Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

اس (صاحبِ دُرمختار) کے قول “ لم ینزح شیئ “ (کچھ بھی نہ نکالا جائے) سے مراد یہ ہے کہ نکالنا واجب نہیں جیسا کہ خانیہ میں ہے کہ اگر بکری گر جائے اور زندہ نکل آئے تو اطمینانِ قلب کےلئے بیس ڈول نکالے جائیں ، پاك کرنے کےلئے نہیں۔ والله تعالٰی اعلم (ت)

مسئلہ ۱۳۹ :                                ازضلع فریدپور موضع قنل نگر مرسلہ عبدالغنی صاحب ۲۲ ذیقعدہ ۱۳۳۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایك بہشتی بے نمازی جو چھوٹا استنجا پانی سے نہیں کرتے معمولی طور پر غسل کرکے یعنی ایك ڈول پانی سرپر ڈال کر کنویں میں غوطہ لگا یا تھا اور استعمالی کپڑا بھی نہیں بدلا تھا اب اس کنویں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔

الجواب :

اگر چھوٹا استنجا ڈھیلے سے کرلیا ہو اور بدن یا کپڑے پر کوئی نجاست ہونا تحقیق نہ ہو تو بیس۲۰ڈول نکالیں ورنہ کل پانی۔ والله تعالٰی اعلم۔

____________________

باب المسح علی الخفین

 

مسئلہ ۱۴۰ :                از اوجین مکان میرخادم علی صاحب اسسٹنٹ مرسلہ ملّا یعقوب علی خان       ۱۵ جمادی الاولٰی ۱۳۱۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سُوتی موزہ پر مسح جائز ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔

الجواب :

سُوتی یا اُونی موزے جیسے ہمارے بلاد میں رائج ان پر مسح کسی کے نزدیك درست نہیں کہ نہ وہ مجلد ہیں یعنی ٹخنوں تك چمڑا منڈھے ہوئے نہ منعل یعنی تلاچمڑے کا لگا ہوا نہ ثخین یعنی ایسے دبیز ومحکم کہ تنہا اُنہیں کو پہن کر قطع مسافت کریں تو شق نہ ہوجائیں اور ساق پر اپنے دبیز ہونے کے سبب بے بندش کے رُکے رہیں ڈھلك نہ آئیں اور اُن پر پانی پڑے تو روك لیں فورًا پاؤں کی طرف چھن نہ جائے جو پائتابے ان تینوں وصف مجلد منعل ثخین سے خالی ہوں اُن پر مسح بالاتفاق ناجائز ہے۔ ہاں اگر اُن پر چمڑا منڈھ لیں یا چمڑے کا تلا لگالیں تو بالاتفاق یا شاید کہیں اُس طرح کے دبیز بنائے جائیں تو صاحبین کے نزدیك مسح جائز ہوگا اور اسی پر فتوٰی ہے۔

فی المنیۃ والغنیۃ (المسح علی الجوارب لایجوز عند ابی حینفۃ الا ان یکونا مجلدین) ای استوعب الجلد مایستقر القدم الی الکعب (اومنعلین) ای جعل الجلد علی ما یلی الارض منھما خاصۃ کالنعل للرجل (وقالایجوز اذاکانا ثخینین لایشفان) فان الجورب اذاکان بحیث لایجاوز الماء منہ الی القدم فھو بمنزلۃ الادیم والصرم فی عدم جذب الماء الی نفسہ الابعد لبث اودلك بخلاف الرقیق فانہ یجذب الماء وینفذہ الی الرجل فی الحال [1]۔

(وعلیہ) ای علی قول ابی یوسف ومحمد (الفتوی والثخین ان یستمسك علی الساق من غیر ان یشد بشیئ) ھکذا فسروہ کلھم وینبغی ان یقید بما اذا لم یکن ضیقا فانا نشاھد مایکون فیہ ضیق یستمسك علی الساق من غیرشد والحد                   

منیہ اور غنیہ میں ہے (امام ابوحنیفہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك جرابوں پر مسح جائز نہیں مگر یہ کہ چمڑے کی ہوں) یعنی اس تمام جگہ کو گھ یرلیں جو قدم کو ٹخنوں تك ڈھانپتی ہے ( یا منعل ہوں) یعنی جرابوں کا جو حصّہ زمین سے ملتا ہے صرف وہ چمڑے کا ہو ، جیسے پاؤں کی جُوتی ہوتی ہے (اور صاحبین نے فرما یا اگر (جرابیں) ایسی دبیز ہوں کہ نہ کھلتی ہوں تو مسح جائز ہے کیونکہ اگر جراب اس طرح کی ہو کہ پانی قدم تك تجاوز نہ کرے تو وہ جذب کرنے کے حق میں چمڑے اور چمڑا چڑھائے ہوئے موزے کی طرح ہے مگر کچھ د یر ٹھہرنے یا رگڑنے سے پانی جذب کرے تو کوئی حرج نہیں بخلاف پتلی جراب کے ، کہ وہ پانی کو جذب کرکے فورًا پاؤں تك پہنچاتی ہے۔ (ت)

