Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

وفی خزانۃ المفتین عن الاختیار شرح المختار طبع الماء کونہ سیالا مرطبامسکنا للعطش [1] اھ

وفی مراقی الفلاح طبعہ ھو الرقۃ والسیلان والار واء والانبات [2] اھ قال السید ط فی حاشیتہ الرقۃ والسیلان اقتصر علیھما فی الشرح عــہ  وھو الظاھر لان الاخیرین لایکونان                                                                                                                                                                                                                                                                                

اور شامی نے کہا ہے کہ الوانی نے اس لئے صرف انبات کو لیا ہے اور سیرابی کا اعتبار نہیں کیا کیونکہ انبات کو سیرابی لازم ہے اور سیرابی کو انبات لازم نہیں ہے کیونکہ شربت سیراب تو کرتے ہیں لیکن انبات نہیں کرتے اھ اور جوہرہ میں ہے کہ پانی کی طبیعت رقّت ، سیلان اور پیاس بجھانا ہے اھ اور خزانۃ المفتین میں الاختیار شرح المختار سےمنقول ہے کہ پانی کی طبیعت سیال تَر کرنا اور پیاس بجھانا ہے اھ اور مراقی الفلاح میں ہے

 

عــہ اقول :  (۱) ومن العجب اقتصار البنایۃ علی الارواء اذقال طبع الماء کونہ مرویا لانہ یقطع العطش قال وقیل قوۃ نفوذہ [3] اھ

اقول :  ھذا ھو قضیۃ رقتہ وسیلانہ (۲) فالعجب تزییف ھذا واختیار طبع لاتعلق لہ بماھنا قال وقیل کونہ غیر متلون [4] اھ

اقول :  ھذا خلاف المشھود والمشہور (۳) ودوار فی الکتب ذکر لون الماء (۴) وقد جاء                              

اقول : تعجب ہے کہ بنایہ  نے صرف سیرابی پر اکتفا کیاہے جہاں انہوں نے کہا ہے کہ پانی کی طبیعت سیراب کرنا ہے کیونکہ اس سےپیاس بجھتی ہے اور انہوں نے کہاکہ بعض  نے پانی کو قوتِ سرایت کو کہا ہے اھ

میں کہتا ہوں کہ یہ تو پانی کی رقت اور سیلان کا معاملہ ہے ، اس کو کمزور بنانااور ایسی چیز کو طبیعت بتانا جس کا یہاں کوئی تعلق نہیں ہے تعجب انگیز بات ہے انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بعض  نے پانی کی طبیعت غیر متلون (بے رنگ) ہونا بتایا ہے اھ

میں کہتا ہوں کہ یہ بات مشاہدہ اور شہرت دونوں کے خلاف ہے اور کتب میں پانی کے رنگ کا باربار ذکر ہے           (باقی برٖصفحہ آیندہ)

فی ماء البحر الملح [5] اھ وبہ تُعقب علی الدرر فاجاب الوانی ثم السادۃ ابو سعود و ط و ش ان فی طبعہ انباتاالا ان عدم انباتہ لعارض کالماء الحار [6] اھ وردہ الخادمی بان ماء البحر م یزل عن طبعہ بعارض کالماء الحار بل عند تخلیتہ علی                           

کہ پانی کی طبیعت رقت ، سیلان ، سیراب کرنا اور اگانا ہے اھ۔ سید طحطاوی  نے اس کے حاشیہ میں فرمایا کہ انہوں نے شرح میں صرف رقّت اور سیلان کو ہی ذکر کیاہے کیونکہ ظاہر یہی ہے اس لئے کہ آخری دونوں یعنی سیراب کرنا اور انبات (اگانا)سمندر کے نمکین پانی میں نہیں پائے جاتے ا ھ کیونکہ آخری دو وصف  (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ)

فی مرسل صحیح رواہ الامام الطحاوی عن راشد ابن سعد عن سید المرسلین صلی الله علیہ وسلم الماء لاینجسہ شیئ الا ماغلب علی ریحہ اوطعمہ اولونہ [7] وھو فی ابن ماجۃ موصولا من حدیث راشد بن سعد عن ابی امامۃ رضی الله تعالٰی عنہ قال قال رسول الله صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ان الماء طھور ولا ینجسہ الا ماغلب علی ریحہ وطعمہ ولونہ[8]  والاخراج علی طبعہ ان لایبقی لہ اثر الغلیان [9] اھ کذا وھو فی نسخۃ سقیمۃ جدا ولعلہ مایقبل ای طبعہ ان یرتفع وینخفض عندالاغلاء اقول :  وھو ایضا من اثر الرقۃ والسیلان والله تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔  (م)                                                                                                                                                                                                                                                            

