Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

تعالٰی کما افادہ فی الفتح فی مسألۃ انہ یصلی بتیممہ ماشاء من الفرائض والنوافل وعند الشافعی رحمہ الله تعالٰی یتیمّم لکل فرض لانہ طہارۃ ضروریۃ[1] ۔

اقول :  ویکدرہ ان ھذا حیث صح التیمم بوجود شرطہ من فقد الماء فانھا طھارۃ مطلقۃ عندنا ولوجوز لمجرد الاستکثار لجاز لمطلق النوافل ولوغیر موقتۃ للعلم القطعی بان ماتصلیہ بالتیمم اکثر مما تصلیہ بعد التوضیئ اوالاغتسال الا(۱) تری ان الذی رخص لہ الصلاۃ علی الدابۃ بالایماء علی غیر القبلۃ لم یرخص لہ فی التیمم اذا قدر علی الماء والرکوب

ضرورت یہ ہے کہ کرم باری عزوجل کے فیضان کے ارادہ سے نیکیوں کی راہیں زیادہ کی جائیں دیکھیے کہ باری تعالٰی نے سواری پر اشارہ سے اور غیر قبلہ کی جانب نفل پڑھنے کو جائز فرمایا جبکہ اس میں نماز کی شرطیں بھی فوت ہوتی ہیں اور ارکان بھی اور ضرورت یہی ہے کہ بندہ کو باری تعالٰی کے فضل کی کثرت طلب کرنے میں زیادتی کی حاجت ہے جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا ہے اس مسئلہ کے تحت کہ بندہ اپنے تیمم سے جس قدر فرائض ونوافل چاہے ادا کرے اور امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکے نزدیك یہ ہے کہ ہر فرض کیلئے تیمم کرے اس لئے کہ تیمم طہارت ضرور یہ ہے۔

اقول : اس استدلال کی صفائی پر کدورت اس جہت سے آتی ہے کہ یہ حکم وہاں ہے جہاں تیمم صحیح ودرست ہوچکا اس طرح کہ تیمم کی شرط پانی کا فقدان پائی جاچکی (تو وہ جس قدر فرائض ونوافل چاہے پڑھ سکتا ہے) اس لئے کہ تیمم ہمارے نزدیك طھارت مُطلقہ ہے۔ اور اگر محض کثرتِ فضل طلب کرنے کیلئے اسے جائز قرار دیا جاتا تو مطلق نوافل کیلئے اس کا جواز ہوتا اگرچہ نوافل ایسے ہوں جو کسی خاص وقت کے پابند نہیں اس لئے کہ یہ بات قطعی طور پر معلوم ہے کہ وضو یا غسل کرنے کے بعد جس قدر نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں تیمم کرکے اس سے زیادہ نمازیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ دیکھئے جس کیلئے

والنزول مع ان مکثہ فی طلب الطھارۃ بالماء وقلۃ نوافلہ اکثر من المقیم فی بیتہ وعندہ الماء۔

سواری پر اشارہ سے ، اور غیر قبلہ کی سمت نماز پڑھنے کی رخصت دی گئی اس کیلئے پانی اور چڑھنے اُترنے پر قدرت ہوتے ہوئے تیمم کی رخصت نہ دی گئی جب کہ پانی سے طہارت حاصل کرنے میں اس کے توقف کی مدّت اور اس کے نوافل کی کمی اس مقیم سے زیادہ ہوگی جو اپنے گھر میں ہے اور اس کے پاس پانی بھی موجود ہے۔ (ت)

بالجملہ فقیر کے نزدیك مستحبات محضہ مثل نماز خسوف وتہجد وچاشت میں یہ حکم خلافِ دلیل ہے اس کیلئے ائمہ سے نقل درکار تھی اور وہ منتفی بلکہ نقل جانب نفی نفل ہے کما تقدم وبالله التوفیق والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم (جیسا کہ اس کا بیان گزر چکا الله تعالٰی کی توفیق سے ، اور الله تعالٰی زیادہ جانتا ہے۔ ت)

(۸۸) ہر نماز موقت کہ بعد فوت جس کی قضا ہے جیسے نماز پنجگانہ وجمعہ و وترجب طہارت آب سے وقت جاتا ہوتیمم سے وقت کے اندر پڑھ لے کہ قضا نہ ہوجائے پھر پانی سے طہارت کرکے اعادہ کرے۔

اقول : اس میں یہ تفصیل۱  ہونی چاہئے کہ مثلًا صبح۱  اتنے تنگ وقت اٹھا کہ وضو کرے یا نہانے کی حاجت ہے اور غسل کرے تو سلامِ نماز سے پہلے سورج چمك آئے یا۲  امامِ جمعہ پانی سے طہارت کرے تو سلامِ جمعہ سے پہلے وقتِ عصر آجائے یا۳  مقتدی جماعت جمعہ میں قبل سلام شریك نہ ہوپائے اور دوسری جگہ بھی امام مقرر جمعہ کے پیچھے نماز نہ مل سکے یا۴  محدث وضو خواہ جنب غسل کرے تو ظہر یا۵  عصر یا۶  مغرب یا۷  عشا کا اتنا وقت نہ پائے کہ نیت باندھ لے یا۸  فرض عشا پڑھ کر سویا اُٹھا تو نہانے کی حاجت ہے یا وضو ہی کرنا ہے اور صبح میں اتنی مہلت نہیں کہ پانی سے طہارت کے بعد وتر کی نیت باندھ لے تو ان سب صورتوں میں یہ نمازیں تیمم سے پڑھ لے پھر غسل باوضو کرکے دوبارہ بعد وقت پڑھے بالجملہ فجر وجمعہ میں سلام سے پہلے وقت نکل جانا یا مقتدی کا امام مقرر للجمعہ کے پیچھے جماعت نہ پانا معتبر ہونا چاہئے باقی نمازوں میں تکبیر تحریمہ وقت کے اندر نہ ملنے کا اعتبار چاہئے کہ فجر وجمعہ وعیدین سلام سے پہلے خروج وقت سے باطل ہوجاتی ہیں بخلاف باقی صلوات کہ ان میں وقت کے اندر تحریمہ بندھ جانا کافی ہے۔

