Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

مطلقًا  عامل کیلئے قرار دینا درست نہیں ، کیونکہ یہ لکڑیوں کے متعین کرنے کی صورت کو بھی شامل ہے ، اور اس کو شارح نے اس کی تفریع کے طور پر ذکر کیا ہے ، بلکہ جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں ماتن نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے ___ دوسری تنبیہ : ہندیہ نے قنیہ سے یہ بھی نقل کیا ہے

اقول : (۱)انظر ما وجہہ فانہ اجیر وحد وشرطہ بیان المدۃ وقد وجد کما فی الغمز وش(۲)وقد قال  عن ابی سلیمٰن بعدہ ان مسمی یوما جازو ذکر بعدہ باسطر عن محیط(۳)السرخسی لو استأجر لیصید لہ اولیغزل لہ اوللخصومۃ اوتقاضی الدین اوقبض الدین لایجوز فان فعل یجب اجر المثل ولو ذکر مدۃ یجوز فی جمیع ذلك [1]اھ۔ ویظھر لی فی تأویلہ ان لیس المراد بالیوم الوقت المعلوم الممتد الی غروب الشمس بل ھو فیہ بعمنی الظرفیۃ ای یقع القطع فی ھذا الیوم فھو للاستعجال مثل خطہ لی الیوم بدرھم فی(۴)الھدایۃ من استأجر رجلا لیخبزلہ ھذہ العشرہ المخاتیم من الدقیق الیوم بدرھم فھو فاسد عند ابی حنیفۃ وقال ابو یوسف ومحمد رضی الله تعالٰی عنھم جازلانہ یجعل المعقود علیہ عملا وذکر اللوقت للاستعجال تصحیحا للعقد ولہ ان المعقود علیہ مجہول لان ذکر الوقت یوجب کون المنفعۃ معقودا علیہا  وذ کر العمل یوجب کونہ معقودا علیہ                       

کسی نے کوئی مزدور اس کام کیلئے لیا کہ وہ آج اُس کیلئے گھاس کاٹے گا ، اُس نے ایسا ہی کیا تو اس کیلئے کوئی اُجرت لازم نہیں ، اور گھاس اُسی کی ہوجائے گی۔ نصیر نے کہا میں نے ابو سلیمٰن سے دریافت کیا الخ۔ (ت)

میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ محض اجیر ہے ، اور اس کی شرط بیان مدۃ ہے جو پائی گئی کما فی الغمزو 'ش' اور اس کے بعد ابو سلیمان سے کہا کہ اگر ایك دن کا کہا تو جائز ہے اور چند سطور بعد محیط سرخسی سے نقل کیا کہ اگر کسی کو اجرت پر لیا تاکہ اس کے لئے شکار کرے یا سُوت کاتے یا اُس کی وکالت کرے یا قرض طلب کرے یا قرض وصول کرے تو جائز نہیں ، تو اگر ایسا کیا تو اجر مثل واجب ہوگا اور اگر مدۃ کا ذکر کیا تو ان تمام صورتوں میں جائز ہے اھ۔ اور اس کی تاویل مجھے یہ معلوم ہوتی ہے کہ یوم سے مراد دن کا وہ معین وقت نہیں ہے جو غروبِ آفتاب تك دراز ہو ، بلالکہ اس میںظرفیت کے معنی ہیں یعنی گھاس کا کاٹنا اس دن میں واقع ہو ، تو یہ جلدی کے اظہار کیلئے ہے ، جیسے یہ کہا کہ آج ہی یہ چیز مجھے سی کردو ، ایك روپے میں ، ہدایہ میں ہے جس نے کسی شخص کو اُجرت پر لیا تاکہ آج ایك درہم میں یہ دس بوری آٹا پکادے تو یہ اجارہ ابو حنیفہ کے نزدیك فاسد ہے ، اور صاحبین نے فرمایا جائز ہے ، صاحبین معقود علیہ عمل کو قرار دیتے ہیں اور ذکرِ وقت کو عجلت کیلئے قرار دیتے ہیں تاکہ عقد صحیح ہو ، امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ معقود علیہ مجہول ہے کیونکہ

