Book Name:Fatawa Razawiyya jild 3

وقد یقال علی مابینا فی الطرس المعدل ان(۱) النجاسۃ الحکمیۃ تعم المعاصی والمکروھات ولذا کان الوضوء علی الوضوء منویا موجبا لاستعمال الماء مع عدم حدث یسلب الماء طھوریتہ ونص(۲) علماء الباطن منھم سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرّہ فی المیزان ان للاطفال ایضا معاصی بحسبھم وان لم تعد معاصی فی ظاھر الشریعۃ وبھا یصیبھم مایصیبھم کما لا(۳) تعضد شجرۃ ولا تسقط ورقۃ ولایذبح حیوان الالغفلتہ عن التسبیح فعلی ھذا تحقق النجاسۃ الحکمیۃ فیھم ایضا   

دوم : عاقل بچہ کو وضو ونماز کا حکم دیا جائیگا ، تو اگر وہ بیمار ، یا سفر میں ہو اور پانی نہ پائے تو تیمم کرے اور اس کا تیمم ، تیمم شرعی سے باہر نہیں ، جیسے اس کا وضو اور نماز۔ حالانکہ اس کے پاس حدث نہیں ، جیسا کہ الطرس المعدل میں ہم نے اسے بیان کیا ہے تو اس میں تطہیر کی صورت مقصود ہوتی ہے اگرچہ حقیقۃً تطہیر نہ ہو کیوں کہ نجاست حکمیہ نہیں۔ تو ایسا ہوگا جیسے خانیہ میں فرمایا ہے : “ عاقل بچّہ جب تطہیر کے ارادہ سے وضو کرے تو پانی مستعمل ہوجانا چاہئے اس لئے کہ اس نے ایك معتبر قربت کا ارادہ کیا “ اھ تامل (غور کرو)

یہ بھی کہا جاسکتا ہے جیسا کہ ہم نے “ الطرس المعدل “ میں بیان کیا ہے کہ نجاست حکمیہ معاصی اور مکروہات دونوں ہی کو عام ہے اس لئے  نیت کے ساتھ وضو پر وضو پانی کے مستعمل ہونے کا سبب ہے جبکہ ایسا کوئی حدث نہیں جو پانی سے مطہر ہونے کی صفت سلب کررہا ہو۔ اور علمائے باطن نے۔ جن میں سے سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ میزان الشریعۃ الکبرٰی میں رقمطراز ہیں۔ تصریح فرمائی ہے کہ بچّوں کیلئے بھی ان کی حالت کے لحاظ سے معاصی ہوتے ہیں اگرچہ ظاہر شریعت میں وہ معاصی کے دائرہ میں شمار نہیں ، اور ان ہی معاصی کی وجہ سے انہیں جو مصیبت پہنچتی ہے وہ پہنچتی ہے جیسے یہ ہے کہ کوئی بھی درخت کاٹا جاتا ہے یا کوئی پتّہ گرتا ہے یا کوئی جانور ذبح کیا جاتا ہے تو اس وجہ سے کہ وہ تسبیح الٰہی سے غافل

 حقیقۃ[1] والله تعالٰی اعلم۔

الثالث :   قدمنا ان الاستعمال ھو المسح وقولك مسح العضوین علی قصد التطھیر یتبادر منہ ان الماسح ھو القاصد ولیس ھذا علی اطلاقہ فان من یمم غیرہ بامرہ یعتبر فیہ نیۃ الاٰمر دون المامور کما تقدم عن البحر نعم من یتمم بنفسہ اویمم(۱) میتا اعتبر فیہ نیۃ الماسح والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔       

ہوا۔ تو اس قول کی بنیاد پر بچّوں میں بھی نجاست حکمیہ کا ثبوت حقیقۃً ہوگا۔ والله تعالٰی اعلم۔

