Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

میں تیمم کرلے۔ ایسا ہی نوازل میں ہے “ اھ (ت)اور حلیہ میں ہے : “ فقیہ ابو اللیث نے خزانۃ الفقہ میں اس صورت میں تیمم کو مطلقًا جائز کہا ہے جب اس کے اور پانی کے مابین اتنی مسافت ہو جسے وقتِ نماز کے اندر طے نہیں کرسکتا “ ۔  اھ اور حلیہ میں بحوالہ مجتبٰی وقنیہ اور ہندیہ میں بحوالہ زاہدی وکفایہ اور ان سب میں بحوالہ جمع العلوم یہ ہے : “ مچھر یا بارش یا سخت گرمی کا اندیشہ ہو تو کلہ (مچھر دانی جیسے چھوٹے

وفیھا وفی البحر عن المبتغی بالغین من کان فی کلۃ جاز تیممہ لخوف البق اومطر اوحرشدید ان خاف فوت الوقت [1]  اھ وفیھا عن القنیۃ عن نجم الائمۃ البخاری لوکان فی سطح لیلا وفی بیتہ ماء لکنہ ئخاف الظلمۃ ان دخل البیت لایتیمم اذالم ئخف فوت الوقت قال وفیہ اشارۃ الی انہ اذاخاف الوقت تیمّم[2]  اھ۔ وفی البحر عنھا اعنی القنیۃ بلفظ تیمم ان خاف فوت الوقت [3]  اھ ولم یعزہ لنجم الائمۃ بل جعلہ تفریعا علی الروایۃ عن مشائخنا رضی الله تعالٰی عنھم۔ قال فی الحلیۃ بعد ایرادھا ھذا کلہ فیما یظھر تفریع علی مذھب زفر فانہ لاعبرۃ عندہ للبعد بل للوقت بقاء و خروجا قال ولعل ھذا من قول ھٰؤلاء المشائخ اختیار لقول زفر فان الحجۃ لہ علی ذلك قویۃ[4]  اھ۔

خیمہ) میں تیمم کرسکتا ہے “ ۔ اھ۔

حلیہ اور بحر میں مبتغی (غین سے) کے حوالہ سے ہے : “ جو کسی مچھر دانی جیسے محفوظ چھوٹے خیمہ میں ہو تو مچھر یا بارش یا سخت گرمی کے اندیشہ سے اس کیلئے تیمم جائز ہے اگر وقت نکل جانے کا خطرہ ہو “ ۔ اھ اور حلیہ میں بحوالہ قنیہ نجم الائمہ بخاری سے نقل ہے : “ اگر رات کو چھت پر ہو اور گھر کے اندر پانی ہے لیکن گھر کے اندر داخل ہوتا ہے تو تاریکی کا خطرہ درپیش ہے ایسی صورت میں اگر وقت نکلنے کا اندیشہ نہ ہو توتیمم نہ کرے فرمایا : اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اگر وقت نکلنے کا اندیشہ ہو توتیمم کرلے اھ بحررائق میں قنیہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل ہیں : “ اگر وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو توتیمم کرلے “ اھ۔ بحر نے اسے نجم الائمہ کی طرف منسوب نہ کیا بلکہ اسے مشائخ مذہب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی روایت پر تفریع قرار دیا۔ حلیہ میں عبارات بالا نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے : “ بظاہر یہ سب امام زفر کے مذہب پر تفریع ہے اس لئے کہ ان کے نزدیك دوری کا اعتبار نہیں بلالکہ وقت باقی رہنے اور نکل جانے کا اعتبار ہے “ فرمایا شاید ان مشائخ کے یہ اقوال اس بنیاد پر ہیں کہ انہوں نے امام زفر کا قول اختیار کیا ہے کیونکہ اس مسئلہ سے متعلق امام زفر کی دلیل قوی ہے اھ۔

بل قدذکر الشامی ان الفتوی فی ھذا علی قول زفر وانہ احد المواضع العشرین التی یفتی فیھا بقولہ ذکرھا فی باب النفقۃ کتاب الطلاق ونظمھا نظما حسنا قال فیہ وبعد فلایفتی بما قالہ زفر٭سوی صور عشرین تقسیمھا انجلی٭لمن خاف فوت الوقت ساغ تیمم٭ولکن لیحتط بالاعادۃ غاسلا[5] ۔

الجملۃ الثالثۃ تقویۃ دلیلہ ویستدل لہ بوجوہ :

