Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

اقول :  ھذا حق فی نفسہ لکن لایصلح تعریفا اذلو ارید بالماء الماء المطلق دارو الافلا زوال عن المقید ایضا اصلا کما علمت مع جوابہ وفسرہ فی الغنیۃ مرۃ بالسادس اذقال تحت قول الماتن اذالم یزل عنہ اسم الماء مانصہ بحیث لوراٰہ الرائی یطلق علیہ اسم الماء [1]  اھ

اقول : (۱)وقد علمت فسادہ ومرۃ زاد فیہ الخامس اذقال تحت قول الاقطع ولم یتجددلہ اسم اٰخربان سمی شرابا      

یہ اس کے سابقہ معنے ہیں ، اس کی طرف بہت سی کتب میں اشارہ کیا گیا ہے ، تبیین میں ہے اس سے پانی کے نام کا زائل ہونا ہی معتبر ہے اھ اور ہدایہ اور کافی میں ہے مگر یہ کہ وہ پانی پر غالب ہو تو ستّو کی طرح ہوجائے ، کیونکہ اس سے پانی کا نام زائل ہوگیا اھ اور منیہ میں ابو نصرا قطع کی شرح قدوری سے ہے کہ جب پاك چیز پانی میں مل جائے اور اس سے پانی کا نام زائل نہ ہو تو وہ طاہر بھی ہے طہور بھی ہے اھ(ت)
میں کہتا ہوں یہ فی نفسہ حق ہے لیکن یہ تعریف نہیں بن سکتا ہے کیونکہ اگر پانی سے مطلق پانی کا ارادہ کیا جائے تو دور لازم آئے گا ورنہ مقید سے بھی زوال نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے مع جواب کے جانا ، اور اس کی تفسیر غنیہ میں ایك جگہ “ چھٹے “ سے کی کیونکہ انہوں نے ماتن کے قول کہ جب اس سے پانی کا نام زائل نہ ہوا ، کے تحت فرمایا کہ اگر دیکھنے والا اس کو دیکھے تو اس پر پانی کا نام بولے اھ(ت)

میں کہتا ہوں اس   کا فساد آپ کو معلوم ہوچکا ہے اور کبھی اس میں پانچویں کو زیادہ کیا کیونکہ انہوں نے اقطع کے قول کے تحت فرمایا اس کا کوئی نیا نام نہیں

اونبیذا اونحو ذلك [2] اھ اقول ان(۱)عطفہ تفسیرافموقوف علی ثبوت ان کل مازال عنہ اسم الماء وجب ان یوضع بازائہ اسم اٰخر اوان اراد الزیادۃ کان المعنی ان الاطلاق یتوقف علی اجتماع العدمین فان وجد احدھماکأن زال عنہ اسم الماء ولم یتجدد اسم اٰخر اوتجدد اسم اٰخر ولم یزل اسم الماء کان مقیدا وھذا الثانی باطل کما فی الحمیم۔                                                                                                                                                                                                               

پڑا مثلًا یہ کہ شربت یا نبیذ وغیرہ کہا جائے اھ میں کہتا ہوں اس کا عطف تفسیری ہے اور اس امر پر موقوف ہے کہ ہر وہ چیز جس سے پانی کا نام زائل ہوا ہو لازم ہے کہ اُس کے بالمقابل کوئی اور نام وضع کیا جائے اور اگر زیادتی کا ارادہ کیا تو معنٰی یہ ہوں گے کہ اطلاق موقوف ہے دو عدموں کے اجتماع پر تو اگر ان میں سے کوئی ایك پا یا جائے مثلًا یہ کہ اس سے پانی کا نام زائل ہوجائے اور اس کا کوئی نیا نام نہ پڑے یا نیا نام پڑ جائے مگر پانی کا نام زائل نہ ہو تو مقید ہوجائیگا اور یہ دوسری شق باطل ہے جیسا کہ گرم پانی میں۔ (ت)

