Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

اقول : ان کا تکوُّن پارے اور گندھك سے ہوتا ہے اور ان کا دخان وبخار سے اور اس کا اجزائے مائیہ وہوائیہ سے اگر یہ وہ پانی ہے جس کے بعض سے بخار بناکہ دھوئیں سے مل کر زیبق ہوا اور وہ کبریت سے مل کر معدن یا اُس بخار کا حصّہ ہے کہ سردی پاکر پانی ہوگیا تو آبِ مطلق ہے اور اگر یہ وہ مادہ زیبق ہے جس کی مائیت میں کبریتی دخان ملا اور پارا بننے کیلئے مہیا کیا اور ہنوز قلّتِ یبوست نے شکلِ آب پر رکھا تو آبِ مقید ہے یا پانی ہی نہ رہا والله  تعالٰی اعلم۔

فوائد منثورۃ متفرق فائدے

(۱) لما اصلح المدقق العلائی فی الدر مغترفا

(۱) امام علائی نے در میں بحر سے اخذ کرکے امام فخر

من البحر ضابطۃ الامام الفخر لابل حکمھا کمااعلمناك فی ۲۸۷ بزیادۃ ید مالم یزل الاسم کنبیذ تمر اعترضہ العلامۃ ش بانہ یرد علیہ ماقدمناہ عن الفتح تأمل[1]  ای ماذکرہ المحقق فی الفتح علی ذکر زوال الرقۃ فی الاقسام ان الکلام فی الماء وھذا قدزال عنہ اسم الماء۔

اقول :  (۱) مع قطع النظر عما قدمنا علی الفتح (۲) بینھما لون بعید فزائل الرقۃ لم یبق ماء عرفا ولا لغۃ بخلاف ھذا کماذکرنا فی الفصل الثانی قبیل الاضافات (۳) ولوسلم  ھذا سقطت الاقسام کلھا علی التحقیق فان الاسباب ثلثۃ کثرۃ اجزاء المخالط و زوال الطبع والاسم وقد انکر المحقق الثانی وانتم الثالث والاول احق بالانکار منہ فما فیہ ماء ومثلہ اواکثر منہ لبن لیس ماء قطعا وانکان فیہ ماء۔ (۲) وقع فی شرح النقایۃ العلامۃ البرجندی بعد مانقل عن الھدایۃ ماقدمنا فی سادس              

کے ضابطہ کی جب اصلاح کی بلالکہ اس کو نافذ کیا جیسا کہ ہم نے ۲۸۷ میں بیان کیا ہے کہ اس میں پانی کا نام باقی نہ رہنے کی قید زیادہ کرنی ہوگی جیسے نبیذتمر۔ تو علامہ شامی نے امام علائی پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اس پر فتح القدیر سے ہمارا پہلے نقل ہوا کلام وارد ہوگا ، غور چاہئے اھ یعنی اس سے محقق صاحبِ فتح القدیر کا وہ کلام مراد ہے جو انہوں نے پانی کے اقسام میں رقّت کے زائل ہونے کے بارے میں فرمایا ہے کہ رقّت کے ختم ہوجانے پر اس کو پانی نہیں کہا جاتا جبکہ یہ بحث پانی کے بارے میں ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں کہ فتح پر ہماری بیان کردہ بحث سے قطع نظر ، دونوں صورتوں میں بڑا فرق ہے کہ فتح میں جس کو بیان کیا ہے وہ خالی از رقّت چیز ہے جس کو لغت اور عرف میں پانی نہیں کہا جاتا اور یہ جس کو علامہ علائی نے بیان فرمایا ہے اور اگر یہ (رقّت ختم ہوگی تو پانی کا نام زائل ہوگا ورنہ نہیں) تسلیم کرلیا جائے تو پھر (پانی سے طہارت کے حصول منافی) تمام اقسام ساقط قرار پائیں گے ، کیونکہ(منافی) اسباب تین ہیں ، پانی میں ملنے والی چیز کے اجزاء کا غلبہ ، پانی کی طبیعت(رقّت)کا زوال اور نام کی تبدیلی۔ ان میں سے محقق نے دوسرے اور تم نے تیسرے کا انکار کردیا اور پہلے کا انکار بطریق اولیٰ ہوجائے گا ، پس جب پانی اور دودھ برابر ہوں یا دودھ زیادہ ہو تو اس کو پانی نہیں کہا جاتا حالانکہ اس میں پانی ہے (یعنی نام تبدیل ہوگیا حالانکہ اس کی رقّت باقی ہے)۔ (ت)(۲) علامہ برجندی نے نقایہ کی اپنی شرح میں ہدایہ کے اس مضمون کو جسے ہم نے تیسری فصل کے چھٹے ضابطہ میں

