Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

نجاست سے جو تیرتی ہوئی کسی گوشہ میں ٹھہر گئی ہو۔ تیسرا ، غیر مرئیہ سے بھی نجس ہوجائیگا اگر تیرنے والی ہو اور کوئی گوشہ نہ ہو۔ پھر “ ح “ کا پہلی صورت میں یہ فرمانا کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا ، درست نہیں ، جیسے کہ ہم نے در کی نظم کی اس کے ساتھ تشریح کی ہے ، کیونکہ یہ تو اس میں بصراحت مذکور ہے والله تعالٰی  اعلم۔ (ت)

نجاست اُس میں موجود ہے اور اوپر کا حصّہ یوں کہ نجاست اُس میں نہیں اور جس سے متصل ہے وہ پاك ہے اور اگر نجاست طافیہ مرئیہ تھی اور اُسے پہلے نکال دیا جب بھی ظاہر ہے کہ ناپاکی کی کوئی وجہ نہیں اور اگر بے نکالے پانی بھر دیا کہ پانی ڈالے سے اوپر آگئی تو بالائی حصّہ ناپاك ہوگیا کہ نجاست اُس سے متصل ہوئی اور وہ آب قلیل ہے رہی طافیہ غیر مرئیہ اُس میں دو صورتیں ہیں ایك یہ کہ حوض کے حصہ زیریں میں کوئی کنج ایسانہ ہو جو اُس نجاست کو اوپر جانے سے رو کے مثلاً یہ شکل       

دونوں حصوں میں خط ح ع فصل مشترك ہے ظاہر ہے کہ جو اُترانے والی چیز خط ح ع میں کہیں ہے وہ پانی بھرنے سے خط ا ب پر آجائے گی دوسرے یہ کہ ایسے کنج ہوں مثلاً یہ شکل   

اول میں خط ہ ر دوم میں خط ح ہ پر جو ایسی چیز ہو وہ پانی بھرے سے خط ا ب تك ضرور پہنچے گی لیکن دوم میں خط ہء یا یکم میں دو خط ح ہ خط ر ع کے نیچے جو کچھ ہے وہ ا ب تك نہیں جاسکتا پہلی صورت میں بالائی حصہ ا ب ح ع ناپاك ہوجائے گااور دوسری صورت میں سارا حوض پاك رہے گا ولہٰذا ہم نے طافیہ مرئیہ میں پانی ڈالے سے اوپر آجانے کی قید لگائی کہ اگر کسی کنج میں اُلجھ رہی تو اب بھی کوئی حصہ ناپاك نہ ہوگا۔

والوجہ فیہ ان غیرالمرئیۃ لاتنعدم بل تکتتم وحیث ھی طافیۃ لابدلھامن العلم ولذامنع العراقیون من مشائخنا التوضی من موقع غیرالمرئیۃ فی العرض الکبیر لانہ راکد فلا تنتقل وجوز ائمۃ بلخ وبخاری وماوراء النھرالتوضی منہ من این یشاء و ھو الصحیح وعللوہ بانتقال المائع قال ملك العلماء فی البدائع وانکانت غیرمرئیۃ قال مشائخ العراق لایتوضؤ من ذلك الجانب لما ذکرنا فی المرئیۃ(وھو قولہ لانا تیقنابالنجاسۃ فی ذلك الجانب)بخلاف الماء الجاری لانہ ینقل النجاسۃ فلم یستیقن بالنجاسۃ فی موضع الوضوء ومشائخنابماوراء النھر فصلوابینھما(ای بین المرئیۃ وغیرھا)ففی                                              

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مرئیہ ختم نہیں ہوتی ہے بلالکہ چھپ جاتی ہے ، اور جب تیر رہی ہوتی ہے تو اس کااُوپر آنا لازمی ہے ، اس لئے ہمارے عراقی مشائخ بڑے حوض میں گرجانے والی غیر مرئی نجاست کے مقام سے وضو کو جائز قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ ٹھہری ہوتی ہے تو منتقل نہ ہوگی اوربلخ ، بخاری اورماوراء النہر کے مشائخ نے اجازت دی کہ جہاں سے جی چاہے وضو کرلے اور یہی صحیح ہے ، اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ بہنے والی چیز منتقل ہوتی ہے ، ملك العلماء نے بدائع میں فرمایاکہ اگر نجاست غیر مرئیہ ہو تو مشائخ عراق کا قول ہے کہ اُس جانب سے وضو نہ کرے جیساکہ ہم نے مرئیہ میں ذکر کیا ہے(اس سے مرادان کا یہ قول ہے کہ ہم نے اُس جانب میں نجاست کایقین کرلیا ہے)بخلاف جاری پانی کے کیونکہ وہ نجاست

غیر المرئیۃ یتوضؤ من ای جانب کان کماقالوا جمیعا فی الماء الجاری وھو الاصح لان غیرالمرئیۃ لایستقر فی مکان واحد بل ینتقل لکونہ مائعا سیالا بطبعہ فلم نستیقن بالنجاسۃ فی الجانب الذی یتوضؤ منہ فلانحکم بنجاسۃ بالشك[1]  اھ وفی الحلیۃ قال مشائخ بلخ وبخاری یتوضؤ من ای جانب کان وفی محیط رضی الدین والتحفۃ والبدائع وغیرھاھوالاصح لان غیر المرئیۃ ینتقل لکونہ مائعا سیالا [2]۔

