Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

ہمارے تینوں مشائخ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی ایك روایت ہے “ ۔ اھ۔ (ت)

اقول : خدا اپنی رحمت سے علامہ کو نوازے تلاش مطلوب میں بہت دُور نکل گئے اور نقل وہ پیش کی جو صریح نہیں۔ اس لئے کہ لالفوت الجمعۃ (فوتِ جمعہ کے اندیشہ سے جوازتیمم نہیں) کے تحت بحر کے الفاظ یہ ہیں : “ ہم قنیہ کے حوالے سے پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے جوازِتیمم ہمارے مشائخ کی ایك روایت ہے “ ۔ اھ اور اس سے پہلے جو ذکر کیا ہے وہ ان کی درج ذیل عبارت ہے جو لبعدہ میلا کے تحت کِلّۃ (مچھّر دانی یا اسی قسم کا خیمہ) سے متعلق آنے والے جزئیہ کو ذکر کرنے کے بعد لکھی ہے : “ پوشیدہ نہ رہے کہ یہ مسئلہ قول امام زفر سے مناسبت رکھتا ہے ہمارے ائمہ کے قول سے مناسبت نہیں رکھتا۔ اس لئے کہ ان کے نزدیك فوت وقت کے اندیشہ کا اعتبار نہیں۔ صرف دُوری کا اعتبار ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا۔ منیۃ المصلی کی شرح میں بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن مجھے یہ بیان بھی ملا کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے جوازتیمم ہمارے مشائخ سے بھی ایك روایت میں آیا ہے۔ اسے قنیہ میں دو مصیبتوں میں مبتلا ہونے والے سے متعلق مسائل کے تحت بیان کیا ہے “ ۔ اھ (ت)

المعروف اطلاق مشائخنا علی من بعد الائمۃ رضی الله تعالٰی عنھم نعم قد یستفاد من ھذا الاستدراك ان مرادہ بمشائخنا الائمۃ الثلثۃ والاوضح سندا والاجل معتمدا مافی الحلیۃ والغنیہ عن المجتبی عن الامام شمس الائمۃ الحلوانی المسافر (۱) اذا لم یجد مکانا طاھرا بأن کان علی الارض نجاسات وابتلت بالمطر واختلطت فان قدر علی ان یسرع المشی حتی یجد مکانا طاھرا للصلاۃ قبل خروج الوقت فعل والا یصلی بالایماء ولایعید ثم قال الحلوانی اعتبر ھھنا خروج الوقت لجواز الایماء ولم یعتبرہ لجواز التیمم ثمہ وزفر سوی بینھما وقد قال مشائخنا فی التیمم انہ یعتبر الوقت ایضا والروایۃ(۲) فی ھذا روایۃ لہ اذلافرق بینھما والروایۃ فی فصل التیمم روایۃ فی ھذا ایضا قال الحلوانی فاذا فی المسألتین جمیعا روایتان [1] اھ۔

یہ صریح اس لئے نہیں کہ معروف یہ ہے کہ مشائخ کا لفظ ان حضرات کیلئے استعمال ہوتا ہے جو ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے بعد آئے ہیں ہاں ان کے اس استدراك (لیکن مجھے یہ بیان بھی ملا الخ) سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ “ ہمارے مشائخ “ کے لفظ سے وہ ائمہ ثلاثہ کو مراد لے رہے ہیں۔ سند کے لحاظ سے زیادہ واضح اور اعتماد کے لحاظ سے زیادہ جلیل القدر عبارت وہ ہے جو حلیہ اور غنیہ میں مجتبی سے ، اور اس میں امام شمس الائمہ حلوانی سے منقول ہے : “ مسافر کو جب پاك جگہ نہ ملے اس طرح کہ زمین پر نجاستیں پڑی ہُوئی تھیں اور زمین بارش سے بھیگ کر نجاستوں سے آلودہ ہوگئی تو اگر وہ یہ کرسکتا ہو کہ تیز چل کر ایسی جگہ پہنچ جائے جہاں وقت نکلنے سے پہلے اسے نماز پڑھنے کیلئے کوئی پاك جگہ مل جائے گی تو ایسا ہی کرے ورنہ اشارے سے نماز ادا کرلے اور اس کا اعادہ اس کے ذمہ نہیں “ پھر حلوانی فرماتے ہیں : جواز اشارہ کیلئے یہاں خروج وقت کا اعتبار فرمایا ہے اور وہاں جوازِتیمم کیلئے اس کا اعتبار نہیں کیا۔ اور امام زفر نے دونوں جگہ برابری رکھی۔ اور ہمارے مشائخ نے تیمم کے بارے میں فرمایا ہے کہ وقت کا بھی اعتبار ہوگا اور اس (مسئلہ مسافر) میں روایت کا ہونا اُس (مسئلہ تیمم) میں بھی روایت ہونا ہے کیونکہ دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اور مسئلہ تیمم میں روایت کا ہونا اس (مسئلہ مسافر) میں بھی روایت ہونا ہے۔ حلوانی فرماتے ہیں : تو دونوں ہی مسئلوں میں دو۲ دو۲ روایتیں ہوں گی “ ۔ اھ (ت)

اقول :  الضمیر فی قولہ اعتبر ھھنا ولم یعتبر ثم لمحمد ومسألۃ المسافر قول ائمتنا فالروایۃ عنھم فیھا روایۃ عنھم فی التیمم انہ یجوز لخوف فوت الوقت ومسألۃ التیمم انہ لایجوز لحفظ الوقت ایضا قولھم فالروایۃ فیھا روایۃ فی مسألۃ المسافر انہ یمشی حتی یخرج من ذلك المکان ولایصلی ثمہ وان خرج الوقت فاذن لھم فی کلتا المسألتین قولان غیران مسألۃ المسافر اشتھرت بحکم الاجازۃ ومسألۃ التیمم بحکم المنع فھذا اقوی مایوجد من تقویۃ قول زفر بموافقۃ ائمتنا الثلثۃ رضی الله تعالٰی عنھم۔

