Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

علامہ ابن امیرالحاج حلبی نے جنس ارض میں نفی اطباع ولین دوجگہ لکھ کرغیرجنس میں فقط لین کانام لیا۔ حلیہ میں ہے :

قال مشایخنا جنس الارض مالایحترق بالنار فیصیر رمادا ومالایلین ولاینطبع ویدخل فیما لایلین ولاینطبع ولایحترق الیاقوت ومااحترق بالنار او لان بہا فلیس من جنس الارض[1]۔

ہمارے مشائخ نے فرمایا جنس ارض وہ ہے جو آگ سے جل کر راکھ نہ ہوجائے اور جونرم نہ ہو اور منبع نہ ہو۔ یاقوت بھی انہی چیزوں میں داخل ہے جو نہ نرم ہوتی ہیں نہ منطبع ہوتی ہیں نہ جلتی ہیں۔ اور جو آگ سے جل جائے یا اس سے نرم ہوجائے وہ جنسِ ارض سے نہیں۔ (ت)

یہ اس عینیت وجزئیت اور ان کے علاوہ لزوم کوبھی محتمل یعنی لین لازم انطباع ہوکہ جب کہہ دیا کہ جو آگ پرنرم پڑے جنسِ ارض نہیں اس سے خود ہی معلوم ہوا کہ جو منطبع ہو جنسِ ارض نہیں کہ تینوں تقدیروں پرہرمنطبع میں لین ضرور ہوگا اور اس سے نفی جنسیت کرچکے مگرصدرکلام میں لین پرانطباع کاعطف ہے اور اسی طرح شرح نقایہ برجندی میں زادالفقہاء سے ہے : یلین وینطبع[2] (نرم اور منطبع ہو۔ ت) یہ عینیت کی تضعیف کرتاہے کہ عطف تفسیری میں معطوف زیادہ مشہور ومعروف چاہئے نہ کہ یہ بالعکس لین میں کیاخفا تھی کہ اسے تفسیر کیا اور کاہے سے انطباع سے جس کے معنی میں یہ کچھ خفاہے۔ باقی کتب کثیرہ مثل تحفۃ الفقہا و بدائع ملك العلماء و کافی و مستصفٰی و جوہرہ نیرہ و غنیہ و بحرو مسکین و ایضاح و ہندیہ میں اس کاعکس ہے۔ ینطبع ویلین [3] (منطبع اور نرم ہو۔ ت) یہاں برتقدیر عینیت عطف تفسیری بے تکلف بنتاہے اور برتقدیر جزئیت ولزوم بعد انطباع ذکرلین لغو

عــہ :  انہیں کااتباع اخی چلپی نے کیا کماسیأتی (جیسا آگے آئے گا۔ ت) ۱۲منہ غفرلہ (م)

رہتاہے۔ عنایہ میں سب سے جدا اوینطبع اویلین [4]_______ بحرف تردید ہے کہ یہ منطبع ہویانرم پڑے ، یہ عطف تفسیری کی رگ کاٹتاہے۔ غرض ان مفادات میں امرمشوش ہے۔

واقول : تحقیق یہ ہے کہ انطباع طبع سے ماخوذ ہے طبع بمعنی عمل وصنعت ہے۔ قاموس و تاج العروس میں ہے :

(و) الطبع ابتداء صنعۃ الشیئ یقال طبع الطباع (السیف) اوالسنان صاغہ (و) السکاك (الدرھم) سکہ (و) طبع (الجرۃ من الطین عملہا[5])

طبع __  کسی چیز کے بنانے کی ابتداء __ کہاجاتاہے طبع الطباع السیف اوالسنان (ڈھالنے والے نے تلوار یانیزہ ڈھالا یعنی بنایا) اور السکاك الدرھم یعنی سکہ ساز نے درہم بنایا۔ اور طبع الجرۃ من الطین یعنی مٹّی سے گھڑابنایا۔ (ت)

توانطباع بمعنی قبول صنعت ہے یعنی شے کاقابلِ صنعت ہوجانا کہ وہ جس طرح گھڑناچاہے گھڑسکے جس سانچے میں ڈھالناچاہے ڈھل سکے اور یہ نہ ہوگا مگربعد لین ونرمی تولین نہ اس کاعین ہے نہ جز بلکہ اس کی علت اور گھڑنے کی صورت میں اسے لازم ہے جیسے سونے چاندی لوہے کاآگ سے نرم ہوکرہرقسم کی گھڑائی کے قابل ہوجانا اور ڈھالنے کی صورت میں ذوبان اس کی علّت اور اسے لازم ہے ، جیسے سونے چاندی کوچرخ دے کر روپیہ اشرفی اینٹ بنانا ، مغرب۸ میں ہے :