ولا ترجیح ونفع المستأجر فی الثانی ونفع الاجیر فی الاول فیفضی الی المنازعۃ(۱)وعن ابی حنیفۃ انہ یصح الاجارۃ اذا قال فی الیوم وقدسمی عملا لانہ للظرف فکان المعقود علیہ العمل بخلاف قولہ الیوم وقدمر مثلہ فی الطلاق [2] اھ۔ اوالامران القنیۃ ذکرت ھذا برمز ثم رمزت لاٰخر وذکرت ماعن نصیر فیکون ھذا قول بعض علی خلاف ماعلیہ الناس وعلی خلاف ماعلیہ الفتوی کما فی(۲)الصیرفیۃ ومن عادۃ الھندیۃ نقل عبارۃ القنیۃ بحذف(۳)الرموز فتصیر الاقوال کقول واحد کما نبھت علیہ فی بعض المواضع من ھو امشھا والله تعالٰی اعلم۔                                                             

وقت کا ذکر منفعت کو معقود علیہا بناتا ہے ، اور عمل کا ذکر اس کو معقود علیہ کرتا ہے ، اور کسی کو کسی پر ترجیح نہیں ہے ، مستاجر کا نفع دوسرے میں ہے اور اجیر کا پہلے میں ہے ، تو اس میں جھگڑا پیدا ہوگا ، اور ابو حنیفہ سے ایك روایت یہ ہے کہ یہ اجارہ اس وقت صحیح ہوگا جبکہ “ دن میں “ کہا اور کسی عمل کا نام لیا ، کیونکہ یہ ظرف ہے تو معقود علیہ عمل ہوا بخلاف اس کے قول “ الیوم “ کے اور اسی کی مثل طلاق کے باب میں گزرا اھ یا معاملہ اس طرح ہے کہ قنیہ نے اسکو ثم کے رمز سے ذکر کرکے دوسرے کی طرف اشارہ کیا ، اور جو کچھ نصیر سے مروی ہے وہ نقل کیا ، یہ بعض کا قول ہے اور بعض کے خلاف ہے ، اور فتوٰی بھی اس کے خلاف پر ہے کما فی الصیرفیۃ اور ہندیہ کی عادت ہے کہ وہ قنیہ کی عبارت رموز کے بغیر ہی نقل کردیتے ہیں ، تو چند اقوال ایك ہی قول کے مانند ہوجاتے ہیں ، اس پر میں نے اس کے بعض حواشی پر تنبیہ کی ہے ، والله تعالٰی اعلم۔ (ت)

صورت ہفتم خود ظاہر ہے کہ اُس کے اقرار سے ملك مستاجر ہے۔

اقول : وذلك لان الاجیر عامل لغیرہ وقد اعترف انہ عمل علی وجہ الاجارۃ واخذہ لمن استأجرہ۔

میں کہتا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ اجیر دوسرے کا عامل ہوتا ہے اور اس نے یہ اعتراف کیا ہے وہ وہ بطور اجیر کام کررہا ہے اور وہ چیز مستاجر کیلئے لے رہا ہے۔ (ت)

یوں ہی صورتِ ہشتم میں کہ ظرف مستاجر میں احراز دلیل ہے کہ مستاجر کیلئے ہے ، جامع الصغار میں ہے :

الاجیر اذا حمل الماء بکوز المستأجر یکون محرزا للمستأجر [3]۔

اجیر جب مستاجر کے کُوزے میں پانی لائے تو وہ مستاجر کا ہوگا۔ (ت)