الجملۃ الثانیۃ فروع التشیید واختیار الکبراء قال فی الحلیۃ فی بیان قول زفر قد نقل الزاھدی فی شرحہ ھذا الحکم عن اللیث بن سعد وقد ذکر ابن خلکان انہ رأی فی بعض المجامیع ان اللیث(۱) کان حنفی المذھب واعتمد ھذا صاحب الجواھر المضیئۃ فی طبقات الحنفیۃ فذکرہ فیھا منھم [2]  اھ   

اقول : ان کی عبارت اعتبرھنا ، ولم یعتبر ثم (یہاں اعتبار فرمایا اور وہاں اعتبار نہ کیا) میں ضمیر امام محمد کیلئے ہے۔ اور مسئلہ مسافر ہمارے ائمہ کا قول ہے تو اس مسئلہ میں ان سے روایت ہوناتیمم کے بارے میں بھی ان سے یہ روایت ہونا ہے کہ وقت نکل جانے کے اندیشہ سے بھی جائز ہے اور مسئلہ  تیمم کہ حفظِ وقت کے پیشِ نظرتیمم جائز نہیں یہ بھی ہمارے ائمہ کا قول ہے تو اس میں روایت ہونا مسئلہ مسافر میں بھی روایت ہونا کہ وہ اس جگہ سے چل کر نکل جائے اور وہاں نماز نہ پڑھے اگرچہ وقت جاتارہے۔ اس تفصیل سے ظاہر ہوا کہ دونوں ہی مسئلوں میں ان کے دو۲ قول ہیں ، یہ بات الگ ہے کہ مسئلہ مسافر حکم اجازت سے مشہور ہوگیا اور مسئلہ تیمم حکم ممانعت سے شہرت پاگیا ہمارے ائمہ ثلاثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی موافقت سے امام زفر کے قول کی تقویت پر دستیاب ہونے والی یہ سب سے زیادہ قوی سند ہے۔

جملہ ثانیہ  تائیدی جزئیات

اور بزرگوں کے قولِ امام زفر اختیار کرنے سے متعلق ہے۔ حلیہ میں قول امام زفر کے بیان میں ہے : “ زاہدی نے اپنی شرح میں یہ حکم امام لیث بن سعد سے نقل کیا ہے۔ ابن خلکان نے ذکر کیا ہے کہ بعض تالیفات میں انہوں نے یہ دیکھا کہ امام لیث حنفی المذہب تھے صاحب الجواہر المضئیۃ فی طبقات الحنفیہ نے اس پر اعتماد کیا اور اپنی کتاب میں امام لیث کا بھی ذکر کیا اھ

قال الشامی ثم رأیتہ منقولا عن ابی نصر بن سلام وھو من کبار الائمۃ الحنفیۃ قطعا[3] اھ۔

اقول :  وفی جامع الرموز التقیید بالمیل یدل علی ان فی الاقل لم یتیمم وان خاف خروج الوقت کما فی الارشاد لکن فی النوازل انہ یتیمم حینئذ[4] اھ بل فی الخلاصۃ لولم یعلم ان بینہ وبین الماء میلا اواقل اواکثر ولکن خرج لیحتطب ولم یجد الماء ان کان بحال لوذھب الی الماء خرج الوقت تیمّم فی اٰخر الوقت ھکذا فی النوازل [5] اھ۔ وفی الحلیۃ اطلق الفقیہ ابواللیث فی خزانۃ الفقہ جواز التیمم اذا کان بینہ وبین الماء مسافۃ لایقطعھا فی وقت الصلاۃ [6] اھ وفیھا عن المجتبی والقنیۃ وفی الھندیۃ عن الزاھدی والکفایۃ کلھا عن جمع العلوم لہ التیمم فی کلۃ لخوف البق او مطر اوحرشدید [7] اھ                           

شامی فرماتے ہیں : پھر میں نے دیکھا کہ یہ قول ابو نصربن سلام سے بھی منقول ہے جو بلاشبہ کبار ائمہ حنفیہ میں ہیں “ ۔ اھ (ت)

اقول : جامع الرموز میں ہے : “ میل کی قید یہ بتاتی ہے کہ اس سے کم دوری ہو توتیمم کی اجازت نہیں اگرچہ وقت نکل جانے کا اندیشہ ہو ، جیسا کہ ارشاد میں ہے لیکن نوازل میں ہے کہ ایسے وقت میں تیمم کرلے “ ۔ اھ۔ بلکہ خلاصہ میں ہے کہ : “ اگر یہ پتا نہ ہو کہ اس کے اور پانی کے مابین ایك میل کا فاصلہ ہے کہ یا کم وبیش ہے لیکن (جنگل سے) لکڑی لانے کیلئے نکلا اور اسے پانی نہ ملا اگر ایسی حالت ہو کہ پانی تك جائے تو وقت نکل جائے گا تو وہ آخر وقت



[1]   غنیۃ المستملی   فصل فی التیمم سہیل اکیڈمی لاہور ص۸۳

[2]   ردالمحتار  باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۰

[3]   ردالمحتار  باب التیمم  مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۸۰

[4]   جامع الرموز فصل فی التیمم  مطبعۃ الاسلامیہ ایران ۱ / ۶۵

[5]   خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الخامس فی التیمم مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱ / ۳۱

[6]   حلیہ

[7]   فتاوٰی ہندیۃ الفصل الاول من التیمم نورانی کتب خانہ پشاور ۱ / ۲۸



Total Pages: 232

Go To