دہم : مطلق وہ ہے کہ پانی کا نام لینے سے جس کی طرف ذہن سبقت کرے بشرطیکہ اُس کا کوئی اور نام نہ پیدا ہوا ہو اور جس کی طرف لفظ آب سے ذہن سبقت نہ کرے یا اس کا کوئی نیا نام ہو وہ مقید ہے حلیہ میں ہے :

الماء المطلق فیہ عبارات من احسنھا مایتسارع افھام الناس الیہ عند اطلاق الماء مالم یحدث لہ اسم علی حدۃ والماء المقید مالاتتسارع الیہ افھام الناس من اطلاق لفظ الماء اوما حدث لہ اسم علیحدۃ [3] اھ

اقول :  اولا ھذا اصلح من سابقہ فی العکس فانہ لاینتقض منعاوان وجد مقید لم یحدث لہ اسم(۱)واقبل ایرادا منہ فی الطرد فانہ صرح بان تسارع الافھام                                      

مطلق پانی کے متعلق کئی عبارتیں ہیں ، سب سے عمدہ یہ ہے کہ مطلق پانی وہ ہے کہ جب صرف پانی کہا جائے تو ذہن اُس کی طرف منتقل ہوجائیں ، جب تك کہ اس کیلئے کوئی نیا نام نہ پڑے اور مقید پانی وہ ہے کہ جب صرف پانی کا لفظ بولا جائے تو ذہن اس کی طرف نہ جائے یا وہ کہ جس کا کوئی نیا نام ہو اھ(ت)

میں کہتا ہوں اوّلًا مانعیت کے اعتبار سے یہ تعریف پہلی سے بہتر ہے کیونکہ اس پر ایسے مقید پانی کا اعتراض نہ ہوگا جس کو ابھی نیا نام نہیں دیاگیااور جامعیت کے اعتبار سے یہ پہلی سے زیادہ قابل اعتراض ہے اگر اس کا نیا نام پڑ جائے تو ذہنوں کا اس کی طرف سبقت رکھنا کچھ مفید نہ ہوگا ، اور ثانیا اس سے قطع نظر کرتے ہوئے یہ شرط فضول اور بے محل ہے کیونکہ اس نام کا

الیہ لایجدی عنہ حدوث اسم اٰخر وثانیًا(۱)مع قطع النظر عنہ لاشك ان ھذا الشرط ضائع لامحل لہ اصلا فان حدوث الاسم الذی یکون فی المقید لاامکان لاجتماعہ مع تسارع الافھام الیہ عند الاطلاق۔

پیدا ہونا جو مقید میں ہے اُس کا ، اُس کے ساتھ مجتمع ہونے کا کوئی امکان نہیں ، حالانکہ اذہان اُس کی طرف عندالاطلاق سبقت کرتے ہیں۔ (ت)

یازدھم مطلق وہ ہے جس کی طرف نامِ آب سے ذہن سبقت کرے اور اس میں نہ کوئی نجاست ہو اور نہ اور کوئی بات مانع جواز نماز یہ قیدیں بحر میں اضافہ کیں تاکہ آبِ نجس ومستعمل کو خارج کردیں۔

اقول :  ولواکتفی بالاٰخر لکفی ونصہ المطلق مایسبق الی الافھام بمطلق قولنا ماء ولم یقم بہ خبث ولامعنی یمنع جواز الصلاۃ قال فخرج الماء المقید والمتنجس والمستعمل [4] اھ

اقول : (۱)ھل المستعمل واخوہ داخلان فیما یسبق الیہ الذھن باطلاق الماء ام لاعلی الثانی ضاع القیدان وسقط تفریع خروجھماعلی زیادۃ القیدین وعلی الاول(۲)لاشك انھما من الماء المطلق اذلا نعنی بالمطلق الا ھذاوعلیہ اقتصر الائمۃ قبلہ بل(۳)ھو نفسہ فیمابعد ذلك بورقۃ اذقال لانعنی بالمطلق الا مایتبادر عند اطلاق اسم الماء [5]  اھ و ھذہ                                                                                                                                

