Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

رسالہ ضمنیہ

الدقۃ والتبیان لعلم الرقۃ والسیلان  ۱۳۳۴ھ

(پانی کی) رقّت وسیلان کا واضح بیان (ت)

 

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

 

اب فقیر بتوفیق الملك القدیر عزجلالہ اسباب ثلثہ پر کلام اور  ہر  ایك کے متعلق ابحاث مہمہ ذکر کرے۔

زوال طبع اس میں چند ابحاث ہیں :

بحث اوّل معنی طبیعت۔

اقول : طبع آب سے مراد اس کا وہ وصف ہے کہ لازم ذات ومقتضائے ماہیت ہو جس کا ذات سےتخلف ممتنع ہو

وقال السیدان ط و ش طبعہ ای وصفہ الذی خلق الله تعالٰی علیہ ١[1]

(سید طحطاوی اور سید شامی نے فرمایا پانی کی طبیعت یعنی اس کا وہ وصف جس پر الله  تعالٰی  نے پانی کو پیدا کیا ہے۔ ت

اقول : (۱) ھذا یشمل اللون والطعم والریح ولم یعدھا احدمن الطبع (۲) ویلزمہ ان لایجوز الوضو ء بما انتن اوتغیر لونہ اوطعمہ بطول المکث مثلا لخروجہ اذن عن طبع الماء وھو خلاف اجماع من یعتدبہ (۳) وکذا یردہ اجماع اصحابنا المذکور فی ۱۱۶ الی غیر ذلك عــہ من الاستحالات۔                 

میں کہتا ہوں کہ یہ تعریف رنگ ، ذائقہ اور بُو پر مشتمل ہے حالانکہ کسی نے ان چیزوں کو پانی کی طبیعت میں شمار نہیں کیا اس سے تو یہ لازم آتا ہے کہ ایسے پانی سے وضو جائز نہ ہو جو بدبودار ہوچکا ہو یا زیادہ دیر پڑے رہنے کی وجہ سے اس کا رنگ اورذائقہ تبدیل ہوچکا ہو کیونکہ اس وجہ سے وہ پانی اپنی طبیعت سے خارج ہوچکا ہے حالانکہ یہ بات معتبر اجماع کے خلاف ہے اور یوں ہی یہ بات ہمارے اصحاب (احناف) کے اجماع جس کا ذکر بحث ۱۱۶ میں ہوچکا ہے ، سے مردود ہے ، اس قسم کے بہت سے استحالات لازم آئیں گے۔ (ت)

بحث دوم : طبع آب کی تعیین ، عامہ  علماء نے   اسے رقت(۱) وسیلان سے تفسیر کیا اور یہی صحیح ہے ایضاح و

عــہ منھاان لایجوزالوضوء بماء حار ولابارد ولو باثر ریح لانہ لم یبق علی وصفہ الذی خلق علیہ ونقول لایخلواان الماء بدوخلقہ حارا اوباردا اومعتدلا وایاما کان لم یجز الوضوء بالباقیین الا ان یقال ان المراد بالوصف الثلثۃ لاغیر فانھا ھی المتعارف فیما بینھم عنداطلاق اوصاف الماء ۱۲ منہ غفرلہ۔  (م)

ان محالات میں سےایك یہ کہ لازم آئے گا کہ گرم یا ٹھنڈا پانی ، خواہ ہوا سے سرد ہو ، سے وضو جائز نہ ہو کیونکہ ایسی صورت میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ پانی اپنی اصلی طبیعت سے خارج ہوچکاہے کیونکہ اس وصف پر باقی نہ رہا جس پر اس کو پیداکیاگیا تھا یا ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ پانی کی پیدائش گرم تھی یا سرد تھی یا معتدل تھی جو بھی قرار دی جائے تو دوسری دو صورتوں میں وضو جائز نہ ہو الّا یہ کہ یوں کہا جائے کہ پانی کی طبیعت صرف تین وصف رنگ ، بُو اور ذائقہ ہیں اور کوئی وصف گرم ، سرد وغیرہ معتبر نہیں ہے کیونکہ پانی کے یہی تین وصف متعارف ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی کے جاوصاف کا جب ذکر ہوتا ہے تو یہی تینوں اوصاف متعارف ہوتے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت)

