Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

الفصل الاول فی کلام العلامۃ قاسم

رسالتہ رحمۃ الله تعالی نحو کراسۃ اطال فیھا الکلام فی حدالماء الکثیر وحقق(۱)ان جمیع جوانبہ سواء فی جواز الطھارۃ سواء کانت النجاسۃ مرئیۃ اولا واکثر من الرد علی شرح المختار والتحفۃ والبدائع حتی تجاوز الی المؤاخذات اللفظیۃ ولسنا الاٰن بصدد ذلک وانما یتعلق منھا بغرضنا نحو ورقۃ فی اٰخرھا ذکر فیھا الماء المستعمل وانہ لایغیر الماء مالم یغلب علیہ واختار التسویۃ فی ذلک بین الملقی والملاقی ای کما ان الماء المستعمل لوالقی فی حوض اوجرۃ وکان ماء الجرۃ اکثر منہ جازالطھارۃ بہ علی ماھو الصحیح المعتمد وعلیہ عامۃ العلماء کذلک ان ادخل المحدث اوالجنب یدہ مثلا فی جرۃ لم یتغیر ماؤھا لان المستعمل منہ مالاقی بدنہ وھو اقل بالنسبۃ الی الباقی واحتج علی ذلک بثلثۃ اشیاء الاول کلام البدائع حیث قال فی الکلام علی حدیث لایبولن احدکم فے الماء الدائم(ای حین استدل بہ للامام علی نجاسۃ الماء المستعمل)لایقال انہ نھی(ای عن الاغتسال فیہ لالان المستعمل نجس بل)لما فیہ من(۲)اخراج  الماء من ان یکون مطھرا من غیر ضرورۃ وذلک حرام لانانقول الماء القلیل انما یخرج عن کونہ مطھرا باختلاط غیر المطھر بہ اذاکان غیر المطھر غالبا کماء الورد واللبن ونحو                                               

پہلی فصل ، علامہ قاسم کا کلام :

علامہ قاسم کا رسالہ تقریباً ایک کاپی ہے جس میں “ ماءِ کثیر “ کی

تعریف پر انہوں نے مفصل گفتگو کی ہے ، اور تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ اس کے تمام کنارے برابر ہیں طہارت کے جواز میں ، خواہ نجاست نظر آنے والی ہو یا نہ ہو ، اور شرح مختار ، تحفہ ، بدائع وغیرہ پر کافی رد کیا یہاں تک کہ لفظی گرفت سے بھی نہ چُوکے۔ ہم اس وقت یہ چیزیں بیان کرنا نہیں چاہتے ، ہماری غرض اس رسالہ کے آخری ورق سے متعلق ہے جس میں انہوں نے ماءِ مستعل کے مسائل بیان کیے ہیں اور یہ کہ وہ پانی کو اس وقت تک تبدیل نہیں کرتا ہے جب تک وہ اس پر غالب نہ آجائے ، اور انہوں نے اس سلسلہ میں ملقیٰ اور ملاقی کو برابر قرار دیا ہے یعنی جس طرح مستعمل پانی اگر کسی حوض یا ٹھلیا میں ڈالا جائے اور ٹھلیا کا پانی مستعمل پانی سے زیادہ ہو تو اس سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے۔ صحیح ، معتمد قول یہی ہے اور عام علماء کا یہی قول ہے اور اسی طرح اگر محدِث یا ناپاک نے اپنا ہاتھ کسی ٹھِلیا میں ڈالا تو پانی متغیر نہ ہوگا کیونکہ اس میں سے مستعمل وہ ہے جو اس کے بدن سے ملا اور بہ نسبت باقی کے کمتر ہے ، اس پر تین چیزوں سے استدلال کیاہے :

اوّل صاحبِ بدائع نے “ لایبولن احدکم فی الماء الدائم “ (ٹھہرے پانی میں کوئی پیشاب نہ کرے)پر کلام کرتے ہوئے فرمایا(یعنی جب امام نے اس سے مستعمل پانی کی نجاست پر استدلال کیا)یہ نہ کہا جائے کہ یہ نہی ہے(یعنی اس میں غسل کرنے سے اس لئے نہیں کہ مستعمل نجس ہے بلالکہ)کیونکہ اس میں پانی کو بلا ضرورت مُطِہّر

