Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

“ مشتے نمونہ ازخروارے “ کے مطابق حضرت فاضل بریلوی کی فقہی بصیرت اور تحقیقی صلاحیت کی صرف ایک جھلک پیش خدمت ہے۔ پانی کے حصول یااس کے استعمال سے عجز کی صورت میں تیمم کی اجازت ہے عام کتب فقہ اور فتاوٰی میں اس عجز کی چندصورتیں بیان کی جاتی ہیں لیکن امام احمدرضارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے پانی سے عجز کی ایک سو پچھتّر۱۷۵ صورتیں بیان کی ہیں لیکن اس کے باوجود خودپسندی اور بڑائی کے اظہار کی بجائے عجز اور فروتنی کامجسمہ بنے نظرآتے ہیں۔ خود فرماتے ہیں :

 “ الحمدلله ! یہ پانی سے عجز کی پونے دوسو ۱۷۵ صورتیں اس رسالہ کے خواص سے ہیں کہ اس کے غیر میں نہ ملیں گی اگرچہ جوکچھ ہے علماءِ کرام ہی کا فیض ہے[1]۔ “

دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق فتاوٰی رضویہ کوآسان اور دلکش پیرائے میں قارئین تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت تھی ، چنانچہ رضافاؤنڈیشن نے الله  تعالٰی کی ذات پربھروساکرتے ہوئے اس اہم ذمّہ داری کابیڑا اٹھایا اور عزمِ صمیم کے ساتھ میدانِ عمل میں قدم رکھ دیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے فتاوٰی رضویہ کی پہلی جلد کانصف اوّل ، عربی عبارات کے ترجمہ ، حوالہ جات کی تخریج اور عمدہ طباعت کے ساتھ دوخوب صورت جلدوں میں جلوہ گرہوکر اہلِ علم سے خراج تحسین وصول کرگیا اور اب اسی آب وتاب کے ساتھ نصفِ آخر کاآدھا حصہ تیسری جلد کی صورت میں آپ کے ہاتھوں میں ہے۔

فتاوٰی رضویہ جلد سوم

شروع شروع میں خیال تھاکہ فتاوٰی رضویہ کہ پہلی جلد(مکمل) اور دوسری جلد سے طہارت کی بحث کو تین جلدوں میں شائع کیاجائے لیکن پہلی دو جلدوں کی طباعت سے اندازہ ہوا کہ کتاب الطہارت کی مکمل بحث چارجلدوں کی متقاضی ہے ، لہٰذا یہ تمام بحث چار۴ضخیم جلدوں میں مکمل ہوگی۔

پیش نظرجلد ، پرانی جلد کے صفحہ ۴۸۴ سے ۷۳۵تک کے مضامین پرمشتمل ہے۔ اس جلد میں اُنسٹھ ۵۹ سوالات کے جوابات (فتاوٰی) ، اقولُ کے عنوان سے ۱۳۲۱ علمی فوائداور۵۰۱ تطفلات ومعروضات مندرج ہیں[2]۔

اس جلد میں بنیادی طور پر طہارت سے متعلق تین موضوعات پرگفتگو کی گئی ہے :

(۱) پانی کی طبع یعنی رقّت وسیلان۔

(۲) کنویں کے مسائل۔

(۳) تیمم سے متعلق تمام ضروری ابحاث۔

پیش نظر جلد میں درج ذیل چھ۶ رسائل بھی شامل ہیں :

(۱) الدقۃ والتبیان لعلم الرقۃ والسیلان ۱۳۳۴ھ        (پانی کی)رقّت وسیلان کاواضح بیان

(۲) حسن التعمم لبیان حدالتیمّم ۱۳۳۵ھ                                   تیمم کی ماہیّت وتعریف کابہترین بیان

(۳) سمح  الندرٰی فیما یورث العجز من الماء ۱۳۳۵ھ    پانی سے عجز کی پونے دوسو۱۷۵ صورتوں کابیان

(۴) الظفر لقول زفر ۱۳۳۵ھ                                                         وقت کی تنگی کے باعث جوازِ تیمم کے بارے میں امام زفررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے قول کی تقویّت۔

(۵) المطر السعید علی نبت جنس الصعید۱۳۳۵ھ                       جنسِ زمین سے کیامراد ہے ۔ (تحقیقی بیان)