(وعلیہ) یعنی امام ابویوسف اور امام محمد رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کے قول پر (فتوٰی ہے ، اور ثخین وہ ہے کہ کسی چیز سے باندھے بغیر پنڈلی پر ٹھہر جائے) تمام فقہا نے اس کی یونہی وضاحت کی ہے لیکن مناسب ہے کہ اس کے ساتھ تنگ نہ ہونے کی قید لگائی جائے کیونکہ ہمارے مشاہدے میں ہے کہ جو جراب تنگ ہو

بعدم جذب الماء اقرب وبمایمکن فیہ متابعۃ المشی اصوب۔

وقدذکر نجم الدین الزاھدی عن شمس الائمۃ الحلوانی ان الجوارب من الغزل والشعر ماکان رقیقا منھا لایجوز المسح علیہ اتفاقا الاان یکون مجلدا اومنعلا وماکان ثخینا منھا فان لم یکن مجلدا اومنعلا فمختلف فیہ وماکان فلاخلاف فیہ [2] اھ۔ ملتقطا۔

قلت وھھنا وھم عرض للمولی الفاضل اخی یوسف چلپی فی حاشیۃ شرح الوقا یۃ فلاعلیك منہ بعد ماسمعت نص امام الشان شمس الائمۃ وکذلك نص فی الخلاصۃ بمایکفی لازاھتہ کماحققہ فی الغنیۃ وذکر طرفا منہ فی ردالمحتار فراجعھا ان شئت والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔                                     

وہ باندھے بغیر بھی پنڈلی پر ٹھہر جاتی ہے۔ موزے کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ پانی کو جذب نہ کرے اور اس کے ساتھ لگاتار چلنا ممکن ہو ، حق کے ز یادہ قریب اور بہترین تعریف ہے۔ (ت)

نجم الدین زاہدی نے شمس الائمہ حلوانی سے نقل کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اُون اور بالوں سے بنی ہوئی جرابیں پتلی ہوں تو بالاتفاق ان پر مسح جائز نہیں جب تك وہ مجلّد یا منعل نہ ہوں اور اگر وہ (دبینر ہوں تو ان میں سے جو مجلّد اور منعل نہ ہوں ان پر مسح کرنے میں اختلاف ہے جبکہ مجلّد اور منعل میں کوئی اختلاف نہیں ، انتہی انتخابًا۔ (ت)

فاضل اخی یوسف چلپی کو حاشیہ شرح وقایہ کے اس مقام پر ایك وہم [3] ہوا۔ لہذا امام الشان شمس الائمہ کی تصریح سننے کے بعد اب تمہیں وہ قول اخت یار نہیں کرنا چاہئے ، اسی طرح خلاصہ میں بھی تصریح ہے جو اس کے ازالہ کے لئے کافی ہے جیسا کہ غنیہ میں اس کی تحقیق کی ہے اور کچھ بحث ردالمحتار میں بھی مذکور ہے اگر چاہو تو وہاں رجوع کرو۔ اور اللہسبحانہ ، وتعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)

مسئلہ ۱۴۱ :                               مقام کہنہ دہانہ ضلع رزےڈنسی گوالیار مسئولہ منشی نور محمد سوداگر

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس بارے میں کہ بُوٹ جن سے ٹخنہ ڈھك جاتا ہے یعنی بُوٹ کہ پلٹن والے پہنتے ہیں وہ بُوٹ کیا چمڑے کے موزے کا حکم رکھتا ہے یا نہیں۔ چونکہ چمڑے کے موزے پر               مسح کرنا درست ہے (عالمگیری) تو فرمائیے کہ بُوٹ پر مسح کرنا درست ہے یعنی مسح کرنا چاہئے یا نہیں اور نماز اس سے درست ہے یاکیا؟

الجواب :

 درست ہے معراج الدرایہ پھر بحرالرائق پھر ردالمحتار میں ہے :

 



[1]          غنیۃ المستملی ، فصل فی المسح علی الخفین مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۲۰

[2]        غنیۃ المستملی فصل فی المسح علی الخفین مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۲۱

[3]          چلپی نے فرما یا اگر وہ ثخین نہ ہو تو نیچے چمڑا چڑھا ہونے کے باوجود مسح جائز نہیں۔ ذخیرۃ العقبٰی ص۵۲



Total Pages: 269

Go To