے میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں اقرب بات یہ ہے کہ حیض کے آغاز واختتام میں کفارہ کے اختلاف میں یہ حکمت ہے کہ شروع میں وہ زمانہ جماع سے قریب ہوتا ہے ، لہذا اس ضمن میں معذور نہیں سمجھا جائے گا بخلاف اختتام حیض کے ، لہذا اس وقت کفارہ میں تخفیف ہوگی اھ۔

اقول : جب یہ بات اقرب ہے تو اس (مقدار) کا تعبدی ہونا کیسے اظہر ہوگا اس میں شك نہیں کہ یہ محض ظاہری نزاع ہے اور وہ اس وقت تك عبادت نہیں بن سکتا جب تك عقل کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔ (ت) والله تعالٰی اعلم

بالجملہ حاصل جمع احادیث یہ ٹھہرا کہ جس سے نادانستہ ایسا واقع ہُوا اگر آخر حیض میں تھا (اور اسی میں حکمًا وہ صورت داخل کہ خون دس۱۰ دن سے کم میں منقطع ہوا اور عورت نے ابھی غسل نہ کیا نہ کوئی نماز اس پر دَین ہُوئی) وہ ایك خُمس دینار کفارہ دے اور اگر شباب حیض میں تھا تو دو خمس اور جس نے دانستہ ایسا کیا اگر آخر حیض میں تھا نصف دینار دے اور اوّل میں تو ایك دینار ، ہاں ایك کی طاقت نہ ہو تو نصف ہی دے۔ یہ سب حکم استحبابی ہے واجب نہیں مگر استغفار۔

اقول : دینار شرعی دس۱۰ درم ہے تو خُمس دینار کی جگہ دو۲ درم ، دو۲ خُمس پر چار ، نصف پر پانچ ، کُل پر دس۱۰