Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

اقول :  اولا (۱)لایخفی علیك ان الانعصارمن الثوب اخص تحققامن السیلان فلاینعصر الا مایسیل ولایجب انعصار کل سائل کالدھن والزیت والسمن واللبن والعسل کل ذلك یسیل لانھا من المائعات وما المیع الا السیلان اواخص قال فی القاموس ماع الشیئ یمیع جری علی وجہ الارض منبسطا فی ھینۃ [1]

قال فی تاج العروس کالماء                              

علامہ شرنبلالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی  نے نورالایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں کہا (جامد میں غلبہ کا تحقق پانی کو اُس کی رقّت سےخارج کر نے پر ہے) پس وہ کپڑے میں سےنچوڑا نہ  جاسکے گا (اور اس کا سیلان) سےاخراج یہ کہ وہ اعضاء پر پانی کی طرح بَہہ نہ سکے گا اھ (ت)

میں اوّلًا کہتا ہوں کہ سیلان کی نسبت کپڑے سےنچوڑا جانا تحقق کے اعتبار سےاخص ہے تو وہی نچوڑا جاسکتا ہے جو بہتا ہو ، اور ہر بہنے والی چیز کا نچوڑا جانا لازم نہیں ، جیسےتیل ، گھی ، دودھ اور شہد ، یہ سب بہنی والی چیزیں  ہیں کیونکہ یہ مائع  ہیں اور مائع کا مطلب ہی بہنی والی چیز ہے یا مائع سیلان سےاخص ہے ، قاموس میں ہے ماع الشیئ یمیع زمین پر کسی چیز کا پھیل کر بہنا۔ تاج العروس میں ہے جیسےپانی اور خون۔ اور قاموس میں ہے

سال یسیل والدم [2]  سیلا وسیلانا جری [3]   اھ ولیس شیئ منھا ینعصر (۱)ولذا لم یجز تطہیر النجاسۃ الحقیقیۃ بھا قال فی الھدایۃ یجوز تطھیرھابالماء وبکل مائع طاھر یمکن ازالتھابہ کالخل وماء الورد ونحوہ مما اذا عصرانعصر[4]  قال المحقق فی الفتح قولہ اذاعصر انعصر یخرج الدھن والزیت واللبن والسمن (۲)بخلاف الخل وماء الباقلاء الذی لم یثخن [5] اھ وفی المنیۃ ان غسل بالعسل اوالسمن اوالدھن لایجوز لانھا لاتنعصر بالعصر [6]   قال فی الحلیۃ لان لھذہ الاشیاء لصوقابالمحل وایضا فی العسل من غلظ القوام مایمنع من المد اخلۃ فی الثوب[7] اھ  وفی مراقی الفلاح لاتطھر بدھن لعدم خروجہ بنفسہ [8]  قال ط فی حاشیتہ ای فکیف یخرج النجاسۃ [9]  وقد تقدم فی سیلا وسیلانا ،

جاری ہوا اھ اور ان میں سے  کسی چیز کو نچوڑا نہیں جاتا ہے اور اسی لئے نجاست حقیقیہ کو اِن سےپاك کرنا جائز نہیں۔ ہدایہ میں فرمایا اس کا پاك کرنا پانی اور ہر مائع سےجائز ہے جو خود پاك ہو ، اور نجاست کا اُس سےزائل کرنا بھی ممکن ہو ، جیسےسرکہ گلاب کا پانی وغیرہ ، یعنی وہ چیزیں جو نچوڑے جا نے سےنچوڑی  جاسکیں ، محقق  نے فتح میں فرمایا “ ان کا قول جب نچوڑا جائے تو نچڑ جائے ، سےتیل ، روغن زیتون ، دُودھ اور گھی خارج ہوجاتے  ہیں بخلاف سرکہ اور باقلاء کے پانی کے جو گاڑھا نہ ہو اھ اور منیہ میں ہے کہ اگر شہد سےدھویا جائے یا گھی سےیا تیل سےتو جائز نہیں ، کیونکہ یہ نچوڑے جا نے سےنہیں نچڑتے  ہیں ، حلیہ میں فرمایا اس لئے کہ یہ چیزیں اپنے محل سےچپکی ہوئی ہوتی  ہیں اور شہد کی قوام کی سختی اس کو کپڑے میں داخل ہو نے سےمنع کرتی ہے اھ اور مراقی الفلاح میں ہے تیل سےپاك نہ ہوگا کیونکہ وہ خود نہیں نکلتا ہے “ ط “  نے

۲۸۶ ان ھذا یوھم بقاء الاطلاق مع انتفاء الرقۃ اذالم یسلب السیلان ولیس کذلک۔  

فان قلت انہ رحمہ الله تعالٰی تدارکہ فی الشرح بتقیید السیلان بسیلان کالماء وظاھر ان المراد بہ الماء الصافی الذی لم یخالطہ شیئ ولم یتغیرعن صفتہ الاصلیۃ ولا تسیل تلك المائعات مثلہ لکونہ ارق اماالذی یسیل کسیلانہ فلابد ان ینعصرکانعصارہ فان کان کل منعصر یسیل کالماء تساوی الرقۃ وھذاالسیلان والا کانت الرقۃ اعم وعلی کل لایلزم المحذورفانہ کلماانتفت انتفی ، غایتہ ان یبقی ذکر السیلان مستدرکاعلی تقدیر خصوصہ اما علی التساوی فلاغروفی جمع المتساویین تاکیدا۔ اقول فیہ عـــہ نظر بالنسبۃ الی بعض

