Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

(۱) سانبھر (۲) پارا یہ سب اقوال پروارد ہیں کہ نہ آگ سے جلیں نہ گلیں نہ پگھلیں نہ نرم پڑیں نہ راکھ ہوں (۳) اولا (۴) پالا (۵) کَلْ کابرف (۶) رال (۷) کافور (۸) زاج تین قول اول پر کہ نہ راکھ ہوں نہ آگ سے منطبع (۹) کیچڑ جس میں پانی غالب ہو(۱۰) پانی (۱۱) عرق (۱۲) عطر (۱۳) ماء الجبن (۱۴) دودھ (۱۵) بہتاگھی (۱۶) تیل (۱۷) گازوغیرہا اشیا کہ نہ آگ سے نرم ہوں نہ راکھ ہوں نہ ان میں سات قول پیشین پر (۱۸) جماہواگھی (۱۹) شکر کاقوام۔ قول ششم پرکہ نہ راکھ ہوں نہ ان میں ذوبان واطباع کااجتماع کماتقدم فی بیان النسب (جیسا کہ نسبتوں کے بیان میں گزرچکا۔ ت)

(۲۰) علامہ برجندی نے عبارت ہفتم پرخود راکھ سے نقض کیا شرح نقایہ میں عبارت زادالفقہاء نقل کرکے لکھا :

ھذا یدل علی ان التیمم بنفس الرماد یجوز وقد ذکرفی الخلاصۃ اجمعوا انہ لایجوز لکن ذکرفی النصاب قال ابوالقاسم یجوز وابونصر لاوبہ نأخذ[1]۔                   

اس سے پتاچلتاہے کہ خود راکھ سے تیمم جائز ہے حالانکہ خلاصہ میں ہے کہ اس پرعلماءکااجماع ہے کہ راکھ سے تیمم ناجائزہے۔ لیکن نصابمیں لکھا ہے کہ ابوالقاسم کہتے ہیں : جائز ہے۔ اور ابونصر کہتے ہیں ناجائز ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں۔ (ت)

اقول :  بلکہ وہ سب اقوال پرنقض ہے کہ راکھ نہ آگ سے نرم پڑے نہ جلے نہ دوبارہ راکھ ہو۔

بالجملہ کوئی قول کوئی عبارت متعدد نقوض سے خالی نہیں ،

والله المستعان لکشف الران٭والصلٰوۃ والسلام الاتمان٭علی سیّد الانس والجان٭واٰلہ وصحبہ٭وابنہ وحزبہ٭فی کل حین واٰن٭اٰمین۔

اور الله تعالٰی ہی سے اس دشواری والتباس کے ازالہ کے لیے مدد طلی ہے اور کامل درود وسلام ہو انس وجن کے سردار اور ان کی آل ، اصحاب فرزند اور ان کی جماعت پرہرلمحہ ہرآن۔ الٰہی قبول فرما۔ (ت)

استعانت توفیق بطلبِ تحقیق

اقول بعونہٖ عزوجل عبارات علماء کے اسالیب مختلفہ پراشکالات اور تعریفات کی جامعیت پرنقوض سب کاحل ان تین حرفوں میں ہے :

(۱) احتراق سے ترمّد مقصود اور ایسے اطلاقوں کے اطلاق فقہا سے اکثرمعہود والہذاحلیہ نے ترمد لے کردوجگہ صرف احتراق کہا۔

(۲) رماد کے تین اطلاق ہیں :

ایك عامتر کہ صوراحتراق میں انتفاد وانطفا کے سوا سب کوشامل یعنی بقیہ جسم بعد زوال بعض باحتراق۔ باایں معنی احجار مکلسہ بھی اس میں داخل ، تذکرہ داؤد وانطاکی میں ہے :

(رماد) ھو مایبقی من الجسد بعد حرقہ ومنہ ماخص باسم فیذکر کالنورۃ والاسسفیداج وماخص باسم الرماد وھوالمذکورھنا [2]۔

رماد۔ کسی جسم کاوہ جز ہے جو اس کے جلنے کے بعد رہ جاتاہے اس میں سے بعض وہ چیزیں ہیں جن کا کوئی خاص نام پڑگیا ہو انہیں تواسی نام کے تحت ذکرکیاجائے گا جیسے نورہ اور اسفیداج اور بعض چیزیں وہ ہیں جن کو رماد ہی کانام دیا جاتاہے وہی یہاں مذکورہیں۔ (ت)

