Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

سے ان کے رسالہ “ القول الراقی “ سے نقل کیا ہے کہ ان کی تحقیق وہی ہے جو اصحاب متون نے لکھا ہے یعنی دس ہاتھ کا اعتبار کیا جائے گا ، اور جن حضرات نے اس کے برعکس لکھا ہے ان پر آپ نے ردِّ بلیغ کیا ہے ، اس پر انہوں نے ایک سو نقول صحیحہ پیش کی ہیں ، اور یہ ظاہر ہے کہ وہ متاخرین جنہوں نے  

م اعلم بالمذھب منا فعلینا اتباعھم ویؤیدہ ماقدمہ الشارح فی رسم المفتی واما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کمالو افتونا فی حیاتھم [1]اھ

وفیہ قال فی الفتح وعن ابی یوسف انہ کالجاری لا یتنجس الا بالتغیر وھو الذی ینبغی تصحیحہ فینبغی عدم الفرق بین المرئیۃ وغیرھا لان الدلیل انما یقتضی عند الکثرۃ عدم التنجس الا بالتغیر من غیر فصل [2]اھ

وفی حاشیتہ للعلامۃ الطحطاوی لافرق بین موضع الوقوع وغیرہ وبین نجاسۃ ونجاسۃ وینبغی تصحیحہ کما فی الفتح وھو المختار کما قالہ العلامۃ قاسم وعلیہ الفتوی کما فی النصاب [3]اھ والله سبحٰنہ وتعالی اعلم۔                      

دس۱۰ ہاتھ پر فتوٰی دیا ہے ، جیسے صاحبِ ہدایہ اور قاضی خان وغیرہما اہلِ ترجیح سے ہیں ، وہ ہم سے زائد مذہب کے جاننے والے ہیں ، لہٰذا ہم پر واجب ہے کہ ہم ان کی پیروی کریں ، اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے جو شارح نے رسم المفتی میں کہا ہے کہ “ ہم لوگوں پر اس کی اتباع لازم ہے جس کو انہوں نے راجح اور صحیح قرار دیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنی زندگی میں فتوٰی دیتے تو ہم پر اتباع لازم تھا۔ اور اسی میں ہے کہ فتح میں فرمایا “ اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ یہ جاری پانی کی طرح ہے ، بغیر تغیر کے ناپاک نہ ہوگا اور اس کی تصحیح کی جانی چاہئے تو نجاست مرئیہ اور غیر مرئیہ کے درمیان فرق نہ ہونا چاہئے کیونکہ دلیل کا تقاضا یہ ہے  کہ کثیر پانی سوائے تغیر کے ناپاک نہ ہو۔ اھ اور مراقی الفلاح میں ہے کہ اسی پر ہمارے مشائخ بلخ نے لوگوں پر فراخی کیلئے فتوٰی دیا ہے اور دس ہاتھوں کا قول ہی مفتٰی بہ ہے۔ اور اس کے حاشیہ میں علامہ طحطاوی نے لکھا کہ نجاست کے گرنے کی جگہ اور دوسری جگہ میں فرق نہیں ، اسی طرح ایک نجاست اور دوسری نجاست میں فرق نہیں ، اور اس کی تصحیح کی جانی چاہئے کما فی الفتح ، اور یہی مختار ہے ، جیسا کہ علامہ قاسم نے فرمایا وعلیہ الفتوٰی کما فی النصاب (اسی پر فتوی ہے جیسا کہ نصاب میں ہے)اھ والله  سبحانہ و تعالٰی اعلم۔ (ت)

________________________

رسالہ

فتوی مسمّٰی بہ

الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل۱۳۲۰ھ

استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ(ت)

بسم الله الرحمٰن الرحیم نحمدہٗ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

مسئلہ ۲۸ :                                                                                                                                              ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آبِ مستعمل کی کیا تعریف ہے بینوا توجروا۔

الجواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

حمدالمن جعل الطھور غاسل اٰثامنا فطھر ارواحنا باسالۃ الماء علی اجسامنا فیالہ من منۃ وافضل الصلاۃ وازکی السلام علی من طھرنا من الانجاس وادام دیم نعمہ علینا حتی نقانا من الادناس وعلی اٰلہ وصحبہ واھل السنۃ اٰمین۔

اقول : وبالله التوفیق(۱)مائے مستعمل وہ قلیل پانی ہے جس نے یا تو تطہیر نجاست حکمیہ سے کسی واجب کو ساقط کیا یعنی انسان کے کسی ایسے پارہ جسم کو مس کیا جس کی تطہیر وضو یا غسل سے بالفعل لازم تھی یا ظاہر بدن پر اُس کا استعمال خود کار ثواب تھا اور استعمال کرنے والے نے اپنے بدن پر اُسی امر ثواب کی نیت سے استعمال کیا اور یوں اسقاط واجب تطہیر یا اقامت قربت کرکے عضو سے جُدا ہوا اگرچہ ہنوز کسی جگہ مستقر نہ ہوا بلکہ روانی میں ہے اور بعض نے زوال حرکت وحصول استقرار کی بھی شرط لگائی۔ یہ بعونہٖ تعالٰی دونوں مذہب پر حد جامع مانع ہے کہ ان سطروں کے سوا کہیں نہ ملے گی۔ اب فوائد قیود سنیے :