بحر و صدرالشریعۃ وشلبیہ ومجمع الانہر وامداد الفتاح وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے ھو الرقۃ والسیلان [2]

(طبعِ آب رقت وسیلان ہے۔ ت) اسی طرح فتح وغیرہ سے مستفاد یہی فروع میں بہت کلمات کا مفاد ،

کما یظھر بمراجعۃ ماتقدم واقتصر القھستانی و عبدالحلیم علی الرقۃ وعلیہ مشی فی الغنیۃ عندذکرالضابطۃ کمامر فی ۲۸۷ وتراہ مفادکلام الاکثرین فی الفروع اذا تذکرت ماسلف اقول :  وھو حسن وجیہ لماقدمناان الرقۃ تستلزم السیلان ومنھم من اقتصر علی السیلان کالزیلعی والحلیۃ جوالدرر فی ذکر الضابطۃ۔

اقول :  یحمل علی السیلان المعھود من الماء فیستلزم الرقۃیدل علیہ قول الغنیۃ طبعہ سرعۃ  [3] اھ فھذہ مسالك تؤل الی شیئ واحد لکن ثمہ مایخالفھا ففی الدر والدرر طبعہ السیلان والارواء والانبات [4] اھومثلہ فی چلپی علی صدرالشریعۃ واقتصرعلیہ الوانی فی حاشیۃ الدررمن الاخیرین علی الانبات قال نوح افندی ثم السید الازھری ثم ط ثم ش اقتصر علیہ لاستلزمہ الارواء دون العکس فان

جیساکہ گزشتہ بحثوں کے پیش نظر ظاہر ہوتا ہے قہستانی اور عبدالحلیم نے صرف رقت کو پانی کی طبیعت قرار دیاہے ، غنیہ نے بھی ضابطہ کو ذکر کرتے ہوئے  اسی کو اپنایاہے جیسا کہ بحث ۲۸۷ میں گزرا ، اور جب گزشتہ ابحاث کو تُو یاد کرے تو تجھے معلوم ہوگا کہ اکثر حضرات کے کلام کا ماحصل یہی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہی خوبصورت وجہ ہے کیونکہ ہم نے پہلے ذکر کیاہے کہ رقت سیلان کو مستلزم ہے ، اور بعض حضرات نے صرف سیلان کو پانی کی طبیعت قرار دیا ہے جیسا کہ زیلعی اور حلیہ نے کہاہے اور درر نے اس کو ضابطہ میں ذکر کیا ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں کہ اس قول کو پانی کے معینہ سیلان پر محمول کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ سیلان رقّت کو مستلزم ہے اس پر غنیہ کا یہ قول دلالت کرتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پانی کی طبیعت جلد بہنا ہے اھ یہ تمام مسالك ایك ہی چیز کی طرف راجع ہیں مگر یہاں ان کے مخالف بھی قول ہے جیسا کہ دُر اور دُرر میں ہے کہ پانی کی طبیعت سیلان ، سیرابی ، اور اگانا ہے۔ اور صدرالشریعۃ کے حاشیہ پر چلپی میں بھی   اسی طرح ہے اور دُرر کے حاشیہ میں الوانی  نے صرف انبات (اگا نے) کو ہی لیا ہے ، نوح آفندی پھر سید ازہری اور پھر طحطاوی

الاشربۃ تروی ولاتنبت [5] اھ وفی الجوھرۃ طبعہ الرقۃ والسیلان وت  سکےن العطش [6] اھ

 



[1]    ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۵

[2]   شلبیہ علی التبیین کتاب الطہارۃ الامیریہ بولاق مصر    ۱ / ۱۹

[3]   غنیۃ المستملی احکام المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰

[4]   درمختار  باب المیاہ مجتبائی دہلی۱ / ۳۷

[5]   ردالمحتار باب المیاہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴۵

[6]   الجوہرۃ النیرۃ  کتاب الطہارۃ  امدادیہ ملتان ۱ / ۱۴



Total Pages: 232

Go To