Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

اقول :  (۱) انما قاعدۃ المتن ماتقدم نقلہ من قولہ لابماء زال طبعہ الخ فان ارید المجموع لم یرد ماء البحر اذلم یزل منہ الکل لبقاء السیلان وان ارید واحد منھالم یرد ماء البطیخ لانہ قدزال منہ الانبات ھذا ان ارید بہ ماخالطہ ولو اراد مایستخرج منہ خرج رأسا بقولہ ماء فکان علیہ ان یعکس فیقول ان ارید الکل یرد ماء البطیخ لبقاء اثنین السیلان والارواء وان ارید واحد منھا یرد ماء البحر لزوال اثنین الانبات والارواء نعم لوکانت عبارۃ المتن یجوز بماء بقی علی طبعہ کان النقض کماذکر۔

فان قلت لم لایقال انہ صرف الکلام من المنطوق الی المفھوم ولاشك ان المفھوم منہ ھو ھذا ای الجواز بما بقی علی طبعہ ۔

اقول :  لیس ھذا مفھومہ بل مفھومہ الجواز بمالم یزل طبعہ فیبقی التعکیس کما کان لانہ اذا ارید بالطبع المجموع                                                

(حالانکہ اس سےوضو جائز ہے) اور اگر ان میں سےایك کا ارادہ کیا جائے تو تربوز کے پانی وغیرہ سےرد ہوگا کہ اس میں سیراب کرنا ہے لیکن اس سےوضو جائز نہیں اھ (ت)

میں کہتا ہوں متن کا قاعدہ وہ ہے جو منقول ہوا ، ان کے قول لابماء زال طبعہ الخ میں ، اور اگر مجموع کا ارادہ کیا جائے تو سمندری پانی سےاعتراض نہ ہوگا کہ اس کے تمام اوصاف زائل نہیں ہوئے ہیں کیونکہ اس میں سیلان باقی ہے ، اور اگر ان میں سےایك کا ارادہ کیا جائے تو تربوز کے پانی سےاعتراض نہ ہوگاکیونکہ اس میں ایك وصف انبات زائل ہوا ہے یہ تقریر اس صورت میں کہ جب تربوز کا مخلوط مادہ مراد لیا جائے اور اگر اس سےخارج کیا ہوا پانی مراد لیا جائے توپھرتقریراس کے  برعکس ہوگی اوریوں کہاجائے گاکہ اگر تینوں امور کا مجموعہ مراد ہو تو پھر تربوز کے پانی سےاعتراض وارد ہوگا کیونکہ اس سےتینوں کا زوال نہیں ہے بلالکہ اس میں سیلان اور سیرابی باقی ہے اور اگر تینوں میں سےکسی ایك کو طبیعت قرار دیا جائے تو سمندری پانی سےاعتراض ہوگا کہ اس کے دو وصف زائل ہوئے ہیں ، اگانا اور سیراب کرنا ، ہاں اگر متن کی عبارت یوں ہوتی کہ وضو جائز ہے اس پانی سےجو اپنی طبیعت پر باقی ہو تو نقض وہ ہوتا جو ذکر کیا۔ (ت)

اگر یہ کہا جائے کہ یہ کیوں نہیں کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کلام کو منطوق سےمفہوم کی طرف پھیر دیا ہے اور کچھ شك نہیں کہ اس کا مفہوم یہی ہے ، یعنی جو پانی اپنی طبیعت پر باقی ہو اس سےوضو جائز ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں یہ اس کا مفہوم نہیں ، بلالکہ اس کا مفہوم اس پانی سےوضو کا جواز ہے جس کی طبیعت ختم نہ ہوئے ہو ، تو تعکیس ایسی ہی رہے گی ، کیونکہ جب

کان المعنی یجوز بمالم یزل عنہ الکل فلا یردماء البحر لبقاء السیلان فیہ واذا ارید واحد کان المعنی یجوز بمالم یزل عنہ شیئ اصلا فلایرد ماء البطیخ لزوال الانبات بخلاف قولك یجوز بمابقی علی طبعہ فانہ لوارید الکل کان الجواز منوطا بقاء الکل فیرد ماء البحر اوالبعض فماء البطیخ ھذا وقال العلامۃ البرجندی المراد طبع جنس الماء وھو الرقۃ والسیلان کذا قیل وفی الخزانۃ طبع الماء کونہ سیالا مرطبا مسکنا للعطش ولایخفی ان ماء بعض من الفواکہ کذلك فلو اختلط بالماء وغلبہ ینبغی ان یجوز التوضی منہ ولیس کذلك[1] ۔