(۱)آب کثیر یعنی دَہ در دَہ یا جاری پانی میں محدث وضو یا جنب غسل کرے یا کوئی نجاست ہی دھوئی جائے تو پانی نہ نجس ہوگا نہ مستعمل لہٰذا قلیل کی قید ضرور ہے۔

(۲)محدث(۲)نے تمام یا بعض اعضائے وضو دھوئے اگرچہ بے نیت وضو محض ٹھنڈ یا میل وغیرہ جُدا کرنے کیلئے یا اُس نے اصلا کوئی فعل نہ کیا نہ اُس کا قصد تھا بب بلکہ کسی دوسرے نے اُس پر پانی ڈال دیا جو اُس کے کسی ایسے عضو پر گزرا جس کا وضو یا غسل میں پاک کرنا ہنوز اس پر فرض تھا مثلاً محدث کے ہاتھ یا جُنب کی پیٹھ پر تو ان سب صورتوں میں شکل اول کے سبب پانی مستعمل ہوگیا کہ اس نے محل نجاست حکمیہ سے مس کرکے اُتنے ٹکڑے کی تطہیر واجب کو ذمہ مکلف سے ساقط کردیا اگرچہ پچھلی صورتوں میں ہنوز حکم تطہیر دیگر اعضا میں باقی ہے اور پہلی میں تو یعنی جبکہ تمام اعضا دھو لے فرض تطہیر پورا ہی ذمہ سے اُتر گیا۔

تنبیہ : (۱)پانی کولی یا بڑے مٹکے کے سوا کہیں نہیں وہ برتن جھکانے کے قابل نہیں چھوٹا برتن مثلاً کٹورا ایک ہی پاس تھا وہ اسی برتن میں گر کر ڈوب گیا کوئی بچّہ یا باوضو آدمی ایسا نہیں جس سے کہہ کر نکلوائے اب بمجبوری محدث خود ہی ہاتھ ڈال کر نکالے گا یا چھوٹا برتن سرے سے ہے ہی نہیں تو ناچار چُلّو لے لے کر ہاتھ دھوئے گا ان دونوں صورتوں میں بھی اگرچہ شکل اول اعنی اسقاط واجب تطہیر پائی گئی یہ ضرورۃً معاف رکھی گئی ہیں بے ضرورت ایسا کرے گا تو پانی کُل یا بعض بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا اگرچہ ایک قول پر قابل وضو رہے۔ (۲)بیان اس کا یہ ہے کہ محدث یعنی بے وضو یا حاجت غسل والے کا وہ عضو جس پر سے ہنوز حکم تطہیر ساقط نہ ہوا اگرچہ کتنا ہی کم ہو مثلاً پورا یا ناخن اگر قلیل پانی سے مس کرے تو ہمارے علماء کو اختلاف ہے بعض کے نزدیک وہ سارا پانی مستعمل ہوجاتا ہے اور قابل وضو وغسل نہیں رہتا اور بعض کے نزدیک صرف اتنا مستعمل ہوا جس قدر اُس پارہ بدن سے ملا باقی آس پاس کا پانی جو اُس عضو کی محاذات میں ہے اور اُس سے مس نہ ہوا مستعمل نہ ہوا یوں ہی وہ تمام پانی کہ اُس عضو کے پہنچنے کی جگہ سے نیچے ہے اُس پر بھی حکم استعمال نہ آیا۔ اس قول پر مٹکے یا کَولی میں کہنی تک ہاتھ ڈالنے سے بھی پانی قابل طہارت رہے گا کہ ظاہر ہے جو پانی ہاتھ کے آس پاس اور اُس سے نیچے رہا وہ اس حصے سے بہت زائد ہے جس نے ہاتھ سے مس کیا اور جب(۳)غیر مستعمل پانی مستعمل سے زائد ہو تو پانی قابلِ وضو وغسل رہتا ہے مثلاً لگن میں وضو کیا اور وہ پانی ایک گھڑے بھر آب غیر مستعمل میں ڈال دیا تو یہ مجموع قابلِ وضو ہے کہ مستعمل نامستعمل سے کم ہے اسی پر قیاس کرکے ان بعض نے ہاتھ ڈالنے کا حکم رکھا کہ مستعمل تو اُتنا ہی ہوا جتنا ہاتھ کو لگا باقی کہ الگ رہا اُس پر غالب ہے اور فریقِ اول نے فرمایا کہ پانی ایک متصل جسم ہے اس کے بعض سے ملنا کُل سے ملنا ہے لہٰذا ناخن کی نوک یا پورے کا کنارہ لگ جانے سے بھی کُل مٹکا مستعمل ہوجائے گا۔ یہ دو قول ہیں اور فریقِ اول ہی کا قول احتیاط ہے بہرحال اتنے میں فریقین متفق ہیں کہ بے ضرورت چُلّو لینے یا ہاتھ ڈالنے سے پانی مستعمل ہوجائے گا اگرچہ بعض تو ہماری تعریف اس قول پر بھی ہر طرح جامع مانع ہے۔

(۳)باوضو آدمی نے بہ نیت ثواب دوبارہ وضو کیا۔

(۴)سمجھ وال نابالغ نے وضو بقصدِ وضو کیا۔

 



[1]   ردالمحتارباب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۱

[2]   ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۴۰

[3]   مراقی الفلاح الطہارۃ نور محمد کراچی ص۱۶



Total Pages: 220

Go To