میں کہتا ہو ں اگر وہ آخر پر اکتفا کرتے تو کافی ہوتا اور اُس کی عبارت یہ ہے کہ مطلق وہ ہے جس کی طرف اذہان مطلق ماء کے بولنے سے منتقل ہوجاتے ہیں ، اور یہ وہ پانی ہے جس میں کوئی ناپاکی نہ ہو اور نہ ایسا کوئی وصف ہو جو جواز صلوٰۃ

کے منافی ہو تو اس قید سے مقید ، متنجس اور مستعمل پانی خارج ہوگیااھ(ت)
میں کہتا ہوں کیا مستعمل اور اس کا مثل پانی اُس پانی میں داخل ہیں جن کی طرف لفظِ ماء بولتے ہی ذہن فوری طور پر منتقل ہوجاتا ہے یا نہیں ، دوسری صورت میں دونوں قیدیں ضائع ہوجائیں گی ، اور دو قیدوں کی زیادتی پر ان دونوں کے خروج کی تفریع ساقط ہوجائے گی ، اور برتقدیر اول اس میں کوئی شك نہیں کہ یہ دونوں مطلق پانی سے ہیں کیونکہ مطلق سے یہی مراد ہے اور اُن سے قبل ائمہ نے اسی پر اکتفا کیا

اھ۔

مناقضۃ(۱)بل فی نفس الکلام ایضا شوب منھا اذ یقول فخرج المقید والمتنجس والمستعمل ولذا قال ش ظاھرہ ان المتنجس والمستعمل غیر مقید مع عـــــہ۱ انہ منہ لکن عند العالم بالنجاسۃ او الاستعمال ولذا قید بعض العلماء التبادر بقولہ بالنسبۃ للعالم بحالہ [6]  اھ

اقول : (۲)رحمك ا لله اذا کان ھذا عارضا خفیا لایظھر لمن لم یعلم بحالہ الا بالاخبار من خارج ظھران الماء فیھماباق علی صرافۃ مائیتہ لم یعرضہ مایخرجہ عنھاوالالظھر لمن نظر وسیرفان الانسان فی معرفۃ الماء من غیرہ لایحتاج الی تعلیم من خارج فکیف یکون مقیدا وبالجملۃ ھذا شیئ تفرد بہ البحر لم ارہ عــہ۲  لغیرہ وتبعہ عــہ۳ علیہ ش وکذا محشی الدرر عبدالحلیم                                                 

بلالکہ انہوں نے خود ہی ایك ورق بعد فرمایا ہماری مراد مطلق سے وہ پانی ہے کہ جب پانی کا لفظ بولا جائے تو اسی کی طرف ذہن متبادر ہو اور یہ مناقضہ ہے بلالکہ نفس کلام میں اس کی ملاوٹ ہے ، وہ فرماتے ہیں تو مقید ، متنجس اور مستعمل اس سے نکل گئے اور اس لئے “ ش “ نے فرمایا کہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ متنجس اور مستعمل غیر مقید ہے حالانکہ یہ مقید سے ہے ، مگر اس کے نزدیك جس کو نجاست یا استعمال کا علم ہو ، اس لئے بعض علماء نے متبادر میں بالنسبۃ للعالم بحالہ کی قید بڑھائی ہے۔ (ت)

 



[1]   غنیۃ المستملی فی المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰

[2]   غنیۃ المستملی فی المیاہ سہیل اکیڈمی لاہور ص۹۰

[3]   حلیۃ

[4]   بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۶

[5]              بحرالرائق کتاب الطہارت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۶۸

[6]       ردالمحتار باب المیاہ مصطفی البابی مصر ۱ / ۱۳۴



Total Pages: 220

Go To