اقول : ان خص الایرادبعبارۃ الخزانۃ کماھوظاھرسیاقہ فلاوجہ لہ لورودہ علی الاول ایضاسواء بسواء فان ماء بعض الفواکہ لایسلبہ الرقۃ ایضاکمالایسلبہ الارواء وان عممھما فلاوجہ لہ فان اعتبار الرقۃ مجمع علیہ وقد مشی ھوایضاعلیہ فی ضابطتہ                                     

طبیعت سےمجموعہ کا ارادہ کیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے وضو جائز ہے اس پانی سےجس سےکل زائل نہ ہوں ، تو سمندری پانی سےاس پر اعتراض وارد نہ ہوگا کیونکہ اس میں سیلان کا وصف باقی ہے اور جب ایك کا ارادہ کیا جائے تو معنی یہ ہوں گی وضو جائز ہے اُس پا نی سےجس سےکچھ زائل نہ ہوا ہو ، تو بِطیخ کے پانی سےاعتراض وارد نہ ہوگاکہ اس سےایك انبات کا وصف زائل ہے بخلاف آپ کے اس قول کے “ وضو جائز ہے اس پانی سےجو اپنی طبیعت پر باقی ہو “ کیونکہ اگر کل کا ارادہ کیا جائے تو جواز کا دارومدار کل کے باقی رہنے پر ہوگا تو سمندری پانی پر اعتراض وارد ہوگا اگر بعض کا ارادہ کیا جائے تو بطیخ کے پانی سےاعتراض ہوگا۔ اس کو یادرکھو۔ علامہ برجندی  نے فرمایا مراد جنس پانی کی طبیعت ہے اور وہ رقت وسیلان ہے ، اسی طرح کہاگیا ہے ، اور خزانہ میں ہے پانی کی طبیعت اس کا سیال ہونا ، تر کر نے والا ہونا ، پیاس کے لئے ت  سکےن بخش ہونا ہے اور مخفی نہ رہے کہ بعض پھلوں کا پانی ایسا ہی ہوتا ہے تو اگر وہ پانی میں مل جائے اور غالب ہوجائے تو چاہئے کہ اُس سےوضو جائز ہو ، حالانکہ ایسا نہیں ہے اھ (ت)

میں کہتا ہوں اگر اعتراض بطور خاص خزانہ کی عبارت پر ہے جیسا کہ سیاق سےظاہر ہے تو اس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ وہ اول پر بھی برابر سےوارد ہے کیونکہ بعض پھلوں کے پانی سےرقت سلب نہیں ہوتی جیسےاس سےسیرابی سلب نہیں ہوتی اور اگر وہ دونوں کو عام ہے تو اِس کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ رقت کا اعتبار اجماعی ہے اور وہ بھی اپنے ضابطہ میں اسی پر

التی وضعھاکما سیأتی فی الفصل الاٰتی ان شاء الله تعالٰی فاذن کان ینبغی الاخذ علی المتن فانہ لم یستثن فی خلط الطاھرالامااخرج الماء عن طبعہ اوغیرہ طبخاولیس فی خلط ھذاالماء شیئ من ذلك فان ارادالردعلی المتن فلاوجہ لہ فانہ قال وان اختلط بہ طاھر والعرف قاض انہ لایقال الا اذاکان الماء اکثر (۱)لان الخلط لایضاف الا الی المغلوب ففی مزج الماء والحلیب ان کان اللبن اکثر یقال لبن فیہ ماء اوالماء فماء خالطہ لبن وقدنبہ علیہ فی مجمع الانہر اذقال الخل مثلا اذا اختلط بالماء والماء مغلوب یقال خل مخلوط بالماء لاماء مخلوط بالخل [2] اھ فلایشمل مااذاغلب علی الماء ماء الفاکھۃ وبالجملۃ لااری لھذا الایراد محلا ومحملا والله تعالٰی اعلم۔