ضوابط الفصل الثالث مانصہ وفیھا  ایضا ان الثمار الیابسۃ اذا وقعت فی الماء فان کان الغالب طعم ذلك الشیئ لایجوز التوضی منہ[2]  اھ۔

اقول :  ولیس  ایضا فی الھدایۃ ثم ھو خلاف (۱)امامی المذھب لما اعلمناك ھناك ان اعتبار الاجزاء دون الاوصاف مجمع علیہ فی الجامد وانما الخلف فی المائع ثم قید (۲) الیابسۃ لایظھر لہ فائدۃ الا ان یقال ان الیابس ابطأ تحللا من الرطب فیدل علی طول مکثہ فی الماء فیکثر عملہ وفیہ ان العمل بالتحلل فالرطب اسرع عملا ولانظر الی مدۃ المکث والله تعالٰی اعلم۔ (۳) اثبتنا (۳)ولله الحمد عرش التحقیق علی ان العبرۃ فی الطبخ بزوال الطبع ولوماٰلا او الاسم بالمعنی الثالث لابتغیر وصف او اوصاف وان محمداایضا لایعتبرھا فی الجامد واذا اعتبرھا فی المائع لایرسل ارسالا بل یرتب فیقدم اللون ثم الطعم ولایعتبر الریح اصلا کما بیناہ بکلام الامام ملك العلماء۔                                  

بیان کیا ہے ، نقل کرنے کے بعد کہا ، جو یہ ہے۔ اور ہدایہ میں بھی ہے کہ اگر پانی میں خشك پھل پڑ جائے اور پانی پر اس پھل کا ذائقہ غالب ہوجائے تو اس پانی سے  وضو جائز نہیں ہے اھ (ت)

میں کہتا ہوں کہ ہدایہ میں بھی نہیں اور اس کے علاوہ وہ مذہب کے ائمہ کے بھی خلاف ہے جیسا کہ ہم نے آپ کو وہاں بتایا ہے کہ (جامد چیز کے ملنے سے) بالاتفاق غلبہ میں اجزاء کا اعتبار ہے۔ اختلاف تو صرف بہنے والی چیز کے ملنے میں ہے ، پھر خشك کی قید بھی بے فائدہ ہے ، ہاں اگر یوں کہا جائے کہ خشك دیر سے گھُلتا ہے اس لئے زیادہ دیر پانی میں رہنے کی وجہ سے اس کی تاثیر زیادہ ہوتی ہے لیکن یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ (ذائقہ کے معاملہ میں) پھل کے گھُلنے کا دخل ہے جبکہ پانی میں تازہ سبز پھل جلدی گھُل جاتا ہے اس معاملہ میں پانی پڑے رہنے کا کوئی دخل نہیں ہے ، والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

(۳) الله  تعالٰی کا شکر ہے کہ ہم نے پوری تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ پانی میں پکانے کی صورت میں(ملنے والی چیز کے غلبہ کیلئے) پانی کے ایك وصف یا تمام اوصاف کی تبدیلی کا اعتبار نہیں ہے بلالکہ اس صورت میں پانی کی طبیعت یا نام کے زوال کا اعتبار ہے اگرچہ بعد میں ہو نیز امام محمد رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِبھی جامد چیز میں اس کا اعتبار نہیں کرتے وہ صرف بہنے والی چیز میں اس (وصف کی تبدیلی) کا اعتبار کرتے ہیں وہ بھی