سوم : ہم بتاچکے ہیں کہ استعمالِ صعید سے مراد مسح ہے۔ اور “ بقصدِ تطہیر دونوں عضووں کا مسح “ کہنے سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ مسح کرنے والا قصد کرنے والا بھی ہوگا۔ حالانکہ یہ حکم مطلق نہیں اس لئے کہ جو کسی دوسرے کو اس کے حکم سے تیمم کرائے اس میں آمر کی نیت کا اعتبار ہوگا مامور کی نیت کا نہیں جیسا کہ البحرالرائق کے حوالے سے گزرا۔ ہاں جو خود تیمم کرے یا کسی میت کو تیمم کرائے تو اس میں مسح کرنے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)

تعریف ہفتم رضوی۔ اقول :  وبالله التوفیق ان مباحث جلیلہ میں جو کچھ ہم نے منقح کیا اس پر تیمم کی تعریف اصح واوضح واصرح بعونہٖ تعالٰی یہ ہُوئی کہ فرض طہارت کیلئے کافی پانی سے عجز کی حالت میں مسلمان عاقل کا اپنے بدن سے نجاست حکمیہ حقیقۃً یا صورۃً یا میت مسلم کے بدن سے نجاست موت حقیقیہ یا دوسرے قول پر حکمیہ دُور کرنے کیلئے اپنے یا اُس میت کے مُنہ اور ہاتھوں سے اُتنے حصّہ پر جس کا دھونا وضو میں ہے جنس زمین سے کسی کامل الطہارۃ چیز کو خود یا اپنی نیت مذکورہ سے دوسرے کو حکم دے کر اُس کے واسطہ سے یوں استعمال کرنا کہ یا تو خود اس فعل سے اُن دونوں عضووں کے ہر جز کو اُس جنس ارض سے مس واقع ہو یا اپنے خواہ اپنے مامور کے وہ کف کہ اس کی نیت مذکور کے ساتھ جنس ارض سے اتصال دئے گئے ہوں اُن کے اکثر کا جدا جدا اتصالوں سے مُنہ اور کہنیوں کے اوپر ہر ہاتھ سے اس طرح مس ہونا کہ کوئی حصّہ ایسا نہ رہے جسے خود جنس ارض یا اُس کف سے اتصال نہ ہو۔

توضیحات : ہمارے ان بیانات وقیود کے بہت فوائد مباحث سابقہ سے روشن ہیں مگر ہمارے عوام بھائی کہ عربی نہ سمجھیں اُن کیلئے اجمالًا اعادہ اور کثیر وغزیر جدید فوائد کا کہ پہلے مذکور نہ ہوئے افادہ کریں۔

____________________

سمح الندرٰی فیما یورث العجز عن الماء ۱۳۳۵ھ

فاقول :  وبالله التوفیق اوّل پانی سے عجز کی ۱۷۵ صورتیں ہیں : (۱) پانی وہاں سے میل بھر دُور ہو اگرچہ خود۱ اپنے شہر ہی میں ہو یا سفر میں اُسی طرف جدھر جارہا ہے ، درمختار میں ہے : لبعدہ ولومقیما فی المصر میلا[2] (کیونکہ وہ پانی سے ایك میل دُور ہے اگرچہ شہر ہی میں مقیم ہے۔ ت) فتح القدیر میں ہے قولہ المیل ھو المختار احتراز عما قیل میلان اومیلان ان کان الماء امامہ والا فمیل [3]  (مصنف کا قول “ میل “ یہی مختار ہے۔ یہ ان دونوں قولوں سے احتراز ہے : (i) دو میل (ii) دو میل اگر پانی اس کے آگے سمت میں ہو ورنہ ایك میل۔ ت)