ذلک فاما ان یکون مغلوبا فلا وھھنا الماء المستعمل مایلاقی البدن ولا شک ان ذلک اقل من غیر المستعمل فکیف یخرج بہ من ان یکون مطھرا[1] انتھی۔

قلت :  وتمامہ فاما ملاقاۃ النجس الطاھر فتوجب تنجیس الطاھر وان لم یغلب علی الطاھر لاختلاطہ بالطاھر علی وجہ لایمکن التمییز بینھما فیحکم بنجاسۃ الکل[2] اھ۔ قال وقال فی موضع اٰخر(ای بعدہ ، بورقات)فیمن وقع فی البئر فان کان علی بدنہ نجاسۃ حکمیۃ بان کان محدثا اوجنبا اوحائضا اونفساء(ای وقد انقطعا من جعلھا مستعملا وجعل المستعمل طاھرا(یرید محمدا رحمہ الله تعالٰی)لان غیرالمستعمل اکثر فلا یخرج عن کونہ طھورا مالم یکن المستعمل غالبا علیہ عنھما)فعلی قول من لا یجعل ھذا الماء مستعملا(قلت یرید الامام ابا یوسف رحمہ الله تعالی لاشتراطہ الصبّ)لاینزح شیئ لانہ طھور وکذا علی قول کما لوصب اللبن فی البئر بالاجماع اوبالت شاۃ فیھا عند محمد [3]رحمہ الله تعالی انتھی۔   

ہونے سے خارج کرنا ہے اور یہ حرام ہے ، کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ ماءِ قلیل مطِہرّ ہونے سے اس لئے خارج ہوجاتا ہے کہ وہ غیر مطہر پانی سے ملتا ہے مگر یہ اس وقت ہوگا جب غیر مطہر غالب ہو ، مثلاً گلاب کا پانی اور دودھ وغیرہ ، اور اگر مطلوب ہو تو نہ ہوگا اور یہاں مستعمل پانی وہ ہے جو بدن سے ملاتی ہوتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ یہ غیر مستعمل سے کم ہے تو اس کی وجہ سے مطہر ہونے سے کیسے خارج ہوگا انتہیٰ۔

میں کہتا ہوں مکمل اس طرح ہے ، اور نجس کا طاہر کو ملاقی ہونا طاہر کو نجس کردیتا ہے اگرچہ طاہر پر غالب نہ ہو کیونکہ وہ طاہر سے اس طور پر مل گیا ہے کہ دونوں میں امتیاز ممکن نہیں رہا ہے تو کل کی نجاست کا حکم کیا جائے گا اھ۔ کہا ، اور دوسرے مقام پر فرمایا(یعنی اس کے کچھ ورق بعد)اس شخص کی بابت جو کنویں میں گر پڑا تو اگر اس کے بدن پر نجاست حکمیہ ہو مثلاً یہ کہ وہ بے وضو یا جنب یا حیض ونفاس والی عورت ہو(یعنی ان دونوں عورتوں کی ناپاکی ختم ہوچکی ہو)تو اُس کے قول پر جو پانی کو مستعمل قرار نہیں دیتا ہے(میں کہتا ہوں اس سے ان کی مراد امام ابو یوسف ہیں جن کے نزدیک بہانا شرط ہے)کنویں سے کچھ بھی نہیں نکالا جائے گا کیونکہ وہ پاک کرنے والا ہے ، اور اسی طرح اُن کے قول پر جو پانی کو مستعمل کہتے ہیں اور مستعمل کو پاک کہتے ہیں(امام محمدمراد ہیں) کیونکہ غیر مستعمل زائد ہے تو ظہور ہونے سے اس وقت تک خارج نہ ہوگا جب تک مستعمل پانی غالب نہ ہوجائے ، مثلاً دودھ کنویں میں ڈال دیا جائے ،