(۶) الجد السدید فی نفی الاستعمال عن الصعید۱۳۳۵ھ                جنسِ زمین بالکل مستعمل نہیں ہوتی۔

فتاوٰی رضویہ جلد اول (قدیم) کے حاشیہ پرمبسوط فوائد کویک جا کرکے “ فوائدجلیلہ “ کے نام سے چوتھی جلد کے آخر میں لایاجارہاہے۔ ان فوائد کی ترتیب وتبویب کافریضہ فاضلِ جلیل مولانا محمدعبدالستارسعیدی ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ لاہورنے انجام دیاہے۔

رضافاؤنڈیشن کے ارکان ، ہندوستان کے عظیم محقق علّامہ محمد احمدمصباحی(بھیروی) دامت برکاتہم العالیہ کے بے حد ممنون ہیں جنہوں نے اپنی گوناگوں علمی مصروفیات کے باوجود مختصروقت میں باب التیمم سے آخرتک کی عربی عبارات کانہایت سلیس اور شستہ ترجمہ فرمایا۔

علّامہ محمداحمد مصباحی(بھیروی) حضرت حافظِ ملّت علّامہ عبدالعزیز محدّث مرادآبادی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِتعالٰی کے قابلِ فخرشاگرد اور برصغیرپاک وہندکی مایہ نازمادرعلمی “ الجامعۃ الاشرفیہ ، مبارک پور (ہندوستان) کے شیخ الادب ہیں۔ آپ قدیم وجدید علوم کے ماہر ، کئی علمی تحقیقی کتب کے مصنف اور مترجم ہیں۔ حضرت امام احمدرضابریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے متعدد رسائل اور فتاوٰی کو ترجمہ ، تحقیق اور تحشیہ کے بعد عام اُردو خوان حضرات کے لیے آسان بناچکے ہیں۔ اس وقت فنِ لُغت پرایک مبسوط اور وقیع کتاب تحریر کررہے ہیں۔

علامہ مصباحی ، امام احمدرضابریلوی قدس سرہ کی علمی شخصیّت اور آپ کی تحقیقات جلیلہ کو علم ودانش کی دنیا میں متعارف کرانے میں نمایاں کردار اداکرنے والے ادارے المجمع الاسلامی مبارک پور کے روح رواں ہیں۔ اور بقول علّامہ بدرالقادری(ہالینڈ) علّامہ محمداحمد مصباحی ، حضرت حافظِ ملّت علیہ الرحمۃکی نگاہِ کیمیا کاانتخاب اور ان کی پاکیزہ دعاؤں کاثمرہ ہیں۔ الله  تعالٰی علّامہ محمداحمدمصباحی مدظلہ کی دینی وملّی خدمات کوشرفِ قبولیت اور اُمتِ مسلمہ کوان کے علمی جواہرپاروں سے استفادہ کی توفیق عطافرمائے۔ آمین!

قارئین کرام!رضافاؤنڈیشن نے ایک علمی ذخیرہ آپ کے حوالے کردیا ہے ، اس کوبہتر سے بہترین کی طرف لے جانے کے لیے اپنے قیمتی مشوروں اور اس اہم منصوبے کی تکمیل کے لیے اپنی پرخلوص دعاؤں سے نوازتے رہئے۔ الله  تعالٰی ہم سب کاحامی وناصر ہو۔ آمین بجاہِ نبیہ الکریم علیہ التحیۃ والتسلیم!

۴شعبان المعظم ۱۴۱۲ھ           ٭           محمدصدیق ہزاروی

۹فروری۱۹۹۲ء                                                         جامعہ نظامیہ رضویہ ، لاہور

 



[1]   حوالہ کے لیے پیشِ نظر جلد کے صفحات ۴۱۱ تا۵۴۲ ملاحظہ کیجئے

[2]   حضرت امام احمد رضابریلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے بعض مقامات پراسلاف فقہاء کرام سے فقہی علمی اختلاف کیا ہے لیکن اسے ادباً تطفل ومعروضہ سے تعبیر کیا ہے۔ تطفل کامطلب اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنا ہے گویا امام احمدرضابریلوی قدس سرّہ کی طرف سے ان بزرگوں پراعتراض نہیں بلکہ ان کی خدمت میں عرض وگزارش ہے۔



Total Pages: 232

Go To