فایاك ان تتوھم مما قدمنا من کلامہ ثمہ اذ قال مجیبا للامام الکرخی عن الامام ابی طاھر الدباس فی النبیذ المطبوخ ان المائع الطاھر اذا اختلط بالماء لایمنع التوضو اذا لم یغلب علی الماء اصلا اما اذا غلب بوجہ من الوجوہ فلا وھھنا غلب من حیث الطعم واللون وان لم یغلب من حیث الاجزاء[3]  اھ۔  ان العبرۃ ھھنا للوصف وان الریح  ایضا معتبرۃ وان لاترتیب فی اعتبارھا لقولہ اذاغلب بوجہ من الوجوہ فیصدق بغلبۃ الریح دون الباقیین وبغلبۃ الطعم دون اللون فی ذی اللون بل المراد الغلبۃ بحیث یزول الاسم ،  الا تری الی قولہ فی صدر المبحث اذاخالطہ علی وجہ زال عنہ اسم الماء[4]  وقال فیما یقصدبہ التنظیف یجوز  وان تغیر لون الماء اوطعمہ او ریحہ لان الاسماءباق[5]   وقال الا اذاصار کالسویق لانہ حینئذ یزول اسم الماء[6] وقال لوتغیر بالطین اوالاوراق اوالثماریجوز لانہ لم یزل اسم الماء[7]  وقال قیاس ماذکرنا

ہر طرح نہیں بلالکہ اوصاف کی ترتیب کے لحاظ سے ، پہلے رنگ پھر ذائقہ (کی تبدیلی) کا اعتبار کرتے ہیں جبکہ بُو کی تبدیلی کا وہ بالکل اعتبار نہیں کرتے جیسا کہ امام ملك العلماء کے کلام سے ہم نے واضح کیا ہے۔ (ت)ہم نے ملك العلماء کا کلام پہلے ذکر کیا ہے جہاں انہوں نے امام ابوطاہر کی طرف سے امام کرخی کو جواب دیتے ہوئے پکے ہوئے نبیذ کے بارے میں فرمایا کہ پانی میں بہنے والی کسی پاك چیز کے ملنے سے وضو جائز ہے بشرطیکہ وہ چیز پانی پر غالب نہ ہو اور اگر کسی وجہ سے وہ چیز غالب ہوجائے تو پھر وضو جائز نہ ہوگا اور یہاں (پکے ہوئے نبیذ) میں ذائقہ اور رنگ کے لحاظ سے غلبہ ہوا ہے اگرچہ اجزاء کے لحاظ سے غلبہ نہیں ہے اھ۔ اس کلام سے آپ کو یہ غلط فہمی نہ ہو (کہ یہ ہماری مذکورہ بالاتحقیق کے خلاف ہے) کیونکہ نبیذ مذکور میں(جامد چیز ملنے اور پکے ہونے کے باوجود) وصف کا اور بدبُو بدلنے کا اور اوصاف میں ترتیب نہ ہونے کا اعتبار ہے کیونکہ انہوں نے کسی طرح سے غلبہ کہا ہے جو صرف بُو تبدیل ہونے اور رنگ والی چیز میں صرف ذائقہ بدلنے ، والی صورت کو بھی شامل ہے۔ یہ اس لئے(کہ ملك العلماء کے مذکور کلام میں غلبہ اجزاء یا زوالِ طبیعت کی بجائے کسی دوسرے مقصد کیلئے) نام کی تبدیلی والا غلبہ مراد ہے۔ اس بحث کی ابتداء میں ان کے حسب ذیل اقوال کو غور سے دیکھیں “ جب کوئی چیز اس طرح ملے کہ پانی کہنا درست نہ ہو “ اور کہا زیادہ صفائی کی غرض سے اگر کوئی چیز ملائی تو اس سے

 



[1]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۳۳

[2]   شرح النقایۃ للبرجندی  ابحاث الماء  نولکشور لکھنؤ  ۱ / ۳۲

[3]   بدائع الصنائع  مطلب الماء المقید  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۷

[4]   بدائع الصنائع  مطلب الماء المقید  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۷

[5]   بدائع الصنائع  مطلب الماء المقید  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۷

[6]   بدائع الصنائع  مطلب الماء المقید  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۷

[7]   بدائع الصنائع  مطلب الماء المقید  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۵



Total Pages: 232

Go To