اقول :  احسن فی ترك بطبعہ وھوفی کلام البدائع متعلق بسیالالاینتقل لان طبع المائع الانحدار الی صبب لاالانتقال فی سطح مستوبلا سبب نعم الریاح لاتزال تزعزع المیاہ ومن ضرورتہ انتقال المائع المختلط بہ ولیس لہ جھۃ معینۃ لاختلاف الریاح فتطرق الاحتمال الی جمیع المحال اذاعرفت ھذا ففی الصورۃ الاولی حیث لاحاجزلھا عن العلو تطفووتنجس الاعلی علی قول الجمیع بل لولم تطف لنجست لاتصالھا بالماء الا علیٰ ولو من تحت امافی الثانیۃ فعلی قول العراقین ان کانت وقعت فی الماء السافل فی محاذاۃ                          

کو منتقل کرتاہے تو مقامِ وضو میں نجاست کا یقین نہیں اور ہمارے ماوراء النہر کے مشائخ نے دونوں میں تفصیل کی ہے(یعنی مرئیہ اورغیر مرئیہ میں)اورغیر مرئیہ میں جس جانب سے چاہے وضو کرے جیساکہ جاری پانی میں سب کا اتفاق ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے کہ کیونکہ غیر مرئیہ کسی ایك جگہ میں نہیں ٹھہرتی بلالکہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ طبعی طور بہنے والی ہے اس لئے وضوء والی جانب میں نجاست کایقین نہ ہوا ، پس شك کی وجہ سے ہم نجاست کا حکم نہیں دیں گے اھ اورحلیہ میں ہے کہ بلخ اور بخارٰی کے مشائخ نے فرمایاہے کہ جس جانب سے چاہے وضو کرلے اور رضی الدین کی محیط ، تحفہ اور بدائع وغیرہ میں ہے کہ وہی اصح ہے کیونکہ غیر مرئیہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ سیال مائع ہے۔ (ت)

میں کہتا ہوں انہوں نے بطبعہ کو چھوڑ کر اچھا کیا ، اور یہ بدائع میں “ سیالا لاینتقل “ سے متعلق ہے کیونکہ بہنے والی چیز کی خاصیت نیچے کی طرف آناہے وہ مستوی سطح کی طرف بلا سبب نہیں جاتا ہے ، ہاں ہوائیں مسلسل پانی میں لہر پیدا کرتی رہتی ہیں ، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بہنے والی چیز جو اس میں شامل ہوجائے منتقل ہوجاتی ہے اور اس کی کوئی ایك جہت متعین نہیں کیونکہ ہوائیں مختلف رخ سے چلتی ہیں ، تو ہر جگہ میں احتمال پیدا ہوجائے گا ، جب تم نے یہ جان لیا تو پہلی صورت میں جہاں اوپر جانے سے کوئی مانع نہ ہو نجاست تیر کر اوپر آجائے گی اور تمام علماء کے مطابق اوپر والا حصہ ناپاك ہوجائے گا ، بلالکہ

خط ا ب تنجس الاعلی لعدم انتقالھامن ثم وان وقعت فی حجاب عنہ مثل خط رء وہء لم تنجس لانھالاتصل الی الماء العالی وعلی قول سائرالائمۃ الاصح لاتنجس مطلقًا وان کانت وقعت حذاء ا ب لاحتمال انتقالھاالی احدی الزوایاولایزول الیقین بالشك ھذا ماظھر لی والله تعالٰی اعلم۔                              

اگر نجاست تیر کر نہ بھی جائے تو بھی ناپاك ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی کے ساتھ متصل ہوجائے گی خواہ نیچے سے ہو اوردوسری صورت میں تو بقول عراقی مشائخ کے اگر نجاست نچلے پانی میں اب خط کے مقابل گری ہے تو اوپر والا نجس ہوجائیگا ، کیونکہ وہ وہاں سے منتقل نہیں ہوئی ہے اور اگر وہ اس کے حجاب میں گری ہے جیسے ر ء اور ہ ء کا خط تو پانی نجس نہیں ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی تك نہ پہنچے گی اور باقی ائمہ کے قول کے مطابق اصح یہ ہے کہ مطلقًا  ناپاك نہ ہوگا اگرچہ نجاست ا ب کے مقابل گری ہو کیونکہ احتمال ہے کہ وہ کسی ایك زاویے کی طرف منتقل ہوگئی ہو اور یقین شك سے زائل نہیں ہوتا ہے ھذا ماظھرلی والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

سوال۵۲ چہارم

حوض اوپر دہ دردہ اورنیچے کم ہے بھرے ہُوئے میں نجاست پڑی تو سب پاك رہا یانیچے کا حصّہ ناپاك ہوگیا جہاں سے مساحت سو ہاتھ سے کم ہے۔ بینوا توجروا۔

الجواب

 



[1]               بدائع الصنائع فصل فی المقدار الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳

[2]   حلیۃ



Total Pages: 220

Go To