Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

ثالثاً تحقیق مقام وابانت صواب اور اس کیلئے اپنی تحریر مذکور سے رفع حجاب۔

وبالله التوفیق فی کل باب والحمدلله الکریم الوھاب۔

فوائد قیود و مسائل مورود

فائدہ۱ : (۱)نابالغ اگرچہ ایک دن کم پندرہ برس کا ہو جبکہ آثار بلوغ مثل احتلام وحیض ہنوز شروع نہ ہوئے ہوں اُس کا پاک بدن جس پر کوئی نجاست حقیقیہ نہ ہو اگرچہ تمام وکمال آب قلیل میں ڈوب جائے اُسے قابلیت وضو وغسل سے خارج نہ کرے گا لعدم الحدث(ناپاک نہ ہونے کی وجہ سے۔ ت)اگرچہ بحال احتمال نجاست جیسے ناسمجھ بچّوں میں ہے بچنا افضل ہے ہاں بہ نیت قربت سمجھ وال بچّہ سے واقع ہو تو مستعمل کر دے گا۔

لانہ من اھلھا وقد بینا المسئلۃ فی الطرس المعدل۔

کیونکہ وہ اس کے اہل سے ہے اور ہم نے یہ مسئلہ 'الطرس المعدل' میں بیان کردیا۔ ت

وجیز امام کُردری میں ہے :

ادخل صبی یدہ فی الاناء ان علم طھارۃ یدہ بان کان لہ رقیب یحفظہ اوغسل یدہ فھو طاھر ان علم نجاستہ فنجس وان شک فالمستحب ان یتوضأ بغیرہ لقولہ صلی الله تعالی علیہ وسلم دع ما یریبک الی مالا یریبک المختار ان وضوء الصبی العاقل مستعمل وغیر العاقل لا [1]۔

اگر بچّہ نے پانی میں ہاتھ ڈالا ، اور یہ معلوم ہے کہ اُس کا ہاتھ پاک ہے ، مثلاً کوئی شخص بچہ کی دیکھ بھال پر متعین ہے یا اُس نے ہاتھ دھویا ہوا تھا ، تو یہ پانی پاک ہے اور اگر اُس کے ہاتھ کا ناپاک ہونا معلوم ہے تو پانی ناپاک ہے ، اور اگر شک ہے تو مستحب ہے کہ دوسرے پانی سے وضوء کرے ، کیونکہ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے : “ جو چیز تم کو شک میں ڈالے اس کو چھوڑ کر وہ اختیار کرو جو شک میں نہ ڈالے “ ۔ مختاریہ ہے کہ عاقل بچّہ کا وضو کرنا پانی کا مستعمل بناتا ہے غیر عاقل کا نہیں بناتا۔ (ت)اسی لئے ہم نے مکلّف کی قید لگائی

فائدہ ۲ : اقول قول بعض پر کہ موت(۲)نجاست حکمیہ ہے اگر میت کا ہاتھ یا پاؤں مثلاً آبِ قلیل میں قبل غسل پڑ جائے اگرچہ بہ نیت غسل تو پانی کو مستعمل کردے گا کہ زوال نجاست کیلئے نیت کی حاجت نہیں(۳)اگرچہ احیا پر سے اس فرض کفایہ کے سقوط کو اُن کی جانب سے وقوع فعل قصدی لازم ہے ولہٰذا اگر میت دریا میں ملے تو جب تک احیا اپنے قصد سے اسے پانی میں جنبش نہ دے اُن پر سے فرض نہ اُترے گا مگر میت کے سب بدن پر پانی گزر گیا تو اُسے طہارت حاصل ہوگئی یونہی بے غسل دیے اس پر نماز جنازہ جائز ہے اور خاص غسل میت کی نیت تو احیا پر بھی ضرور نہیں اپنا قصدی فعل کافی ہے یہی اس مسئلہ میں توفیق وتحقیق ہے درمختار میں ہے :

(ان غسل(المیت)بغیر نیۃ اجزأہ(لطھارتہ لا لاسقاط الفرض عن ذمۃ المکلفین(و)لذا قال (لو وجد میت فی الماء فلا بد من غسلہ ثلثا)لانا امرنا بالغسل فیحرکہ فی الماء بنیۃ الغسل ثلثا فتح وتعلیلہ یفید انھم لوصلوا علیہ بلا اعادۃ غسلہ صح وان لم یسقط وجوبہ عنھم فتدبر [2]۔                                              

(اگر غسل دیا)میت کو(بغیر نیت کے تو کافی ہے)اُس میت کی طہارت کیلئے نہ کہ فرض کو مکلّف لوگوں سے ساقط کرنے کیلئے(اور)اس لئے فرمایا(اگر کوئی مردہ پانی میں ملا تو بھی اس کو تین مرتبہ غسل کرانا ضروری ہے)کیونکہ ہمیں غسل دینے کا حکم دیا گیا ہے تو اُس مُردہ کو پانی میں تین مرتبہ بنیت غسل حرکت دینی چاہئے ، فتح۔ اور جو وجہ انہوں نے بیان کی ہے اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس کی نماز جنازہ اُس کے غسل کے اعادہ کے بغیر پڑھ لی گئی تو لوگوں سے جنازہ کا وجوب ساقط ہوجائیگا اگرچہ ان سے غسل کا وجوب ساقط نہ ہوگا ، فتدبر۔ (ت)

عنایہ میں ہے :

الماء مزیل بطبعہ فکما لاتجب النیۃ فی غسل الحی فکذا لاتجب فی غسل المیت ولہذا قال فی فتاوی قاضی خان میت غسلہ اھلہ من غیر نیۃ الغسل اجزائھم ذلک [3] ۔