تنبیہ : رحمۃ اللعالمین بالمومنین رؤف رحیم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکی شریعت مطہرہ کی رحمت دیکھیے ہمارے صرف میل بھر چلنے کی مشقت پر ایسا لحاظ فرمایا کہ اس کیلئے وضو بلکہ بحال جنابت غسل کی ضرورت نہ رکھی تیمم جائز فرمادیا اگرچہ آدمی خود اپنے شہر میں ہو بلکہ سفر میں جس طرف جانا ہے اسی طرف میل بھر ہو جب بھی یہاں تیمم کرکے نماز پڑھ سکتا ہے اگرچہ یہ میل خود ہی طے کرے گا ہاں۲  جس طرف جاتا ہے اُدھر ہی پانی ہے اور جانے میں وقت کراہت نہ آجائے گا تو مستحب یہ ہے کہ وہاں پہنچ کر پانی ہی سے طہارت کرکے نماز پڑھے متون میں ہے ندب لراجیہ اٰخر الوقت تنویر۔ المستحب در۔ ھو الاصح ش [4] (اس کیلئے تاخیر مندوب ہے جو آخر وقت میں پانی ملنے کی امید رکھتا ہو۔ تنویر الابصار یعنی۔ آخر وقت مستحب میں درمختار یہی اصح ہے۔ شامی۔ ت)(۲) جنگل میں کُنواں ہے رسّی یا ڈول بھرنے کا آلہ نہیں نہ عمامے وغیرہ سے نکال سکے نہ کوئی ایسا ہو کہ پانی اُتر کر لادے (۳)یا لانے والا  اُجرت مثل سے زائد مانگتا ہے [5] کما فی البحر عن التوشیح (جیسا کہ البحرالرائق میں توشیح کے حوالے سے ہے۔ ت) (۴) اقول : یا یہ مفلس ہے کہ اُجرت دے ہی نہیں سکتا (۵) یا یہاں دینے کو نہیں اس کا مال دوسری جگہ ہے اور اجیر ادھار پر راضی نہیں اور اگر راضی ہوجائے تو تیمم جائز نہ ہوگا زدتھما اخذا مما یأتی فی ثمن الماء (پانی کے دام سے متعلق جو مسئلہ آرہا ہے اس سے اخذ کرتے ہوئے میں نے ان دو۲ صورتوں کا اضافہ کیا۔ ت) (۶) کپڑا تو ایسا ہے جسے رسّی کی جگہ کرکے پانی نکال سکتا ہے یا بار بار ڈبو کر نچوڑنے سے پانی قابلِ طہارت لے سکتا ہے مگر ایسا کرنے سے کپڑا خراب ہوجائیگا یا پانی تك پہنچنے کیلئے اُسے بیچ میں چیر کر باندھنا درکار ہوگا۔ اور ایسا کرنے سے اس میں ایك درم کا نقصان ہوتا ہے جب بھی تیمم کی اجازت ہے ورنہ نہیں ش عن التاتارخانیۃ عن الامام فقیہ النفس خلافا لما فی التوشیح فالبحر فالنھر فالدر معتمدین مافی کتب الشافعیۃ ان لونقص قدر قیمۃ الماء واٰلۃ الاستقاء لایتیمم وان زاد تیمم[6] (شامی از تاتارخانیہ از امام فقیہ النفس قاضی خان اس کے برخلاف جو توشیح پھر بحر پھر نہر پھر در میں ہے اس پر اعتماد کرتے ہوئے جو کتب شافعیہ میں ہے کہ اگر پانی اور پانی کھینچنے کے آلے کی قیمت بقدر نقصان ہو تو تیمم نہ کرے ورنہ تیمّم کرلے۔ ت)

فائدہ۱  درم شرعی یہاں کے روپے سے ۲۵ / ۷ ہے یعنی ساڑھے چار آنے سے ۲۵ / ۶ پائی کم۔

 



[1]   المیزان الکبرٰی خاتمۃ الکتاب مصطفی البابی مصر ۲ / ۲۰۹

[2]   الدرالمختار    باب التیمم مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۴۱

[3]   فتح القدیر  باب التیمم نوریہ رضویہ سکھر  ۱ / ۱۰۸

[4]   ردالمحتار مع الرد  باب التیمم  مصطفی البابی مصر  ۱ / ۱۸۲

[5]   بحرالرائق باب التیمم  سعید کمپنی کراچی  ۱ / ۱۴۳

[6]   ردالمحتار   باب التیمم مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۷۳



Total Pages: 232

Go To