Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

تو اگر کسی حیوان کو دھویا جائے پھر وہ پانی میں گر جائے تو اس کو ناپاك نہیں کرے گا ، اور اس کے ساتھ نماز جائز ہے۔ (ت)

(۱) اور جب طاہر ہے تو جب تك ثابت نہ ہو کہ یہ پانی نہیں بلالکہ اُس کیڑے ہی کے پیٹ کی رطوبت ہے یا اُس کی رطوبت اِس میں نصف یا زاید ملی ہوئی ہے ناقابلِ وضو ہونے کی کوئی وجہ نہیں ظاہرًا وہ برف ہی کا پانی ہے کہ اس کے جوف میں ملتا ہے اور پاك پانی کے غیر طہور ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو خلط غیر سے مائے مطلق نہ رہے یا اسقاط فرض خواہ اقامت قربت سے مستعمل ہوجائے ثانی یہاں قطعًا منتفی اور اول کا ثبوت نہیں اور کوئی مطلق بلا ثبوت مقید نہیں ہوسکتا۔

الا تری ان النجاسۃ لاتثبت بالشك وھی تسلب الطھوریۃ والطھارۃ معا فضلا عن التقیید۔

نجاست شك سے ثابت نہیں ہوتی ہے اور یہ طہوریت کو سلب کرتی ہے اور طہارت کو بھی چہ جائیکہ تقیید۔ (ت)

(۸) گرم پانی

وھذا وفاق الا ما یحکی عن مجاھد من کراھۃ۔

(اس بات میں اتفاق ہے مگر وہ جو مجاہد سے اس کی کراہت منقول ہے۔ ت)

اقول : مگر اتنا گرم کہ(۱) اچھی طرح ڈالا نہ جائے تکمیل سنت نہ کرنے دے مکروہ ہے یونہی اتنا سرد اور اگر تکمیل فرض سے مانع ہو تو حرام اور وہ وضو نہ ہوگا وفی صحیح البخاری توضأ عمر رضی الله تعالٰی عنہ بالحمیم [1]

(صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے گرم پانی سے وضو فرمایا۔ ت)

(۹) اُپلوں سے گرم کیا ہُوا اور بچنا بہتر ، درمختار میں ہے : وکرہ احمد المسخن بالنجاسۃ [2] (نجاست کے ذریعے گرم شدہ پانی کو امام احمد نے مکروہ گردانا ہے۔ ت)

(۱۰)دھوپ کا گرم پانی مطلقًا  مگر گرم ملک(۲) گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہوجائے وہ جب تك ٹھنڈا نہ ہولے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے غسل سے نہ پینے سے یہاں تك کہ جو کپڑا اس سے بھیگا ہو جب تك سرد نہ ہوجائے پہننا مناسب نہیں کہ اُس پانی کے بدن کو پہنچنے سے معاذ اللہ  احتمالِ برص ہے اختلافات اس میں بکثرت ہیں اور ہم نے اپنی کتاب منتہی الآمال فے الاوفاق والاعمال میں ہر اختلاف سے قول اصح وارجح چنا اور مختصر الفاظ میں اُسے ذکر کیا اُسی کی نقل بس ہے

وھو ھذا قط (ای الدارقطنی) عن عامر والعقیلی عن انس مرفوعا قط والشافعی عن عمر الفاروق موقوفا لاتغتسلوا بالماء انشمس فانہ یورث البرص [3] قط وابو نعیم عن ام المؤمنین انھا سخنت للنبی صلی الله تعالٰی علیہ وسلم ماء فی الشمس فقال لاتفعلی یاحیمراء فانہ یورث البرص [4] وقیدہ العلماء بقیود ان یکون فی قطر ووقت حارین وقد تشمس فی منطبع صابر تحت المطرقۃ کحدید ونحاس علی الاصح الا النقدین علی المعتمد دون الخزف والجلود والا حجار والخشب ولا للشمس فی الحیاض والبرك قطعا وان یستعمل فی البدن ولو شربالا فی الثواب الا اذا لبسہ رطبا اومع العرق وان یستعمل حارا فلو برد لاباس علی الاصح وقیل لافرق علی الصحیح ووجہ ورد فالاول الاوجہ قیل وان لایکون الاناء منکشفا والراجح ولو فالحاصل منع ایصال الماء المشمس فی اناء منطبع من غیر النقدین الی البدن فی وقت وبلد حارین

دارقطنی نے عامر سے اور عقیلی نے انس سے مرفوعًا روایت کی ، دارقطنی اور شافعی نے عمر فاروق سے موقوفًا روایت کی کہ تم آفتاب سے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے ، دارقطنی اور ابو نعیم نے ام المؤمنین سے روایت کی کہ آپ نے حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکیلئے آفتاب سے پانی گرم کیا تو آپ نے فرمایا : آیندہ ایسا نہ کرنا اے حمیراء کیونکہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے۔ اور علماء نے اس میں کچھ قیود لگائی ہیں مثلًا یہ کہ گرم پانی گرم علاقہ میں ہو ، گرم وقت میں ہو ، یہ کہ پانی کسی دھات کے بنے ہوئے برتن میں جیسے پانی لوہے تانبے کے برتن میں گرم ہوا ہو اصح قول کے مطابق مگر سونے چاندی کے برتن میں گرم نہ کیا گیا ہو معتمد قول کے مطابق مٹی کھال پتھّر اور لکڑی کے برتنوں کو دھوپ میں رکھ کر گرم نہ کیا گیا ہو۔ حوض اور گڑھے میں سورج کا گرم شدہ پانی قطعًا نہ ہو ، یہ پانی بدن میں استعمال ہوا ہو ، اگرچہ پی لیا تو بھی یہی خطرہ ہے ، کپڑے دھوئے تو حرج نہیں ، ہاں اگر کپڑا دھو کر تر ہی پہن لیا تو خطرہ ہے ، یا کپڑا پہنا اور جسم پر پسینہ تھا ، یہ پانی گرم استعمال کیا جائے اگر ٹھنڈا ہونے کے بعد استعمال کیا تو حرج نہیں ، اصح قول یہی ہے ، اور ایك قول یہ بھی ہے