پانی اپنی طبیعت کی وجہ سے زائل کرنے والا ہے تو جس طرح زندہ شخص کے غسل میں نیت لازم نہیں اسی طرح مردہ کے غسل میں بھی نہیں ، اسی لئے قاضی خان میں فرمایا کہ اگر کسی مُردہ کو اس کے گھر والوں نے بلا نیت غسل دے دیا تو کافی ہے۔ ت

ردالمحتار میں ہے :

وصرح فی التجرید والا سبیجابی والمفتاح بعدم اشتراطھا ایضا [4]۔

تجرید ، اسبیجابی اور مفتاح میں بھی نیت کے شرط نہ کرنے کی تصریح ہے۔ ت

اُسی میں ہے :

قال فی التجنیس لابد من النیۃ فی غسلہ فی الظاھر وفی الخانیۃ اذا جری الماء علی المیت اواصابہ المطر عن ابی یوسف لاینوب عن الغسل لانا امرنا بالغسل وذلک لیس بغسل وفی النھایۃ والکفایۃ وغیرھما لابد منہ الا ان یحرکہ بنیۃ الغسل اھ ثم نقل توفیق الفتح باستظہار ان اشتراطھا لاسقاط وجوبہ عن المکلف لالتحصیل طہارتہ ھو وشرط صحۃ الصلاۃ علیہ اھ ثم منازعۃ الغنیۃ لہ بان مامر عن ابی یوسف یفید ان الفرض فعل الغسل منا حتی لوغسلہ(١(لتعلیم الغیر کفی ولیس فیہ مایفید اشتراط النیۃ لاسقاط الوجوب بحیث یستحق العقاب بترکہا وقد تقرر فی الاصول ان ماوجب لغیرہ من الافعال الحسیۃ یشترط وجودہ لاایجادہ کالسعی والطہارۃ نعم لاینال ثواب العبادۃ بدونھا اھ قال واقرہ الباقانی وایدہ بما فی المحیط لووجد المیت فی الماء لابد من غسلہ لان الخطاب یتوجہ الی بنی اٰدم ولم یوجد منھم فعل اھ فتلخص انہ لابد فی اسقاط الفرض من الفعل واما النیۃ فشرط لتحصیل الثواب ولذا اصح تغسیل الذمیۃ زوجہا المسلم مع ان النیۃ شرطہا الاسلام فیسقط الفرض عنا بفعلنا بدون نیۃ وھو المتبادر من قول الخانیۃ اجزأھم ذلک[5] اھ                                         

اور تجنیس میں ہے کہ ظاہر قول کے مطابق مردہ کے غسل میں نیت ضروری ہے ، اور خانیہ میں ہے اگر میت پر پانی بَہ گیا یا بارش پڑ گئی تو ابو یوسف سے منقول ہے کہ یہ غسل شمار نہ ہوگا ، کیونکہ ہمیں غسل کا حکم دیا گیا ہے اور یہ غسل نہیں ہے ، اور نہایہ وکفایہ وغیرہما میں ہے کہ مردہ کو ایسی صورت میں بہ نیت غسل حرکت دینا لازم ہے ، پھر انہوں نے فتح کی تطبیق نقل کی اور یہ بھی ذکر کیا کہ حرکت دینے کی شرط اس لئے ہے کہ غسل کا وجوب مکلف سے ساقط ہوجائے ، یہ نہیں کہ مردہ پاک ہوجائے ، اور نہ یہ اُس پر نماز کی صحت کی شرط ہے اھ پھر اُن کا غنیہ سے یہ جھگڑا کرنا کہ جو نقل ابو یوسف کی گزری اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرض یہ ہے کہ ہم زندہ لوگ اُس مُردہ کو غسل دیں ، یہاں تک کہ اگر مُردہ کو دُوسروں کو سکھانے کی غرض سے غسل دیا تو کافی ہوگا مگر اس میں یہ موجود نہیں ہے کہ نیت بھی اسقاطِ واجب کیلئے شرط ہے کہ اگر نہ ہو تو وہ عذاب کا مستحق ہو ، اور اصول میں یہ مقرر ہے کہ جو افعال حسّیہ غیر کیلئے واجب ہوں تو اُن کا وجود ضروری ہے نہ کہ ایجادان کے موجود ہونے کیلئے ضروری ہے ، جیسے کہ سعی اور طہارت ، ہاں نیت کے بغیر عبادت کا ثواب نہیں ملے گا اھ فرمایا اس کو باقانی نے مقرر رکھتے ہوئے اس کی تائید محیط سے کی ہے ، محیط میں ہے کہ اگر میت پانی میں پائی گئی تو بھی اس کا غسل ضروری ہے کیونکہ خطاب بنو آدم کو ہے اور اُن سے کوئی فعل پایا نہیں گیا اھ تو خلاصہ یہ نکلا کہ اسقاط فرض میں

 



[1]        فتاوٰی بزازیۃ المعروف الوجیز الکردری  علی الحاشیۃ الہندیۃ  نوع فی المستعمل  والمقید والمطلق نورانی کتب خانہ پشاور ۴ / ۹

[2]   الدرالمختار  باب صلوٰۃ الجنازۃ مجتبائی دہلی  ۱ / ۱۲۰

[3]   عنایۃ مع الفتح فصل فی الغسل للمیت نوریہ رضویہ سکھر ۲ / ۷۴

[4]   ردالمحتار   فصل فی الغسل للمیت البابی مصر  ۱ / ۶۳۵

[5]        ردالمحتار فصل فی الغسل للمیت البابی مصر ۱ / ۶۶۳



Total Pages: 220

Go To