Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

اقول : (۱)ویرد ایضا علی ماابداہ ان فناء البلل غیر مطرد اما سمعت تصحیح الخلاصۃ الجواز فی مد الاطراف وان لم یکن الماء متقاطرا [1]مع ان حکم المسألۃ مطلق(۲)ویظھرلی والله تعالٰی  اعلم ان لامخلص الا ان یقال ان المراد بعدم الاجزاء مااذا کانت

پھیل سکتا ہے اور چوتھائی سر کے اعتبار پر جائز نہیں ، کیونکہ جو پانی ان دو کے درمیان ہے ظن غالب نہیں کہ وہ چوتھائی کی مقدار کو پورا ہوسکے اھ۔ ت

میں کہتا ہوں کہ ان کے کلام کا آخر اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ ان کی مراد یحتمل الامتداد الی قدر الفرض سے تین انگلیوں کا پھیرنا ہے ، تو بہتر یہ ہے کہ اسی سے تعبیر کی جائے تاکہ وہم رفع ہوجائے پھر محقق نے اس کو یہ کہہ کر دفع کیا ہے مگر اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں سے تیمم جائز نہ ہو اھ ت

میں کہتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی چیز ایسی نہیں جو فنا ہوجاتی ہو ، کیونکہ ہاتھ پر گرد کے لگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر ہو تو یہ اضافی امر ہے شرعاً اس کی حاجت نہیں ، تو یہ حُکما نہ ہوا ، اور اگر غبار نہ ہو تو بات زیادہ ظاہر ہوگی کیونکہ درحقیقت اور حکماً دونوں طرح ہی معدوم ہے اور شمس الائمہ کے قول “ خصوصا عی الحجر الصلد “ کا یہی مفہوم ہے ، یہ وہ بحث ہے جو محقق نے کی ہے اور اس میں کسی قولِ فیصل کو ذکر نہ کیا۔ (ت)

میں کہتا ہوں اور جوانہوں نے فرمایا اس کی تردید ا س امر سے بھی ہوتی ہے کہ تری کا ختم ہوجانا کوئی عمومی امر نہیں ، جیسا کہ خلاصہ کی تصحیح میں گزرا کہ مسح انگلیوں کے پوروں کے پھیرنے سے بھی ہوجائیگا خواہ ان سے پانی نہ بہتا ہو ، حالانکہ مسئلہ کا حکم مطلق ہے ، میرے لئے ظاہر ہوتا ہے (والله

البلۃ خفیفۃ تفنی باول وضع اوقلیل مدحتی لاتبقی الانداوۃ لاتنفصل عن الید فبتل الرأس ولعلہ ھو الاکثر وقوعا وبتصحیح الخلاصۃ مااذا کانت کثیرۃ تبقی الی بلالوغ القدر المفروض بحیث تنفصل فی کل محل وتصیب وھذا ھو مراد المحیط بالتقاطر فتتفق الکلمات وانت اذ انظرت الی الوجہ اذعنت بھذا التفصیل کیف ولا معنی لاجزاء النداوۃ فی الصورۃ الاولیٰ ولا ھدار البلۃ فی الصورۃ الثانیۃ فلیکن التوفیق وبالله التوفیق۔

اما حدیث(۱)التیمم فاقول :  لابدفیہ من قصد المکلف وفعلہ الاختیاری فیکون لتقریر الامام شمس الائمۃ فیہ مساغ الاتری انھم صرحوا ان لوتیمم(۲)باصبع اواصبعین وکرر مرارا لم یجز کما فی البحر عن السراج عن الایضاح ولو مسح راسہ باصبع واحدۃ وکرراربعا فی مواضع صح اجماعا فلا یطلب موافقۃ ماھنا لما فی التیمم حتی یعکر علیہ بہ اذ لاتعین للالۃ ھھنا اصلا بخلاف التیمم وذلك ایضا فی الطریق المعتاد اعنی التیمم بالید والا فقد نص فی الحلیۃ ان(۳)لو تمعک فی التراب یجزئہ ان اصاب وجہہ وذراعیہ وکفیہ لانہ اتی بالمفروض وزیادۃ والا فلا [2] اھ۔ ای یجزئہ ان نوی کما          

تعالٰی  اعلم)کہ اس اعتراض سے چھٹکارے کی ایک ہی شکل ہے کہ اس سے یہ مراد لی جائے کہ جب تری اتنی کم ہو کہ رکھتے ہی ختم ہوجائے یا تھوڑا سا پھیرنے پر ختم ہوجائے اور محض اتنی باقی رہے کہ ہاتھ ترمحسوس ہو اور وہ سر کو تر نہ کرسکے اور غالباً عام طور پر ایسا ہی واقع ہوتا ہے ، اور خلاصہ کی تصحیح سے مراد یہ ہو کہ جب تری اتنی زیادہ ہوکر فرض مقدار تک پہنچنے کے بعد بھی باقی رہے یعنی اس طور پر کہ ہر جگہ جدا ہو اور لگ جائے ، اور محیط کی مراد تقاطر سے یہی ہے اس طرح تمام عبارات میں اتفاق ہوجائے گا ، اور جو تم علت کو دیکھو گے تو یقین آجائے گا کیونکہ پہلی صورت میں تری کے پھیرنے کے اور کوئی معنی نہیں اور نہ ہی دوسری صورت میں تری کو ضائع کرنے کے ، تو اس طرح تطبیق دینی چاہئے وبالله التوفیق۔

