Book Name:Fatawa Razawiyya jild 4

(۳) چڑ یا چُوہا مثلًا کنویں میں مر کر رہ گیا اور مٹی میں دب گیا کہ پانی نکالنے سے نہیں نکل سکتا تو پانی توڑ کر نکالیں اور اگر پانی کسی طرح نہ ٹوٹ سکے تو وہ کنواں اتنی مدت چھوڑ دیں کہ ظن غالب ہوجائے کہ وہ جانور اب گل کر مٹی ہوگیا ہوگا اور اس کا اندازہ چھ۶مہینے کیا گیا ہے باقی مٹی نکالنے کی کوئی حاجت کنواں پاك کرنے میں نہیں ہے۔ والله تعالٰی اعلم۔

(۴) جتنا پانی توڑنے سے باقی رہ گیا ہو مثلًا فرض کرو کہ اگر سو۱۰۰ یا دوسو۲۰۰ ڈول اور نکالے جاتے تو آدھی بالٹی سے کم بھرتی مگر اس وقت اتنے ڈول نکالنا بوجہ مذکور مصلحت نہیں تو آج چھوڑدیں کل یا دو چار روز میں جب پانی ز یادہ ہوجائے وہ باقی کے سو۱۰۰ دوسو۲۰۰ ڈول نکال دیں کنواں پاك ہوگیا لان الولاء غیرشرط (کیوں کہ مسلسل نکالنا شرط نہیں۔ ت) والله تعالٰی اعلم۔

(۵) ایسے لوگ گنہگار ہیں اور شرعًا مستحقِ تعز یر جس کا اختیار سلطانِ اسلام کو ہوتا ہے اب اتنا ہونا چاہئے کہ اگر وہ توبہ نہ کریں تو مسلمان اُن سے میل جول ترك کردیں کہ انہوں نے شریعت میں بے جا دخل د یا اور مسلمانوں کو نجاست پلائی اور اُن کی نمازیں او ربدن اور کپڑے خراب کیے ، والله تعالٰی اعلم۔

(۶) جب سے اُس ناپاك پانی سے وضو کرکے نماز پڑھی ہو اور اس کے بعد پاك پانی سے طہارت کرکے پاك کپڑوں سے نماز نہ پڑھی ہو مثلًا ناپاك پانی سے وضو کیا اور اس کے بعد پانی پاك کرلیا گیا اور اُس پاك پانی سے کسی دن اس طرح نہا یا کہ سر سے پاؤں تك تین بار پانی بہہ گیا اس کے بعد پاك پانی سے وضو کرتا رہا اور کسی دن سر دھو یا اور کپڑے بدلے تو اس کے بعد سے جو نمازیں پڑھیں وہ نہ پھیری جائیں گی اور اگر کپڑے نہ بدلے یا سر نہ دھو یا اور اُس پاك پانی سے وضو کرتا رہا تو سب نمازیں پھیری جائیں گی اگرچہ مہینے ہوگئے ہوں کہ بعد کے وضوؤں سے اگرچہ منہ ہاتھ پاك ہوگئے مگر وہ ناپاك پانی جو مسح میں سر کو لگا تھا وہ ہزار بار کے مسح سے بھی پاك نہ ہوگا جب تك دھو یا نہ جائے والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ۱۳۵ : ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مرسلہ منشی رضا علی صاحب۲۔ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ

کیا ارشاد ہے علمائے دین کا اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے کی رسّی جس میں ایك کپڑا لپٹا ہوا تھا اور جو بیل کے سینے کے نیچے باندھی جاتی ہے کنویں میں ڈالی گئی جس نے کپڑا رسّی پر لپیٹا تھا اس کا بیان ہے کہ کپڑا پاك لپیٹا تھا۔ لوگوں کا شبہہ ہے کہ بیل کے گوبر یا پیشاب کی چھینٹیں شاید پڑی ہوں ایسی صورت میں کنواں پاك رہا یا ناپاك ہوا۔ اگر ناپاك ہوا تو کس قدر پانی نکالنا چاہئے۔

