Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

الجواب :

اس کے ہاتھ کا پکا ہُوا کھانا بھی جائز ، اُسے اپنے ساتھ کھلانا بھی جائز۔ ان باتوں سے احتراز یہود ومجوس کا مسئلہ ہے۔

وقدکان رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم یدنی راسہ الکریم لام المؤمنین الصدیقۃ رضی الله تعالٰی عنھا وھی فی بیتھا وھو صلی الله تعالٰی علیہ وسلم معتکف فی المسجد لتغسلہ فتقول اماحائض فیقول حیضتك لیست فی یدك [1] ۔

سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم اپنا سرمبارك دُھلوانے کےلئے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے قریب کرتے تھے اس وقت آپ گھر میں ہوتیں اور نبی اکرم  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مسجد میں معتکف ہوتے اُم المومنین عرض کرتیں : میں حائضہ ہُوں۔ آپ فرماتے : حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ (ت)

مَرجائے تو اس کے لئے ایك ہی غسل کافی ہے کمانص علیہ علماؤنا وبہ قال جمہور الائمۃ (جیسا کہ ہمارے علماء نے اس کی تصریح فرمائی ہے اور جمہور ائمہ کا بھی یہی قول ہے۔ ت) حیض کم از کم تین رات دن کامل ہے اور ز یادہ سے زیادہ دس رات دن کامل۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ : ۱۴۹                                   ۹۔ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ 

کیا فرماتے ہیں علمائے دے اس مسئلہ میں کہ ایك عورت لڑکا جنے اور نفاس سے آٹھ دن میں فارغ ہوگئی اب اُس کے واسطے روزے نماز کا کیا حکم ہے اور چُوڑی و غیرہ چاندی یا کانچ کی یا وہ چارپائی یا مکان پاك رہا یا ناپاك یا چالیس۴۰ دن کی میعاد لگائی جائے گی۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

یہ جو عوام جاہلوں عورتوں میں مشہور ہے کہ جب تك چلّہ نہ ہوجائے زچہ پاك نہیں ہوتی محض غلط ہے خون بند ہونے کے بعد ناحق ناپاك رہ کر نماز روزے چھوڑ کر سخت کبیرہ گناہ میں گرفتار ہوتی ہیں مردوں پر فرض ہے کہ انہیں اس سے باز رکھیں نفاس کی ز یادہ حد کےلئے چالیس۴۰ دن رکھے گئے ہیں نہ یہ کہ چالیس دن سے کم کا ہوتا ہی نہ ہو اس کے کم کےلئے کوئی حد نہیں اگر بچّہ جننے کے بعد صرف ایك منٹ خون آ یا اور بند ہوگیا عورت اُسی وقت پاك ہوگئی نہائے اور نماز پڑھے اور روزے رکھے۔ اگر چالیس۴۰ دن کے اندر اُسے خُون عود نہ کرے گا تو نماز روزے سب صحیح رہے گے۔ چُوڑ یاں ، چارپائی ، مکان سب پاك ہیں فقط وہی چیز ناپاك ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاك سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۵۰ :                   از فرخ آبادشمس الدین احمد                         شنبہ ۱۸۔ شوال ۱۳۳۴ھ 

کوئی شخص اپنی بی بی سے حیض یا نفاس کی حالت میں صحبت کرے تو اُس کا کفارہ کیا ہے؟

الجواب :

اگر ابتدائے حیض میں ہے تو ایك دینار ، اور ختم پر ہے تو نصف دینار ، اور دینار دس درم کا ہوتا ہے اور دس درہم دو روپے تیرہ آنے کچھ کوڑ یاں کم۔ سُنن دارمی وابوداؤد وترمذی وابن ماجہ عــہ میں حضرت عبداللہبن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے ہے رسول اللہتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :

اذاوقع الرجل باھلہ وھی حائض فلیتصدق

جب آدمی اپنی عورت سے حالتِ حیض میں صحبت کرے

 

عــہ :  عزاہ فی المشکٰوۃ لاربعۃ وانما الذی رأیت للنسائی ما یاتی ۱۲ منہ (م)

مشکوٰۃ المصابیح میں اسے چاروں سنن کی طرف منسوب کیا ہے اور وہ جو میں نے نسائی کےلئے دیکھی ہے وہ ہے جو اس کے بعد آرہی ہے ۱۲ منہ (ت)

بنصف دینار[2]

تو چاہیے کہ نصف دینار صدقہ دے۔

سنن نسائی وابن ماجہ میں انہیں سے ہے ، نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرما یا : یتصدق بدینار اونصف دینار [3] ایك یا نصف دینار تصدق کرے ورواہ الدارمی فجعل التردید من شك الراوی حیث قال یتصدق بدینار ونصف دینار شك الحکم [4] (اسے امام دارمی نے روایت کیا اور تردید کو راوی کا شك قرار د یا کہ اس نے کہا ایك دینار صدقہ کرے یا نصف دینار ، حکم (راوی کو) شك ہُوا۔ ت)

مسند عــہ احمد ودارمی وترمذی میں اُنہیں سے ہے نبی  صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرما یا :

اذاکان دمااحمر فدینار واذاکان دمااصفر فنصف دینار [5]۔

جب سُرخ خون ہو تو ایك دینار اور زرد ہو تو آدھا۔

طبرانی نے معجم کبیر اور حاکم نے بافادہ تصحیح اُنہیں سے یوں روایت کی رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :

من اتی امرأتہ فی حیضھا فلیتصدق بدینار ومن اتاھا وقدادبر الدم عنھا ولم تغتسل فنصف دینار [6]۔

جس نے اپنی عورت سے حیض میں صحبت کی وہ ایك اشرفی تصدق کرے اور اگر خون بند ہوچکا اور ابھی نہائی نہ تھی تو آدھی۔

مسند میں انہیں سے یوں ہے : تصدق بدینار فان لم تجد دینار فنصف

عــہ وعزاہ ایضا فی الجامع الکبیر لابی داود والنسائی لم ارہ لھما۔

جامع کبیر میں ہے اس کو بھی ابو داؤد اور نسائی کی طرف منسوب کیا ہے میں نے یہ حدیث ان دونوں میں نہیں دیکھی۔

 



[1]   جامع ترمذی ، باب ماجاء فی الحائض تتناول الشیئ من المسجد ، مطبع مجتبائی لاہور ۱ / ۱۹

[2]   جامع الترمذی باب ماجاء فی کراہۃ ات یان الحائض ، مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۱۹

[3]   سنن ابن ماجہ باب کفارۃ من اتی حائضا مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷

[4]   سُنن الدارمی باب من قال علیہ الکفارۃ مدینہ منورہ حجاز ۱ / ۲۰۳