رہی حدیثِ تیمم ، تو اس میں مکلّف کا ارادہ اور اس کا اختیاری فعل ضروری ہے ، تب شمس الائمہ کی تقریر اس میں چل سکے گی ، یہی وجہ ہے کہ فقہا ء نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ اگر کسی نے ایک یا دو انگلیوں سے تیمم کیا اور ان کو بار بار پھرا تو جائز نہیں جیسا کہ بحر میں سراج سے ایضاح سے منقول ہے ، اور اگر ایک انگلی سے اپنے سر کا مسح کیا اور چار مختلف جگہوں پر اس کا تکرار کیا تو اجماعاً صحیح ہے ، تو اس کی موافقت تیمم کے معاملہ سے نہ کی جائے تاکہ اُس سے اعتراض لازم آئے کیونکہ یہاں آلہ کا تعین بالکل نہیں

لایخفی والله تعالٰی  اعلم۔

بخلاف تیمم کے ، اور یہ بھی معتاد طریق میں ہے ، یعنی ہاتھ سے تیمم میں ورنہ حلیہ میں تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص خاک میں لوٹ پوٹ ہوگیا اور خاک اس کے چہرے ، ہاتھوں اور بانہوں کو لگ گئی تو کافی ہے کیونکہ اُس نے نہ صرف فرض ادا کرلیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کرلیا ، ورنہ نہیں اھ یعنی اگر اس نے نیت کی ہے تو کافی ہوگا ، جیسا کہ ظاہر ہے والله تعالٰی  اعلم۔

______________________

فتوٰی مسمّٰی بہ

النمیقۃ الانقی فی فرق الملاقی والملقی۱۳۲۷ھ

ملنے والے اور ڈالے گئے پانی کے فرق میں ایک پاکیزہ تحریر(ت)

مسئلہ ۲۹ :                                                                                                                                 رجب ۱۳۲۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ اگر بے وضو یا جُنب کا ہاتھ یا انگلی یا ناخن وغیرہ لوٹے یا گھڑے میں پڑ جائے تو پانی وضو کے قابل رہتا ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں اس سے پانی مکروہ ہوجاتا ہے اور اگر قابل وضو نہ رہے تو کس طرح قابل کیا جاسکتا ہے بیّنوا توجروا۔  

الجواب :

بسم الله الرحمٰن الرحیم ط ، الحمدلله الذی انزل الذکر الملقی علی السید الطیب الطھور الانقی الملاقی ربہ لیلۃ الاسراء علیہ من ربہ الصلاۃ الزھراء وعلی اٰلہ وصحبہ وامتہ وحزبہ الی یوم اللقاء اٰمین

راجح ومعتمد یہ ہے کہ مکلّف پر جس عضو کا دھونا کسی نجاست حکمیہ مثل حدث وجنابت وانقطاع حیض ونفاس کے سبب بالفعل واجب ہے وہ عضو یا اُس کا کوئی حصّہ اگرچہ ناخن یا ناخن کا کنارہ آبِ غیر کثیر میں کہ نہ جاری ہے نہ دہ  دردہ بے ضرورت پڑ جانا پانی کو قابلِ وضو وغسل نہیں رکھتا یعنی پانی مستعمل ہوجاتا ہے کہ خود پاک ہے اور نجاست حکمیہ سے تطہیر نہیں کرسکتا اگرچہ نجاست حقیقیہ اس سے دھو سکتے ہیں ، یہی قول نجیح ورجیح ہے عامہ کتب میں اس کی تصریح ہے اور یہ خود ہمارے ائمہ ثلٰثہ امامِ اعظم وامام ابو یوسف وامام محمد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمسے منصوص ومروی آیا اکابر مشائخ مثل امام ابو عبداللہ  جرجانی وامام ابو الحسین قدوری وامام ملک العلماء ابو بکر کاشانی وامام  فقیہ النفس فخرالدین قاضی وغیرہمرَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰینے اُسے ہمارے ائمہ کا مذہب متفق علیہ بتایا۔ فقیر غفرلہ المولی القدیر نے اپنی ایک تحریر میں اُس پر ائمہ ثلٰثہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکے سوا چالیس ائمہ وکتب کے نصوص نقل کئے اور بعض علمائے متاخرین رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکو جو اس میں شبہات واقع ہوئے ان کے جواب دیے۔

یہاں اوّلاً فوائد اور ان کے متعلق مسائل ذکر کریں۔

ثانیاً اتمام جواب۔

 



[1]               خلاصۃ الفتاوٰی الفصل الرابع فی المسح نولکشور لکھنؤ ۱ / ۲۶

[2]       حلیہ



Total Pages: 220

Go To