Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

فتاوٰی رضویہ جلد دوم

بحمداللہ تعالٰی فتاوٰی رضویہ کی جلد دوم نہایت عمدہ معیار وانداز اور دیدہ زیب طباعت سے محلّٰی ہوکر آپ کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہے جو آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا اور دل کو باغ باغ کررہی ہے۔ یہ جلد پرانی جلد اول کے صفحہ ۲۳۴ ، باب المیاہ سے صفحہ ۴۸۴ رسالہ ضمنیہالدقۃ والتبیان “ تك ہے جس میں سے رسالہ جلیلہ “ اجلی الاعلام “ جوپرانی جلدکے صفحہ ۳۸۱ سے صفحہ ۴۰۷ تك تھا جلد اول کے شروع میں لگادیاگیا۔ پیش نظر جلد ۳۳ سوالوں کے جوابات ، اقول کے عنوان سے ۹۳۳ فوائد نفیسہ اور ۵۰۲ تطفلات ومعروضات پرمشتمل ہے۔

اس جلد میں مندرجہ ذیل سات۷ رسائل ہیں :

(۱)اَلطِّرْسُ الْمپعْدَلُ فِیْ حَدِّ الْمَاءِ الْمُسْتَعْمَلْ                               مستعمل پانی کی تعریف وتحقیق

(۲)اَلنَّمِیْقَۃُ الْاَنْقٰی فِیْ فَرْقِ الْمُلَاقِیْ وَالْمُلْقٰی۔                                  ماءِ قلیل میں بے وضو یاجنبی کے ہاتھ ڈالنے کا حکم۔

(۳)اَلْھَنِیئُ النَّمِیْرُ فِیْ الْمَآءِ الْمُسْتَدِیْر۔                         مستدیر پانی کی مساحتِ دَہ دردَہ کابیان۔

(۴)رَحْبُ السَّاحَۃِ فِیْ مِیَاہٍ لَایَسْتَوِیْ وَجھُھَا وَجَوْفُھَا فِیْ الْمَسَاحَۃِ   

ان پانیوں کابیان جن کی مساحت اوپر سے کم اور نیچے سے دَہ دردَہ ہے یا اس کے برعکس۔

(۵)ھِبَۃُ الْحَبِیْر فِیْ عُمُقِ مَاءٍ کَثِیْرٍ۔        آب کثیر کی گہرائی کابیان۔

(۶)اَلنُّوْرُ وَالنُّوْرَقُ لِاِسْفَارِ الْمَآءِ الْمُطْلِقْ        مطلق پانی کی تحقیق۔

(۷)عَطَاءُ النَّبِیِّ لِاِفَاضَۃِ اَحْکَامِ مَآءِ الصَّبِیِّ        بچّہ کے حاصل کئے ہوئے پانی کا بیان۔

یہاں حضرت علامہ صاحبزادہ قاضی محمد عبدالدائم صاحب زید مجدہ ، مدیراعلٰی “ جامِ عرفان “ سجادہ نشین آستانہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ ہری پورہزارہ کی مساعی جمیلہ کوخراج تحسین پیش کرنا نہایت ضروری ہے جنہوں نے اس جلد کی نظرثانی ، تصحیح ، بعض مقامات پر ترجمہ کی اصلاح اور عبارات وجمل کی ترتیب وتزئین میں انتہائی عرق ریزی اور محنتِ شاقہ کامظاہرہ فرمایا اور خلوص وللّٰہیّت کے جذبے سے سرشار ہوکر اپنی خداداد ادبی وفکری صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کے حسن وزیبائش میں نکھار پیدا کیا۔ اس پر رضافاؤنڈیشن کے اراکین تہ دل سے ان کے شکرگزار ہیں۔

