Book Name:63 Madani Inamaat

جذباتِ عطّار: آہ ! آہ! آہ ! دل خوفزدہ ہے میں نہیں جانتا کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کی میرے بارے میں خفیہ تدبیر کیا ہے! البتہ میرے دل کے جذبات یہ ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکے صدقے میں مجھ پر اگر خاص کرم ہوگیا تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنی ہراجمیری  ، بغدادی  ،  مکیاورمَدَ نی بیٹیکو جنت الفردوس میں ساتھ لیتا جاؤں گا۔

عطّارکس سے بیزار:  جو اسلامی بہن دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ ، انتظامی کابینات و مجالس وغیرہ کی بلا اجازتِ شرعی لوگوں کے سامنے مخالفت کرے وہ نہ میری اجمیری بیٹی  ، نہ بغدادی  ،  نہ مکی نہ مَدَ نی بیٹی بلکہ قلبِ عطّار اُ س سے بیزار ہے ۔

دُعائے عطّار:  اللہ عَزَّوَجَلَّ! جو روزانہ یہ مذکورہ  مَدَنی کام کرلیا کرے اس عطار کی اجمیری اور بغدادی نیزعطارکی مکی ومَدَنی بیٹی کو مع عطارجنت الفردوس میں اپنے مَدَنی محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا پڑوسی بنالے۔

                                      اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم

                                                                   مرکزی مجلسِ شوریٰ

 ’ ’ یاربِّ کریم!ہمیں مُتَّقی بنا  ‘‘ کے اُنیس حُرُوف کی نسبت سے گھرمیں  ’’ مَدَ نی ماحول ‘‘  بنانے کے 19مَدَ نی پھول

 (1) گھر میں آتے جاتے بلند آواز سے سلام کیجئے۔ (2)  والِدہ یا والِدصاحِب کو آتے دیکھ کرتعظیماً کھڑے ہو جایئے ۔ (3)  دن میں کم از کم ایک بار اسلامی بھائی والِدصاحِب کے اور اسلامی بہنیں ماں کے ہاتھ اور پاؤں چوما کریں ۔  (4)  والِدَین کے سامنے آواز دھیمی رکھئے ، ان سے آنکھیں ہرگزنہ ملائیے ،  نیچی نگاہیں رکھ کر ہی بات چیت کیجئے۔  (5) ان کا سونپا ہوا ہر وہ کام جو خِلافِ شَرع نہ ہو فوراً کر ڈالئے۔ (6) سنجیدگی اپنایئے۔ گھر میں تُو تُکار ،  اَبے تَبے اور مذاق مسخری کرنے ،  بات بات پر غصّے ہو جانے  ،  کھانے میں عیب نکالنے  ،  چھوٹے بھائی بہنوں کو جھاڑنے  ،  مارنے ، گھرکے بڑوں سے اُلجھنے  ،  بحثیں کرتے رہنے کی اگر آپ کی عادَتیں ہوں تو اپنا رَوَیّہ یکسر تبدیل کر دیجئے  ، ہر ایک سے مُعافی تَلافی کرلیجئے ۔ (7) گھر میں اور باہر ہر جگہ آپ سنجیدہ ہو جائیں گے تواِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّگھر کے اندر بھی ضَرور اِس کی بَرَکتیں ظاہِر ہوں گی۔  (8)  ماں بلکہ بچّوں کی امی ہو تو اُسے نیز گھر  (اور باہَر) کے ایک دن کے بچّے کو بھی  ’’ آپ  ‘‘  کہہ کر ہی مخاطِب ہوں ۔ (9)  اپنے مَحَلّے کی مسجِدمیں عشاکی جماعَت کے وَقت سے لے کر دوگھنٹے کے اندر اندر سو جایئے ۔ کاش !تہجُّد میں آنکھ کُھل جائے ورنہ کم از کم نَماز ِفجر تو بآسانی  (مسجِد کی پہلی صَف میں باجماعت )  مُیَسَّر آئے اور پھر کا م کاج میں بھی سستی نہ ہو ۔ (10)  گھرکے افراد میں اگر نَمازوں کی سُستی  ، بے پردَگی  ،  فلموں ڈِراموں اور گانے باجوں کا سلسلہ ہو اور آپ اگر سرپرست نہیں ہیں  ، نیز ظنِّ غالب ہے کہ آپ کی نہیں سُنی جا ئے گی تو بار بار ٹَوکاٹَوک کے بجائے ، سب کو نَرمی کےساتھمکتبۃُ المدینہ سے جاری شُدہ سنّتوں بھر ے بیانا ت کی آڈیو / وِڈیو کیسٹیں سنایئے۔ مَدَنی چینل دکھایئے۔اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ    وَجَلَّ ’ ’ مَدَنی نتا ئج ‘‘  برآمد ہوں گے ۔  (11) گھر میں کتنی ہی ڈانٹ بلکہ ما ر بھی پڑے  ،  صَبرصَبراورصَبر کیجئے۔اگر آپ زَبان چلائیں گے تو  ’’ مَدَنی ماحول  ‘‘ بننے کی کوئی اُمّید نہیں بلکہ مزید بِگاڑ پیدا ہو سکتا ہے کہ بے جا سختی کرنے سے بسا اوقات شیطان لوگو ں کوضِدّی بنا دیتا ہے۔  (12) مَدَنی ماحول بنانے کا ایک بہترین ذَرِیعہ یہ بھی ہے کہ گھر میں روزانہ فیضا نِ سنَّت کا دَرس ضَرور ضَرور ضَرور دیجئے یا سنئے۔ (13) اپنے گھر والوں کی دنیا و آخِرت کی بہتری کے لئے دِل سوزی کے ساتھ دعا بھی کر تے رہئے کہ فرمانِ مصطَفٰیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ہے:  ’’  اَلدُّعَآئُ سِلَاحُ الْمُؤْمِنِیعنی دُعا مومِن کا ہتھیار ہے۔ ‘‘  (المستدرک للحاکم ج ۲ ص ۱۶۲حدیث۱۸۵۵)  (14) سُسرال میں رہنے والیا ں جہاں گھر کا ذِکر ہے وہاں سُسرال اور جہاں والِدَین کاذِکر ہے وہاں ساس اور سُسَر کے ساتھ وُہی حُسنِ سُلو ک بجا لائیں جبکہ کوئی مانِعِ شَرعی نہ ہو۔  (15) مسائلُ القُراٰن صَفحَہ290پر ہے : ہر نَماز کے بعد یہ دُعا اوّل وآخِر دُرُود شریف کے ساتھ ایک بار پڑھ لیجئے ، اِنْ



Total Pages: 6

Go To