ثم اقول :  الذی یظھرلی ان الزائدین علی الرقۃ والسیلان انماارادوا بیان طبع الماء فی نفسہ لاطبع لولاہ لم یجز الوضوء کیف وھم قاطبۃ اذااتواعلی الفروع لایبنون                                                

چلے  ہیں جیسا کہ اِن شاء الله  تعالٰی آیندہ فصل میں آئے گا ، تو اس صورت میں متن پر اعتراض کرنا چاہئے تھا ، کیونکہ انہوں نے پاك کے ملنے میں صرف اُس کا وضو کے جواز سےاستثناء کیا ہے جو پانی کو اس کی طبیعت سےخارج کردے ، یا پکنے کی وجہ سےاس کو تبدیل کردے اور اِس پھل کے پانی کی ملاوٹ میں اُن میں سےکوئی چیز نہیں ہے ، تو اگر متن پر رد کا ارادہ کیا ہے تو اِس کی کوئی وجہ نہیں ہے ، کیونکہ انہوں نے فرمایا ہے “ اور اگر اس کے ساتھ کوئی طاہر چیز مل جائے “ اور عرف فیصلہ کر نے والا ہے کہ یہ بات اُسی وقت کہی جائے گی جبکہ پانی زائد ہو کیونکہ خلط مغلوب ہی کی طرف مضاف ہوتی ہے ، تو پانی اور دودھ کے ملانے میں اگر دودھ زائد ہو تو کہا جاتا ہے یہ دودھ ہے جس میں پانی ہے ، یا پانی زائد ہے تو کہا جائےگا یہ پانی ہے جس میں دودھ ملا ہوا ہے ، اس پر مجمع الانہر میں تنبیہ کی ہے اور فرمایا کہ مثلًا سرکہ جب پانی میں مل جائے اور پانی مغلوب ہو تو کہا جاتا ہے سرکہ میں پانی مخلوط ہے یہ نہیں کہتے کہ پانی میں سرکہ ملا ہوا ہے اھ ، تو یہ اس صورت کو شامل نہیں جبکہ پھلوں کے پانی پر پانی کا غلبہ ہوجائے ، اور خلاصہ یہ کہ میں اس اعتراض کا نہ محل پاتا ہوں اور نہ محمل ، والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

پھر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ پانی کی طبیعت میں رقت اور سیلان پر دو چیزوں کی زیادتی کا قول کرتے  ہیں وہ فی نفسہٖ پانی کی طبیعت کا ارادہ کرتے  ہیں نہ کہ اُس طبیعت کا کہ اگر وہ نہ ہو تو وضو جائز نہ ہو ، اور یہ کیسےہوسکتا ہے کہ جب وہ فروع کے

الا مرالا علی الرقۃ والسیلان ولن تری احدا منھم یقول ان لم ینبت اویرو لم یجزبہ الوضوء فانجلی الامروا نقشع السترولله الحمد۔

بیان پر آتے  ہیں تو معاملہ کو رقت وسیلان پر ہی مبنی کرتے  ہیں ، اور ان میں سےکوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ اگر پانی میں اُگانی اور سیراب کر نے کی صلاحیت ختم ہوجائے تو اس سےوضو جائز نہ ہوگا ، اس سےمعاملہ صاف ہوگیا ولله الحمد (ت)

 

بحث سوم معنی رقّت وسیلان کی تحقیق اور اُن کا فرق۔

قال العلامۃ الشرنبلالی رحمہ الله تعالٰی فی نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح (الغلبۃ فی الجامد باخراج الماء عن رقتہ) فلاینعصرعن الثوب (وسیلانہ)فلا یسیل علی الاعضاء سیلان الماء [3] اھ

 



[1]   شرح النقایۃ للبرجندی  ابحاث الماء  نولکشور لکھنؤ  ۱ / ۳۱

[2]   مجمع الانہر  تجوز الطہارۃ بالماء المطلق  مطبع عامرہ مصر  ۱ / ۲۸

[3]   مراقی الفلاح  کتاب الطہارۃ الامیریہ بولاق مصر  ص۱۵



Total Pages: 232

Go To