امام طحاوی  نے صحیح مرسل کے طور پر راشد بن سعد سےروایت کیا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے فرمایاکہ پانی کو ناپاك کر نے والی کوئی چیز نہیں ماسوائے اس کے جو اس کے ذائقہ ، بُو اور رنگ پر غالب ہوجائے اور یہ حدیث ابن ماجہ میں موصولًا راشد بن سعد  نے ابی امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسےروایت کی ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام  نے فرمایا کہ پانی پاك کرتا ہے اس کو ناپاك کر نے والی صرف یہی صورت ہے کہ جب کوئی چیز اس کی بُو ، ذائقہ اور رنگ پر غلبہ پالے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض  نے کہاکہ پانی کی طبیعت یہ ہے کہ اس میں اُبلالنے کی صلاحیت باقی ہو اور اس کو طبیعت سےخارج کر نے کیلئے ضروری ہے کہ اس میں ابلالنے کا اثر باقی نہ رہے اھ کمزور ترین نسخے میں ایسےہی ہے ، ہوسکتا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہو کہ پانی کی طبیعت یہ ہے کہ اُبالنے میں وہ بلالند وپست ہوسکے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ بھی رقت وسیلان کا اثر ہے والله  اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

طبعہ شأنہ عدم الانبات[10]  اھ

اقول :  وھذاوجیہ فان الاصل عدم العارض وان کان لایتم الاستدلال علیہ بقولہ عزوجل وھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج وجعل بینھمابرزخا وحجرا محجورا [11]  ،

فان المرج ھوالخلط والارسال ولایلزم ان یکون فی بدء خلقھما بل بعد تغیر احدھما بعارض والله تعالٰی اعلم فلواکتفی الخادمی بھذا کان رداعلی دعوی ان الثلثۃ من طبع الماء لکنہ اراد قبلہ النقض علی قاعدۃ المتن فی منع الوضوء فانعکس علیہ الامر اذردد فبددفقال ان ارید المجموع من حیث ھو مجموع فیرد بماء البحر اذلیس فیہ ارواء وانبات وان ارید واحد منھا فبنحوماء البطیخ اذفیہ ارواء ولم یجز بہ الوضوء [12] اھ

سمندری پانی میں نہیں ہوتے اھ

اور اس سےدرر پر تعقیب کی گئی ہے ، تو اس کا جواب الوانی ، ابو السعود ، ط اور ش  نے یہ دیا کہ اس کی طبیعت میں انبات ہے مگر اس کا عدمِ انبات کسی عارض کی وجہ سےہے ، جیسےگرم پانی میں ہوتا ہے اھ اور اس کو خادمی  نے رد کیا کہ گرم پانی کی طرح سمندری پانی اپنی طبیعت سےزائل نہیں ہوا ہے کسی عارض کی وجہ سے ، بلالکہ اگر اس کو اس کی طبیعت پر چھوڑ دیا جائے تب بھی اس میں عدمِ انبات ہے اھ (ت)

میں کہتا ہوں یہ بات مدلل ہے کہ اصل عارض کا نہ ہونا ہے اگرچہ اس پر استدلال الله  تعالٰی کے قول  وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌۚ-وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا(۵۳) سےتام نہیں ہوتا ، کیونکہ مرج کے معنی ملانے اور چھوڑ نے کے ہیں ، اور یہ لازم نہیں کہ یہ صورت ان کی ابتداء تخلیق میں ہو ، بلالکہ ان میں سےکسی ایك کو عارض کی وجہ سےمتغیر ہو نے کے باعث ہو والله  تعالٰی اعلم ، تو اگر خادمی اسی پر اکتفا کرلیتے تو یہ اس دعویٰ کا رد ہوجاتا  کہ یہ تینوں چیزیں پانی کی طبیعت ہیں ، لیکن انہوں نے اس سےقبل نقض کا ارادہ کیا وضو کے ناجائز ہو نے کے بارہ میں متن کے قاعدہ پر ، لیکن معاملہ اُلٹ ہوگیا ، اس لئے کہ انہوں نے تردید کی اور تفریق کی ، پس فرمایا اگر تینوں کا من حیث المجموع کا ارادہ کیاجائے تو اس کا رد سمندر کی پانی سےکیا جائےگا ، کہ اس میں نہ اگانا ہے اور نہ زرخیزی ،

 



[1]   اختیار شرح مختار  یجوز الطہارۃ فی الماء  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۴

[2]   مراقی الفلاح  کتاب الطہارۃ  الامیریہ مصر ص۱۵

[3]   البنایۃ باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء  المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۱ / ۱۸۸

[4]   البنایۃ باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء  المکتبۃ الامدادیۃ مکۃ المکرمہ ۱ / ۱۸۸

[5]   طحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارت  نور محمد کارخانہ تجارت کراچی ص۱۵

[6]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی  البابی مصر۱ / ۱۴۵

[7]   شرح معانی الآثار ،  کتاب الطہارۃ ۱ / ۱۹

[8]   سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ  ص۴۰

[9]   البنایۃ ۱ / ۱۸۸

[10]   درر شرح غرر للخادمی  کتاب الطہارت مکتبہ عثمانیہ مصر  ۱ / ۲۱

[11]   القرآن ۵۳ / ۲۵

[12]   درر شرح غرر للخادمی  کتاب الطہارۃ  مکتبہ عثمانیہ مصر  ۱ / ۲۱



Total Pages: 232

Go To