اس کے حاشیہ میں فرمایا تو نجاست کیسےنکالے گا۔ اور ۲۸۶ میں گزرا کہ یہ پانی کے اطلاق کو باقی رہنے کا وہم پیدا کرتا ہے جبکہ رقت منتفی ہو اور سیلان باقی ہو حالانکہ ایسا نہیں۔ (ت)

اگریہ اعتراض کیا جائے کہ انہوں نے شرح میں اس کا تدارك اس طرح کیا ہے کہ سیلان کو مقید کیا ہے اُس سیلان سےجو پانی کی طرح ہو اور ظاہر ہے کہ اس سےمراد صاف پانی ہے جس میں کوئی چیز ملی نہ ہو اور وہ اپنی اصلی صفت سےمتغیر نہ ہوا ہو اوریہ مائعات اس کی طرح نہیں بہتے کیونکہ پانی زیادہ پتلا ہے ، بہرحال وہ چیز جو پانی کی طرح بہے تو ضروری ہے کہ وہ پانی کی طرح نُچڑے تو اگر ہر نچڑ نے والی چیز پانی کی طرح بہتی ہو تورقت اور یہ سیلان مساوی ہوجائیں گی ورنہ تو رقت اعم ہوگی اور ہر صورت میں کوئی محذور لازم نہ آئے گا ، کیونکہ جب رقت منتفی ہوگی تو سیلان منتفی ہوگا ، نتیجہ یہ کہ سیلان کا ذکر مستدرك ہوگا ، برتقدیر اُس کے خاص ہونے کے اور تساوی کی شکل میں تو متساویین کے جمع ہونی میں کوئی حرج نہیں تاکیدا۔ (ت)

میں کہتا ہوں دودھ کے بعض اقسام کے اعتبار

 عـــہ فان قلت الیس ھذا عین ماقدمت انفا فی البحث الاول فی تبیین کلام التبیین وغیرہ اواقتصروا علی السیلان فقلت یحمل علی السیلان المعھود من الماء فیستلزم الرقۃ اقول :  نعم شتان ماھما فالسیل کمسیل الماء یستلزم الرقۃ بالمعنی الذی حققت لا الانعصار کالالبان ۱۲ منہ غفرلہ (م)                

اگر آپ اعتراض کریں کہ کیا یہ بیان آپ کے اس بیان کے عین مطابق نہیں ہے جو ابھی آپ  نے تبیین وغیرہ کے کلام کی وضاحت کرتے ہوئے پہلی بحث میں فرمایا کہ “ انہوں نے صرف سیلان کو کافی قرار دیا ہے “ اس کے جواب میں مَیں کہتا ہوں کہ اس سیلان کو پانی والے سیلان پر محمول کیا جائےگا جس کو رقت لازم ہے۔ میں کہتا ہوں دونوں مختلف  ہیں ، سیلاب کے پانی کی رقت میں نچڑ نے کی وہ صلاحیت نہیں جو خالص پانی کی رقت میں ہے سیلاب کے پانی کی رقت دودھ کی رقت جیسی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

الالبان بل لبن المعزربمایکون ارق من بعض المیاہ وعلی التسلیم لانسلم ان کل ماسال کالماء ینعصر لجواز ان یکون فیہ مایمنعہ من الانعصار دون السیل کالدسم فان کان کل منعصر سائلا مثلا عادت الرقۃ اخص مطلقًا والا فمن وجہ وعلی کل عاد المحذور۔

وثانیا :  (۱)افاد رحمہ الله تعالٰی ان کل مالاینعصر لیس برقیق فعکسہ کل رقیق ینعصر٭ وفیہ نظر لایستتر٭ فان الدھن رقیق ولاینعصر٭ والامر فی اللبن اظھر امارقۃ الدھن فلما صرحوا ان المعتبر فی المقدارالمانع من (۲) النجاسۃ الغلیظۃ وزن الدرھم فی الشیئ الغلیظ ومساحتہ فی الرقیق کتب المذھب طافحۃ بذلك وفی البحر وفق الھندوانی بان روایۃ المساحۃ فی الرقیق والوزن فی الثخین واختار ھذا التوفیق کثیرمن المشائخ وفی البدائع ھوالمختارعندمشائخ ماوراء النھروصححہ الزیلعی وصاحب المجتبی واقرہ فی فتح القدیر [10] اھ وفی الغنیۃ قال الفقیہ ابو جعفر یقدر

 



[1]   قاموس المحیط  فصل المیم والنون ، باب العین  مصطفی البابی مصر  ۳ / ۸۹

[2]   تاج العروس  فصل المیم من باب العین  مطبوعہ احیاء التراث العربی مصر  ۵ / ۵۱۶

[3]   قاموس المحیط  فصل السین والشین واللام  مصطفی البابی مصر ۴ / ۴۱۰

[4]   ہدایۃ  باب الانجاس وتطہیرہا مکتبہ عربیہ کراچی ۱ / ۵۴

[5]   فتح القدیر باب الانجاس وتطہیرہامکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۷۰

[6]   منیۃ المصلی  فصل فی المیاہ مکتبہ عزیزیہ کشمیری بازار لاہور  ص۱۸

[7]   حلیۃ

[8]   مراقی الفلاح باب الانجاس والطہارۃ مطبعۃ ازہریہ مصر ص۹۳

[9]   طحطاوی علی مراقی الفلاح  باب الانجاس والطہارۃ مطبعۃ ازہریہ مصر ص۹۳

[10]   بحرالرائق  باب الانجاس سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۲۲۸



Total Pages: 232

Go To