الجواب :

کنواں پاك ہے اصلًا کچھ نکالنے کی حاجت نہیں۔ والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۳۶ :                              ازشہر بریلی محلہ خواجہ قطب مسئولہ مسعودعلی ۲۔ رمضان المبارك ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ٹھیلے میں بیل کے جوتنے کے لئے بیل کے سینہ بند اور گردن میں ایك رسّی بندھی ہُوئی تھی اور اس کے سینے اور گردن کی خراش بچانے کے واسطے ایك بے نمازی عورت کا مَیلا دوپٹّا رسّی پر لپٹا ہوا جو کہ ایك عرصہ دراز تك استعمال میں آچکا ہے اس حالت میں ظن ہے کہ رسّی اور کپڑا گوبر اور پیشاب کی آلودگی سے یا اُس خون اور رطوبت سے جو بیل یا پہیّے کی رگڑ سے کھال چھلنے کے بعد نکلتا ہے نہیں بچا ہوگا وہ کنویں میں گر گیا اس حالت میں کنواں پاك ہے یا نجس۔

الجواب :

بے نمازی عورت کا مَیلا دوبٹا ہونے سے اس کی ناپاکی لازم نہیں نہ عرصہ دراز تك استعمال سے نہ سینے کی رسّی کو گوبر اور پیشاب سے علاقہ ، رہا کھال چھل کر خون نکلنا یہ ثبوت طلب ہے نکلا ہوگا کافی نہیں یہ معلوم وثابت وتحقیق ہونا لازم کہ واقعی خُون و غیرہ نجس رطوبت نکل کر اس کپڑے میں لگی تھی اس تحقیق کے بعد ضرور کنواں ناپاك مانا جائے گا اور کُل پانی نکالنے کا حکم ہوگا ورنہ وہم وشك پر نجاست نہیں ہوسکتی ایسا ہی زیادہ شك ہو تو بیس۲۰ڈول نکال دیں جن سے مقصود نہ کنواں بلکہ اپنے دل کا شك سے پاك کرنا ، والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۳۷ : ازشہرکہنہ بریلی محلہ گھیر جعفر خان پنجابی ٹولہ مسئولہ جناب محمود علی خان صاحب رضوی۸ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك کنواں ہے جس میں پانی اس قدر ہے کہ ایك حوض دہ در دہ اُس کے پانی سے بذریعہ چرسے کے بھر د یا جاتا ہے مگر پانی اُس کا نہیں ٹوٹتا اُس کنویں میں گلہری گر کر مرگئی اور سڑ کر پھٹ گئی ایسی حالت میں کس قدر پانی نکالا جاوے کہ کنواں پاك ہوجاوے۔

الجواب :

اگر کنواں آپ دہ در دہ ہو یعنی اس کا قطر پانچ گز دس گرہ ایك اُنگل ہو جب تو ناپاك نہ ہوگا اور اس سے کم ہے تو ذراسی نجاست سے اُس کا کُل پانی ناپاك ہوجائے گا اگرچہ کثرت عمق یا ز یادات آمدِ آب کے سبب اُس سے دس۱۰ حوض دہ در دہ بھر سکیں۔ اس صورت میں اُس میں جتنے ڈول پانی ہو وہ ناپ کر نکال د یا جائے پاك ہوجائے گا خواہ دفعۃً نکالیں یا کئی روز میں اور خواہ نکالنے سے اس کا پانی ٹوٹ جائے یا اصلًا نہ گھٹے ہر صورت میں اُتنے ڈول نکالنے سے پاك ہوجائے گا اور وہ جو آج کل بعض بے علم لوگ ایسے کُنویں سے ۳۰۰ یا ۳۶۰ ڈول نکالنا کافی بتاتے ہیں غلط ہے۔ ناپنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ رسّی میں پتھّر باندھ کر آہستہ آہستہ چھوڑیں ، خم نہ پڑے جب تہہ کو پہنچ جائے نکال کر ناپیں کہ اتنے ہاتھ پانی ہے پھر جلد جلد سو۱۰۰