اوّلھا : ماقال المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر لہ ان التیمم لم یشرع الا لتحصیل الصلاۃ فی وقتھا فلم یلزمہ قولھم ان الفوات الی خلف کلا فوات [6]  اھ

واجیب عنہ اوّلا کما ابدی البحران جوازہ للمسافر بالنص لا لخوف الفوت بل لاجل ان لاتتضاعف علیہ الفوائت ویحرج                             

بلکہ علّامہ شامی نے تو یہ ذکر کیا ہے کہ اس بارے میں فتوٰی امام زفر کے قول پر ہے اور یہ ان بیس۲۰ مقامات میں سے ایك ہے جن میں امام زفر کے قول پر فتوٰی دیا جاتا ہے ، کتاب الطلاق باب النفقہ میں ذکر کیا ہے اور بڑی خوش اسلوبی سے نظم کیا ہے۔ نظم میں یہ ہے (حمد وصلٰوۃ کے بعد) امام زفر کے قول پر فتوٰی نہ دیا جائےگا مگر صرف بیس(۲۰) صورتوں میں جن کی تقسیم روشن ہے ان میں ایك یہ بھی ہے کہ اس کیلئے جسے وقت فوت ہونے کا اندیشہ ہوتیمم جائز ہے لیکن احتیاطًا پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے “ ۔

جملہ ثالثہ۔ دلیل امام زفر کی تقویت

اس پر چند طرح استدلال کیا جاتا ہے :

دلیل اوّل : محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں فرمایا ہے : امام زفر کی دلیل یہ ہے کہ تیمم اسی لئے تو مشروع ہوا ہے کہ نماز کی ادائیگی وقت کے اندر کی جاسکے۔ لہذا اس جواب سے ان پر الزام نہیں آتا کہ “ نماز کا نائب کی جانب فوت ہونا ، فوت نہ ہونے کی طرح ہے۔

جواب ۔ اوّلًا : جیسا کہ بحر نے اظہار کیا : “ مسافر کیلئے “ نص سے “ تیمم کا جواز فوتِ وقت کے اندیشہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے ہے کہ اس کے ذمّہ فوت شدہ نمازیں زیادہ نہ ہوں اور قضاء میں

فی القضاء [7] ۔

اقول : لافائدۃ(۱) لقولہ جوازہ بالنص فان النص لیس تعبدیا کما یفیدہ اٰخر کلامہ ولوکان کذا لم یجیزوہ لصلاۃ الجنازۃ والعید فان النص انما وردفی المریض والمسافر۔

اما التعلیل فاقول اما(۲) تجیزونہ لبعد الماء میلا ولوفی جھۃ مسیرہ فانی فیہ تضاعف الفوائت وایضا خوف(۳) التضاعف ان کان ففی الاسفار

البعیدۃ ولیس السفرفی الکریمۃ سفر القصر بل یشمل من خرج من المصرو لولاحتطاب اواحتشاش اوطلب دابۃ کما افادہ فی الخانیۃ والمنیۃ وقال فی الھدایۃ والعنایۃ جواز التیمم لمن کان خارج المصر وان لم یکن مسافرا اذا کان بینہ وبین الماء میل [8]  اھ

وقد نقلتم عن الخانیۃ                                       

اسے زحمت نہ ہو “ ۔ اھ

اقول : “ نص سے “ جواز کہنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس لئے کہ نص تعبدی نہیں (بلکہ قیاسی اور معلّل ہے) جیسا کہ ان کی آخری عبارت سے خود ہی مستفاد ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو نماز جنازہ اور نماز عید کیلئے بھی تیمم جائز نہ کہتے کیونکہ نص تو صرف مریض اور مسافر کے بارے میں آئی ہے۔ اب انہوں نے جو علّتِ جواز بیان کی ہے اس پر کلام کیا جاتا ہے

 



[1]   البحرالرائق  باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۴۰

[2]   حلیہ

[3]   بحرالرائق  باب التیمم ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۹

[4]   حلیہ

[5]   ردالمحتار   باب النفقۃ  مصطفی البابی مصر ۲ / ۷۲۶

[6]   فتح القدیر باب التیمم  نوریہ رضویہ سکھّر ۱ / ۱۲۳

[7]   البحرالرائق باب التیمم قول لالفوت الجمعۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۹

[8]   العنایۃ مع الفتح باب التیمم   نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۰۷



Total Pages: 232

Go To