ثم اقول : اگر۲  صورت یہ ہے کہ صبح میں پانی سے طہارت کرے تو صرف دو۲ رکعتیں وقت میں پائے اورتیمم سے چاروں توتیمم کی بلندی آفتاب پڑھے یوں ہی باقی نمازوں میں اگر وقت اتنا ملتا ہے کہ پانی کی طہارت سے فرض وقت ہوجائیں گے ظہر کی سنت قبلیہ یا بعد یہ یا دونوں یا مغرب میں سنتیں یا عشا میں سنت ووتر نہ ملیں گے اورتیمم سے سب مل سکتے ہیں تو فرضوں ہی کا پلّہ راجح رہے گا طہارتِ آب سے فرض اور اس کے ساتھ اور جو کچھ مل سکے ادا کرلے سنتیں رہ گئیں تو  گئیں اور وتر رہ گئے تو ان کی قضا پڑھے غرض غیر فرض کی رعایت سے فرضوں کاتیمم سے ادا کرنا روانہ ہوگا اگرچہ اُس غیر فرض کیلئے خوف فوت میں تیمم روا تھا ولعل کل ماذکرت فی المقامین ظاھر جدا والله تعالٰی اعلم (توقع ہے کہ ان دونوں مقاموں پر جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے بہت ظاہر ہے والله تعالٰی اعلم۔ ت)

______________________

رسالہ ضمنیہ
الظفر لقول زفر ۱۳۳۵ھ
وقت کی تنگی کے باعث جوازِتیمم کے بارے میں امام زفر کے قول کی تقویت کا بیان (ت)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط ،                          نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

ثم اعلم(۱) ان جواز التیمم لخوف فوت الوقت قول الامام زفر رحمہ الله تعالٰی علی خلاف مذھب ائمتنا الثلٰثۃ رضی الله تعالٰی عنھم وقد وافقوہ فی روایۃ وشیدتہ فروع واختارہ کبراء وقوی دلیلہ محققون وبیان ذلك فی جمل۔  الجُملۃ الاولٰی موافقۃ ائمتنا الثلثۃ فی روایۃ قال الشامی ھو قول زفر وفی القنیۃ انہ روایۃ عن مشائخنا بحر اھ۔  ثم قال قد علمت من کلام القنیۃ انہ روایۃ عن مشائخنا                                            

واضح ہو کہ امام زفر رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِہمارے تینوں ائمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے مذہب کے برخلاف وقت فوت ہونے کے اندیشہ سے تیمم کو جائز کہتے ہیں۔ ائمہ ثلاثہ سے ایك روایت مذہب امام زفر کے موافق بھی آئی ہے متعدد جزئیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ کچھ بزرگوں نے اسے اختیار بھی کیا ہے اور کئی محققین نے ان کی دلیل کو تقویت بھی دی ہے۔ اس کا تفصیلی بیان جملہ کے عنوان سے چند جُملوں میں رقم کیا جاتا ہے :

جملہ اُولٰی ائمہ ثلاثہ کی موافقت

ہمارے تینوں ائمہ کی ایك روایت مذہب امام زفر کے موافق آئی ہے اس سے متعلق علامہ شامی لکھتے ہیں :

 “ یہ امام زفر کا قول ہے اور قنیہ میں ہے کہ ہمارے مشائخ سے بھی ایك روایت میں یہی منقول ہے۔ بحر “ ۔ اھ پھر شامی فرماتے ہیں : اس سے پہلے قنیہ کی عبارت سے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ

الثلثۃ رضی الله تعالٰی عنھم [2]  اھ۔

اقول :  (۱) رحمہ الله تعالٰی قد ابعد النجعۃ واتی بغیر صریح فان لفظ البحر عند قولہ لالفوت جمعۃ قدقدمنا عن القنیۃ ان التیمم لخوف فوت الوقت روایۃ عن مشائخنا [3]  اھ والذی قدم عند قولہ لبعدہ میلا بعد ذکر فرع الکلۃ الاٰتی لائخفی ان ھذا مناسب لقول زفر لالقول ائمتنا فانھم لایعتبرون خوف الفوت وانما العبرۃ للبعد کماقدمناہ کذا فی شرح منیۃ المصلی لکن ظفرت بان التیمم لخوف فوت الوقت روایۃ عن مشائخنا ذکرھا فی القنیۃ فی مسائل من ابتلی بلیتین[4] اھ

 



[1]   فتح القدیر مع الہدایۃ باب التیمم نوریہ رضویہ سکّھر ۱ / ۱۲۱

[2]   ردالمحتار  باب التیمم  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۸۰

[3]   البحرالرائق    باب التیمم   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۱۵۹

[4]   البحرالرائق    باب التیمم   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ / ۱۴۰



Total Pages: 232

Go To