مالم یبرد والله تعالٰی اعلم۔

کہ فرق نہیں ، اور یہی صحیح ہے ، اس کی توجیہ بھی ہے اور اس پر رد ہے ، تو اول کی وجہ زیادہ درست ہے ، ایك قول یہ ہے کہ برتن کھُلا ہوا نہ ہو ، اور راجح ولو کان الاناء منکشفاہے (یعنی اگرچہ برتن کھلا ہو) تو خلاصہ یہ ہے کہ دھوپ کے گرم پانی کا سونے چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کے برتن سے جسم پر پہنچانا ، گرم وقت میں اور گرم علاقہ میں بلا ٹھنڈا کیے ممنوع  ہے والله  تعالٰی اعلم۔ (ت)

اور تحقیق۱  یہ ہے کہ ہمارے نزدیك بھی اُس پانی سے وضو وغسل مکروہ ہے کما صرح بہ فی الفتح والبحر والدرایۃ والقنیۃ والنھایۃ(جیسا کہ فتح ، بحر ، درایہ ، قنیہ اور نہایہ میں صراحت کی گئی ہے۔ ت)اور یہ کراہت شرعی تنزیہی ہے

کما اشار الیہ فی الحلیۃ والامداد ھذا ماحققہ ش خلافا للتنویر والدر حیث نفیا الکراھۃ اصلا ویمکن حمل التنویر علی التحریم اما الدر فصرح انھا طبعیۃ عند الشافعیۃ وھو خلاف نصہم۔

اقول : (۲) وزیادۃ التنویر قید القصد حیث قال وبماء قصد تشمیسہ لیس اتفاقیا بل الدلالۃ علی الاول واشارۃ الی نفی ماوقع فی المعراج ان الکراھۃ مقیدۃ عند الشافعی بالقصد فافہم۔                                                                                                                                                                                                                                                 

جیسا کہ حلیہ اور امداد میں اشارہ کیا “ ش “ نے یہی تحقیق کی ، تنویر اور دُر میں اس کے خلاف ہے ، ان دونوں حضرات نے مطلقًا  کراہت کا انکار کیا ہے ، اور تنویر کی عبارت کو مکروہ تحریمی پر محمول کرنا ممکن ہے مگر در میں یہ تصریح کی گئی ہے کہ شافعیہ کے نزدیك وہ کراہت طبعیہ ہے اور یہ ان کی تصریحات کے خلاف ہے۔ (ت) میں کہتا ہوں تنویر میں ارادہ کی قید کا اضافہ ہے انہوں نے فرمایا “ اور اس پانی سے جس کو دھوپ میں قصدًا گرم کیا گیا ہے ، یہ قید اتفاقی نہیں ہے بلالکہ پہلی پر دلالت کے لئے ہے اور جو معراج میں فرمایا ہے اسکی نفی کیلئے ہے کہ شافعیوں کے نزدیك کراہت اس وقت ہے جب بالقصد ہو فافہم۔ (ت)

(۱۱) عورت کی طہارت سے بچا ہوا پانی اگرچہ جنب یا حائض ہو اگرچہ اس پانی سے خلوتِ تامّہ میں اُس نے طہارت کی ہو ، خلافا لاحمد والمالکیۃ  (اس میں احمد اور مالکیہ کا اختلاف ہے۔ ت) ہاں مکروہ(۳) ضرور ہے۔

بل فی السراج لایجوز للرجل ان یتوضأ ویغتسل بفضل وضؤ المرأۃ[5] اھ وھو نص

بلکہ سراج میں ہے کہ مرد کو جائز نہیں کہ وہ عورت کے غسل یا وضو کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرے اھ

فی کراھۃ التحریم واستظھرھا ط من قول الدر من منھیاتہ التوضی بفضل ماء [6] المرأۃ قال وفیہ نظر واجاب ش بانہ یشمل المکروۃ تنزیھا فانہ منھی عنہ اصطلاحا حقیۃ کما قدمناہ عن التحریر [7]  اھ۔  وعللہ ط بخشیۃ التلذذ وقلۃ توقیھن النجاسات لنقص دینھن قال وھذا یدل علی ان کراھتہ تنزیہیۃ [8]۔

 



[1]   جامع للبخاری باب وضؤ الرجل مع امرأتہٖ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۳۲

[2]              الدرالمختار باب المیاہ مجتبائی لاہور ۱ / ۳۴

[3]   سنن الدار قطنی باب الماء المسخن نشر السنۃ ملتان ۱ / ۳۹

[4]   سنن الدار قطنی باب الماء المسخن نشر السنۃ ملتان  ۱ / ۳۸

[5]        ردالمحتار  مکروہات الوضوء مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۸

[6]   طحطاوی علی الدرالمختار مکروہات الوضوء بیروت ۱ / ۷۶

[7]   ردالمحتار  مکروہات الوضوء مصطفی البابی مصر ۱ / ۹۸

[8]   طحطاوی علی الدرالمختار مکروہات الوضوء بیروت ۱ / ۷۶



Total Pages: 220

Go To