Book Name:Fatawa Razawiyya jild 2

امام قاضی خان میں ہے :

ان کان بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض فھو عمیق رواہ ابویوسف عن ابی حنیفۃ رضی الله تعالٰی عنہما [1]۔

اگر پانی اس حال پر ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے تو زمین نیچے سے نہ کھلے تو وہ گہرائی والا ہے اس کو ابو یوسف نے ابو حنیفہ سے روایت کیا۔ (ت(

خزانۃ المفتین میں ہے :

وعمقہ بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض وھو المختار [2]۔

پانی کی گہرائی یہ ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے زمین نیچے سے نہ کھُلے یہی مختار ہے۔ (ت(

چلپی علی صدر الشریعۃ میں ہے :

والغرف اخذ الماء بالید للتوضی وھو الاصح [3]۔

غرف ہاتھ کے ذریعے وضو کیلئے پانی لینے کو کہتے ہیں اور یہی اصح ہے۔ (ت(

سوم کفین بصیغہ تثنیہ یہ امام ابو یوسف سے مروی آیا اور اسی کو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے اختیار فرمایا زیلعی علی الکنز میں ہے :

عن ابی یوسف اذا کان لاینحسر وجہ الارض بالاغتراف بکفیہ فھو جار [4] اھ وقدمناہ عن ملك العلماء واذا کان ھذا فی الجاری حقیقۃ ففی الملحق عـــہ

اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ جب دو چُلّو بھر کر پانی اٹھانے سے زمین کی سطح نہ کھلے تو یہ پانی جاری ہے اھ ہم اس کو ملك العلماء سے پہلے ہی نقل کر آئے ہیں ، جب یہ بات حقیقی جاری پانی میں ہے تو

 

عـــہ اقول :  وھذا بخلاف مافعل فی البحر فان تصحیح الاطلاق فی الجاری لایستلزم تصحیحہ فی الملحق بہ واشتراط العمق فیہ یستلزم اشتراطہ فی الملحق بالاولی منہ غفرلہ۔ (م(

میں کہتا ہوں یہ اس کے خلاف ہے جو بحر میں کیا ہے کیونکہ جاری میں اطلاق کی تصحیح سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو جاری سے ملحق ہو اس میں بھی یہی تصحیح ہوگی اور گہرائی کی شرط اس میں اس امر کو مستلزم ہے کہ یہی شرط ملحق میں بھی ہو۔ (ت(

بہ بالاولی۔

جو جاری پانی سے ملحق ہوگا اس میں بطریق اولیٰ ہوگی۔ (ت(

بدائع میں ہے :

عن الفقیہ ابی جعفر الھندوانی ان کان بحال لو رفع انسان الماء بکفیہ انحسر اسفلہ ثم اتصل لایتوضؤ بہ وان کان لاینحسر اسفلہ لابأس بالوضوء منہ [5]۔                                         

فقیہ ابو جعفر ہندوانی سے منقول ہے کہ وہ پانی ایسا ہو کہ اگر کوئی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کے نیچے زمین کھل جائے اور پھر مل جائے ، ایسے پانی سے وضو نہیں ہوگا اور اگر اس کے نیچے سے زمین نہ کھلتی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت(

جامع الرموز میں ہے :

بالغرفۃ ای برفع الماء بالکفین [6]۔

بالغرفۃ یعنی دو ہتھیلیوں سے پانی اٹھانا۔

عبدالحلیم الدرر میں ہے :

ای باخذ الماء بالکفین [7]۔

یعنی دو ہتھیلیوں میں پانی لینا۔

طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے :

قولہ بالغرف منہ ای بالکفین کما فی القھستانی وفی الجوھرۃ علیہ الفتوی [8]۔

اقول : (۱)ربما یتوھم منہ ان الفتوی علی الکفین ولیس کذلك فانما عبارۃ الجوھرۃ اما مقدار العمق فالاصح ان یکون بحال لاتنحسر الارض بالاغتراف وعلیہ الفتوی [9] اھ فکان ینبغی ان یقدم                                          

بالغرف منہ یعنی دو ہتھیلیوں سے جیسا کہ قہستانی میں ہے اور جوہرہ میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت(

میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے یہ وہم پیدا ہو کہ فتوی کفین پر ہے ، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جوہرہ کی عبارت یہ ہے “ اور گہرائی کی مقدار میں اصح یہ ہے کہ چُلّو بھرنے سے زمین نہ کھلتی ہو ، اسی پر فتوٰی ہے اھ۔ تو ان کو جوہرہ کی عبارت پہلے لانی چاہئے تھی۔

عبارتھا ویقول قولہ بالغرف علیہ الفتوی جوھرۃ ای بالکفین قھستانی۔

 



[1]   فتاوٰی قاضی خان فصل فی الماء الراکد نولکشور لکھنؤ ۱ / ۴

[2]   خزانۃ المفتین

[3]   ذخیرۃ العقبٰی کتاب الطہارت مطبعہ اسلامیہ لاہور ۱ / ۶۸

[4]                تبیین الحقائق کتاب الطہارت  مطبعہ الازہریہ مصر ۱ / ۳۳

[5]   بدائع الصنائع فصل فی بیان مقدار الخ سعید کمپنی کراچی ۱ / ۷۳

[6]   جامع الرموز بحث عشر فی عشر الکریمیہ قزان ایران ۱ / ۴۸

[7]   حاشیۃ علی الدرر للعبد الحلیم مطبعہ عثمانیہ مصر ۱ / ۱۷

[8]   طحطاوی علی مراقی الفلاح نور محمد کتب خانہ کراچی ص۱۶

[9]   الجوہرۃ النیرۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ / ۱۶



Total Pages: 220

Go To