اہل علم حضرات سے مخلصانہ اپیل ہے کہ ترجمہ وکتابت کی جواغلاط ان کی نظر میں آئیں ان سے مطلع فرمائیں نیز اس عظیم ووقیع منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے اپنی قیمتی تجاویز سے نوازیں۔اللہتعالٰی مفتی صاحب کا سایہ اہلسنت کے سروں پر قائم ودائم رکھے او رجس عظیم منصوبے کا آپ نے آغاز فرمایا ہے اسے پایہ تکمیل تك پہنچانے کے لئے غیب سے وسائل واسباب مہیا فرمائے ، آمین بجاہ حبیب الٰہ العٰلمین۔

O حافظ عبدالستار سعیدی

         ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ

                اندرون لوہاری گیٹ ، لاہور

 

بِسْمِ اللهِ الرَحْمٰنِ الرَّحِیمِ ط

 

باب المیاہ

(پانیوں کا بیان)

مسئلہ ۲۳ : ۲۷ صفر ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بقیہ آبِ وضو سے کہ برتن میں رہ جائے وضو جائز ہے یا نہیں اور اگر پہلا وضو کرنے میں کچھ پانی ہاتھ سے اُس میں گر پڑا تو کیا حکم ہے۔ بیّنوا توجروا۔

 

الجواب :

بقیہ(۱)آبِ وضو کہ برتن میں رہ جاتا ہے مائے مستعمل نہیں بلکہ وہ پانی ہے جو استعمال سے بچ رہا اُس سے وضو میں کوئی حرج نہیں اور مائے مستعمل(۲)اگر غیر مستعمل میں مل جائے تو مذہب صحیح میں اُس سے وضو جائز ہے جب تک مائے مستعمل غیر مستعمل سے زائد نہ ہوجائے اگرچہ مستعمل پانی دھار بندھ کر گراہو ، اور بعض نے کہا اس صورت میں بھی مستعمل فاسد کردے گا اور وضو جائز نہ ہوگا اگرچہ غیر مستعمل زائد ہو مگر ترجیح مذہبِ اول کو ہے۔

فی فتاوی الخلاصۃ جنب اغتسل فانتقض من غسلہ شیئ فی انائہ لم یفسد علیہ الماء اما اذا کان یسیل منہ سیلانا افسدہ وکذا حوض الحمام علی ھذا وعلی قول محمّد لایفسدہ مالم یغلب علیہ یعنی لایخرجہ من الطھوریۃ [1]وفی الدر المختار یرفع الحدث بماء مطلق لابماء مغلوب بمستعمل بالاجزاء فان المطلق اکثر من النصف جاز التطہیر بالکل والا لا علی ما حققہ فی البحر والنھر و المنح [2]  اھ۔  ملتقطا واللّٰہ تعالی اعلم وعلمہ اتم واحکم۔                                                                                                                                                     

فتاوٰی خلاصہ میں ہے اگر جُنبی شخص کے جسم سے بوقتِ غسل کچھ چھینٹے برتن میں گر گئے تو پانی ناپاک نہ ہوگا ، ہاں اگر باقاعدہ بَہہ کر پانی گرا تو ناپاک ہوگا اور حمام کے حوض کا بھی یہی حکم ہے اور امام محمد کا قول ہے کہ صرف اُسی وقت ناپاک ہوگا جب وہ پاک پانی پر غالب ہوجائے اور دُرِّمختار میں ہے کہ مطلق پانی سے حَدَث کو زائل کرے نہ کہ اُس پانی سے جس پر مستعمل پانی غالب ہو اگر مطلق پانی آدھے سے زائد ہو تو کل سے پاکی حاصل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں ، بحر ، نہر اور منح میں یہی تحقیق ہے اھ ملتقطا۔ (ت)

مسئلہ ۲۴ :   از غازی آباد وضلع میرٹھ محلہ باغ مرسلہ حامد حسن صاحب                              ۵ رمضان المبارک ۱۳۱۵ھ

استنجا(۱)یعنی پیشاب پاخانے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے یا نہیں اور وضو کی حرمت میں اس وجہ سے کچھ فرق تو نہیں آتا یا کیا؟ بینوا توجروا

الجواب :

 



   خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارت۱ / ۸)

          [2] الدرالمختار  باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی۱ / ۳۴)



Total Pages: 220

Go To