 رہی صورت نہم ظاہر ہے کہ اس میں مِلك اجیر ہے۔

اقول : اور اس پر تقریر دلیل یوں کہ یہ اجیر نہ بیان مدّت کے ساتھ اپنے منافع بیچ چکا ہے کہ اس وقت میں اُس کا کام خواہی نخواہی آمر کیلئے ہو نہ شیئ کی تعیین ہوئی کہ بوجہ قبول اُس کا پابند ہو تو وہ اپنی آزادی پر ہے کیا ضرور ہے کہ اس وقت جو اُس نے لیا بر بنائے جارہ بغرض مستاجر لیا ہو نہ وہ مقر ہے نہ ہشتم کی طرح کوئی دلیل ظاہر ہے لہٰذا مِلك اجیر ہی ہے والله تعالٰی اعلم۔

اقول :  ویترا أی لی ان مَثَل الاستیلاء ، عند الفقہاء ، کمثل الشراء ، مھما وجد نفاذ(۱)انفذ فاذا وکلہ بشراء عبد ، والموکل لم یعین العبد ، ولا الوکیل اضاف الیہ العقد ، ولا وقع من مالہ النقد ، ولا اقرانہ شراہ لہ ، فانہ یکون للشاری لالمن وکلہ ، والمسألۃ فی الھدایۃ والدر ، وعامۃ الاسفار الغر ، فالتوقیت ھھنا کالاضافۃ ثمہ لانتقال فعلہ الی الاٰمر کمامرو الاحراز بظرفہ کالنقد من مالہ والا قرار الاقرار والتعیین التعیین والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔                      

اور مجھ پر یہ ظاہر ہوا ہے کہ استیلاء کی مثال فقہاء کے نزدیك شراء کی سی ہے جب نفاذ پایا جائیگا اس کو نافذ کر دیا جائیگا۔ اب کسی نے کسی شخص کو غلام خریدنے کیلئے کہا اور موکل نے غلام کی تعیین نہ کی اور نہ وکیل نے عقد کو اس کی طرف مضاف کیا اور نہ اس کے مال سے ادائیگی کی اور نہ یہ کہا کہ اُس نے اس کیلئے خریداہے ، تو یہ غلام خریدنے والے کا ہوگا نہ کہ حکم دینے والے کا ، یہ مسئلہ ہدایہ ، در اور عام کتب میں مذکور ہے ، تو یہاں توقیت کی حیثیت وہاں اضافت کی طرح ہے کیونکہ اس کا فعل آمر کی طرف منتقل ہوتا ہے ، اور اُس کے ظرف کا حاصل کرلینا اس کے مال سے ادائیگی کی طرح ہے اور یہ اقرار اس اقرار کی طرح اور یہ تعیین اس تعیین کی طرح ہے ، والله سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)

بالجملہ یہ نو صورتیں ہیں جن میں سے چار میں وہ شے مباح لینے والے کی مِلك ہے اور پانچ میں دوسرے کی۔ یہ جبکہ لینے والا حُر ہو ورنہ مملوك کسی شے کا مالك نہیں ہوتا اس کا جو کچھ ہے اس کے مولی کا ہے ھذا ماظھر لی نظرا فی کلماتھم وارجو ان یکون صوابا ان شاء الله تعالٰی(یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا ان کے کلمات کو دیکھتے ہوئے اور مجھے امید ہے کہ یہی صحیح ہوگا ان شاء الله تعالٰی۔ ت)

تنقیح دوم۱ یہ اصول مطلق استیلائے مباح میں ہُوئے یہاں کہ گفتگو نابالغ میں ہے یہ بھی دیکھنا ضرور کہ اُس کے والدین اگر اُس سے کوئی شے مباح مثلًا کُنویں سے پانی یا جنگل سے پتّے منگائیں تو اُس نسبت بنوت کے سبب احکام مذکورہ استیلاء میں کوئی تفاوت آئے گا یا نہیں ، اگر آئے گا تو کیا۔ اس میں علماء کے تین قول ہیں :

 



[1]       ہندیۃ الباب السادس عشر پشاور ۴ / ۴۵۱

[2]                الہدایۃ اجارہ فاسدہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲ / ۳۰۴

[3]        جامع الصغار مع جامع الفصولین مسائل الکراہیۃ اسلامی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۴۸



Total Pages: 220

Go To