قول شمس الائمۃ السرخسی مایذوب و ینطبع ای یقبل الطبع وھذا جائز قیاسا وان لم نسمعہ[6]۔

شمس الائمہ سرخسی کی عبارت ہے : مایذوب وینطبع یعنی جوپگھلے اور ڈھلائی قبول کرے۔ قیاسًا یہ جائز ہے اگرچہ ہم نے اسے نہ سنا۔ (ت)

اقول : عند التحقیق کلام شیخ الاسلام تمرتاشی کابھی یہی مفاد۔ پُرظاہرکہ بالفعل پارہ پارہ ہوجانا مراد نہیں بلکہ اس کی قابلالیت ، اور وہ دوطورپرہوتی ہے ، ایك یہ کہ چیز سخت ہو کہ ضرب سے بکھرجائے جیسے کھنگریہ انطباع (پارہ پارہ کیاجائے۔ ت) اور یہ نہ ہوگا مگربصورت لین ولہٰذا ویلین (اورنرم پڑے۔ ت) اضافہ فرمایا کہ قابلیت صنعت بوجہ لین پر دلالت کرے  والله الموفق (اور الله توفیق دینے والا ہے۔ ت) شاید یہی نکتہ ہے کہ منح نے اپنے متبوع درر کے قول سے عدول فرمایا والله تعالٰی اعلم۔

تنبیہ : ہماری تقریر سے واضح ہوا کہ مٹّی بھی منطبع ہوتی ہے ابھی قاموس سے گزرا ، طبع الجرۃ من الطین [7](مٹی سے گھڑابنایا۔ ت) مگریہاں مراد وہ ہے جس کی صلاحیت آگ سے نرم ہوکرپیداہوئی ہو ولہٰذا فتح القدیر میں فرمایا : اذا حُرّق لاینطبع [8] (جب جلایاجائے تومنطبع نہ ہو۔ ت) مراقی الفلاح میں ہے : ینطبع بالاحراق[9] (جلانے سے منطبع ہو۔ ت)عامہ علمانے کہ یہاں منطبع مطلق چھوڑاہے اس سے یہی منطبع بالنارمراد ہے جس طرح لین وذوبان کوبھی اکثر نے مطلق رکھا اور مراد وہی ہے کہ نار سے ہو ورنہ پانی میں مٹّی بھی گلتی پگھلتی ہے۔

بیانِ نِسَب : احتراق وترمُّد میں نسب اوپرگزری کہ ترمُّد اس سے خاص اور اسی کی چارصورتوں سے ایك صورت ہے۔ رہے باقی تین اقول : (میں کہتاہوں۔ ت) ان میں لین وذوبان اُن معانی پرکہ ہم نے تقریر کئے خودمتباید ہیں ، مگریہاں کلام اُن کی صلاحیت میں ہے کہ جو اس کے صالح ہو جنس ارض سے نہیں بسب صلاحیت لین دونوں سے عام ہے جو ذائب ہوگا پہلے نرم ہی ہوکرذائب ہوگا یونہی سخت چیز میں گھڑنے کی صلاحیت نرمی ہی سے آئے گی اور جوآگ سے نرم ہوسکے یہ ضرورنہیں کہ بہہ بھی سکے یاگھڑنے ڈھالنے کے بھی قابل ہوسکے جیسے چونے کاپتھر وغیرہ احجارمکلَّسہ اور ذوبان وانطباع میں عموم وخصوص من وجہ ہے سوناچاندی ذائب بھی ہیں اور منطبع بھی ، اورجماہواگھی ذائب ہے منطبع نہیں اور شکر کاقوام منطبع ہے ذائب



[1]   حلیہ

[2]   شرح نقایۃ برجندی فصل فی التیمم مطبوعہ نولکشورلکھنؤ  ۱ / ۴۷

[3]   فتاوٰی ہندیۃ  فصل اول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۶

[4]   العنایۃ مع الفتح باب التیمم  نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۲

[5]   تاج العروس فصل الطاء من باب العین احیاء التراث العربی بیروت ۵ / ۴۳۸

[6]   المغرب

[7]   القاموس المحیط فصل الطاء ، باب العین مطبع مصطفی البابی مصر ۳ / ۶۰

[8]   فتح القدیر ، باب التیمّم  ، نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۱۱۲

[9]   مراقی الفلاح مع الطحطاوی باب التیمم مطبعۃ ازہریۃ مصر ص۶۹



Total Pages: 232

Go To