قلت :  وتمامہ واما علی قول من جعل ھذا الماء مستعملا وجعل الماء المستعمل نجسا(یرید الامام رضی الله تعالی عنہ علی روایۃ الحسن بن زیاد رحمہ الله تعالٰی عنہ نجاسۃ الماء المستعمل وان کانت روایتہ عنہ رضی الله تعالی عنہ فی خصوص المسألۃ ماسیذکرہ)ینزح ماء البئرکلہ کما لووقعت فیھا قطرۃ من دم اوخمر وروی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہ انہ ان کان محدثا ینزح اربعون وان کان جنبا ینزح کلہ وھذہ الروایۃ مشکلۃ لانہ لا یخلو اما ان صار ھذا الماء مستعملا اولا فان لم یصر مستعملا لایجب نزح شیئ لانہ بقی طھورا کما کان وان صار مستعملا فالماء المستعمل عند الحسن نجس نجاسۃ غلیظۃ فینبغی ان یجب نزح جمیع الماء [4]اھ۔ وانما ننقل ھذہ التمامات لفوائد ستعرفھا بعون الله تعالٰی قال وقال فی موضع اٰخر(ای قبل ھذا باوراق وبعد الاول بقلیل)لواختلط الماء المستعمل بالماء القلیل قال بعضھم لایجوز التوضی بہ وان قل وھذا فاسد اما عند محمد رحمہ الله تعالٰی فلانہ طاھر لم یغلب علی الماء المطلق فلا یغیرہ عن صفۃ                           

اور یہ بالاجماع ہے ، یا بکری نے کنویں میں پیشاب کردیا ، امام محمد کے نزدیک انتہی۔

میں کہتا ہوں اس کا مکمل یہ ہے کہ ، اور ان لوگوں کے قول پر جنہوں نے اس پانی کو مستعمل قرار دیا ہے اور مستعمل پانی کو نجس قرار دیا ہے(اس سے مراد امام ابو حنیفہ ہیں بروایت حسن بن زیاد کہ مستعمل پانی نجس ہوگا اگرچہ حسن کی روایت ابو حنیفہ سے خاص اسی مسئلہ میں ہے کہ جیسا وہ ذکر کریں گے)کُنویں کا کُل پانی نکالا جائے گا ، جیسے کہ کُنویں میں خُون یا شراب کا قطرہ گر جائے ، اور حسن نے ابو حنیفہ سے روایت کی کہ اگر بے وضو ہو تو چالیس ڈول پانی نکالا جائے گا اور اگر جنب ہو تو کل پانی نکالا جائے گا ، اور یہ روایت مشکل ہے کہ یا تو یہ پانی مستعمل ہوگا یا نہیں تو اگر مستعمل نہیں ہے تو کچھ بھی پانی نہ نکالا جائے گا ، کیونکہ وہ بدستور پاک ہے جیسا کہ تھا ، اور اگر مستعمل ہوگیا تو حسن کے نزدیک مستعمل پانی نجاست غلیظہ ہے تو کنویں کا کُل پانی نکالنا چاہئے اھ یہ جو کچھ ہم نے نقل کیا ہے اُن فوائد کی خاطر ہے جن کو آپ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ پہچانیں گے ، فرمایا اور کہا ایک دوسرے مقام پر(یعنی اس سے چند ورق پہلے اور پہلے سے کچھ بعد)اگر ماء مستعمل تھوڑے پانی میں مل گیا تو بعض کے نزدیک اُس سے وضو جائز نہیں خواہ وہ کم ہی کیوں نہ ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ فاسد ہے امام محمد کے نزدیک تو اس لئے کہ یہ پاک ہے اور ماء مطلق پر غالب نہیں ہوا ہے ، تو اس کو طہوریت کی صفت سے

الطھوریۃ کاللبن واما عندھما رضی الله تعالی عنہما فلان القلیل مما لایمکن التحرز عنہ یجعل عفوا ثم الکثیر عند محمد مایغلب علی الماء المطلق وعندھما ان یستبین موضع القطرۃ فی الاناء انتھی۔  [5]  قال وقد علمت ان الصحیح المفتی بہ روایۃ محمد عن ابی حنیفۃ رحمھما الله تعالیٰ [6]  اھ

 



[1]   بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷

[2]   بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷

[3]   بدائع الصنائع فصل فی الطہارۃ الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۷

[4]     بدائع الصنائع بیان مقدار الذی یصیربہ المحل نجسا سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۴

[5]   بدائع الصنائع فصل فی الطہارت الحقیقیۃ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸

[6]              الاشتباہ عن مسألۃ المیاہ



Total Pages: 220

Go To