جامع عبدالله بن احمد مالقی اندلسی ابن البیطار میں جالینوس سے ہے :

الناس یعنون بہ الشیئ الذی یبقی من احتراق الخشب (الی ان قال) والنورۃ ایجا نوع من الرماد[3]۔

لوگوں کے نزدیك اس لفظ سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جولکڑی كے جلنے كے بعد رہ جاتی ہے (یہاں تك کہ کہا) اور نورہ بھی رماد ہی کی ایك قسم ہے۔ (ت)

دوسرا : متوسط کہ اجزائے رطبہ کثیرہ فی الجزم فنا ہونے کے بعد جو اجزائے یابسہ بچیں رماد ہیں عام ازین کہ جسم بستہ رہے جیسے کوئلہ ، یانہیں جیسے لکڑی کی راکھ۔ اسی قبیل سے ہے رماد عقرب کہ عقرب نرکولوہے یاتانبے یامٹی کے برتن میں رکھ کر سرخمیر سے بند کرکے اس تنور میں شب بھررکھتے ہیں جسے گرم کرکے آگ اس میں سے بالکل نکال لی ہو اور سرِ تنور بند کردیتے ہیں کہ گرمی باقی رہے اور تاکید ہے کہ تنور بہت گرم نہ ہو کہ عقرب خاك نہ ہوجائے[4] کما فی القرابادین الکبیر والمخزن وغیرھما (جیسا کہ قرادین کبیر اور مخزن وغیرہمامیں ہے۔ ت)صبح نکال کرپیس کرسنگِ گردہ  ومثانہ وعسرالبول وغیرہا کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ۱  شرعًا ناجائز ہے۔

تیسرا : خاص ترخاکسترکہ جسم کثیر الرطوبات اتناجلایاجائے کہ رطوبات سب فناہوجائیں اور جسم ریزہ ریزہ ہو یاہاتھ لگائے ہوجائے کہ رطوبت باعثِ اتصال وتماسك ہے یعنی اجزامیں باہم گرفت ہونا اور یبوست باعث تفتت وتشتت یعنی ریزہ ریزہ ومنتشر ہوناجیسے گندھا ہوا آٹا اور خشك۔ تاج العروس میں ہے :

الرماد دقاق الفحم من حراقۃ النار وما ھبامن الجمر فطار  دقاقا[5] اھ وفی القاموس الفحم الجمر الطا فی[6] ۱ھ

اقول :  اصاب فی جعل الرماد  دقاقا وفی (۲) اضافتھا الی الفحم نظر فالفحم المدقوق لایسمی رمادا وانما ھو ما ذکرنا من اجزاء الجسم الیابسۃ المتفتتۃ بعد الاحراق التام۔                                                                                                                                                                                                     

(رماد) آگ سے جلی ہوئی چیز کے کوئلے کے ریزے اورانگارے میں سے وہ جوغبار ہوکرریزہ ریزہ اڑے ۱ھ۔ اور قاموس میں ہے الفحم۔ بجھاہوا انگار(یعنی کوئلہ) ۱ھ۔ (ت)اقول : تاج العروس میں “ رماد “ ریزوں کو بنانا تودرست ہے مگرکوئلہ کی طرف اس کی اضافت محلِ نطرہے کیونکہ پِسے ہوئے کوئلہ کورماد (راکھ) نہیں کہاجاتا۔ رماد وہی ہے جو ہم نے بتایا یعنی جسم کے وہ اجزا جو مکمل طور سے جلانے کے بعد خشك اور ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ (ت)

عرف عامہ میں رماد کازیادہ اطلاق اسی صورت اخیرہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ غالبًا اس سے لکڑی کی راکھ مراد لیتے ہیں کما تقدم عن ابن البیطار عن جالینوس (جیسا کہ ابن بیطار سے بحوالہ جالینوس بیان ہوا۔ ت) اور وہ ایسی ہی ہوتی ہے یہاں اس سے مراد معنی اوسط ہے کہ اس شکل ثالث کوبھی شامل۔

 



[1]   شرح النقایۃ للبرجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ ۱ / ۴۷

[2]   تذکرہ داؤد وانطاکی ، حرف الراء میں رماد کے تحت مذکورہے ، مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۰

[3]   جامع ابن بیطار