Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       اورتجربہ نے  یہ بھی انہیں بتادیا کہ مسلمان کبھی بھی اپنے رسول کے فرامین کا منکر نہیں ہوگا  اور وہ اپنا سب کچھ قربان کرکے بھی سنت رسول سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہوگا ۔پھر بھی وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے چنانچہ مستشرقین میں سب سے پہلے ایک یہود ی مستشرق

 گو لڈزیہرنے حدیث کے خلاف زہرافشائی کی۔

       مولانا پیرکرم شاہ ازہری لکھتے ہیں ۔

       گولڈزیہر نے اپنے بے بنیاد خیالات کا اظہار اپنی کتاب دراسات محمدیہ میں کیا ہے جو ۱۸۹۰ء میں جرمن زبان میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد حدیث  پر تحقیق کیلئے یہ کتاب اہل مغرب کی بنیادی دستاویز بن گئی ۔ بیشتر مستشرقین اس کتاب کے حوالے سے اپنے نتا ئچ فکر پیش کرتے رہے ۔

       پروفیسر شاخت نے فقہی احکام سے متعلق احادیث پر کام کیا  ،گلیوم کی ’’ٹریڈ یشنز آف اسلام ‘‘ وجود میں آئی جو گولڈزیہر کی تحقیقات کا چربہ تھی ، مارگولیتھ نے گولڈزیہر کے افکار کی روشنی میں اپنے         نطریات پیش کئے ، علاوہ ازیں دوسرے مستشرقین مورست ،فون کریمر ،مویر، کیتانی اورنکسن وغیرہ نے بھی اس میدان میں اپنے نتائج فکر بیان کئے ہیں جوسارے کے

سارے کم وبیش گولڈزیہر ہی کی صدائے باز گشت ہیں ۔( ۲۶)

       دراسات محمدیہ کے تعلق سے مولانا موصوف یوں وضاحت کرتے ہیں کہ فانملر  گولڈزیہر کی حدیث کے متعلق تحقیقات کا نچوڑ ان الفاظ میں پیش کرتاہے ۔

       گولڈزیہر احادیث پاک کو پہلی اوردوسری صدی ہجری میں اسلام کے دینی ،تاریخی اوراجتماعی ارتقاء کا نتیجہ قرار دیتاہے ۔لہذا گولڈزیہر کے نقطۂ نگاہ سے حدیث کو اسلام کے دوراول یعنی عہد طفولیت کی تاریخ کیلئے قابل اعتماد ستاویزقرار نہیں دیا جاسکتا ۔کیونکہ حدیث ان

کوششوں کانتیجہ ہے جواسلام کے دور عروج میں اسلام کے ارتقاء کیلئے کی گئیں ۔

       گولڈزیہر اس بات پر بڑے پرزور دلائل پیش کرتاہے کہ اسلام متحارب قوتوں کے درمیان ارتقائی منازل طے کرتاہوا منظم شکل میں رونماہوا ۔وہ حدیث کی تدریجی ارتقاء کی بھی تصویر کشی کرتاہے اور   بزعم خویش   نا قابل تردید دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حدیث کس طرح اپنے زمانہ کی روح کا عکس تھا اورکس طرح مختلف نسلوں نے احادیث کی تشکیل میں اپنا کردار اداکیا اور کس طرح اسلام مختلف گروہ اورفرقے اپنے اپنے موقف کو



Total Pages: 604

Go To