Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       ہزار سال سے زیادہ گزرجانے کے بعد پھر مسلمان کہلانے والے لوگوں کی بے راہ روی اور نکتہ چینی حدسے بڑھی اور انہوں نے بھی وہی طریقہ اپنایا جو عقل وخرد سے بعید تھا اور اس سلسلہ میں وہ دراصل مستشرقین کے ریزہ  خوار اورزلہ رباتھے ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ جس طرح بھی ہو اسلام کو بے بنیاد ثابت کیاجائے ،یاپھرا سکی بنیادوں میں وہ خامیاں بیان کی جائیں جس سے اسلامی تعلیمات کی حقیقت ایک افسانہ کے سوا کچھ بھی نہ رہے ۔اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے ہرحربہ استعمال کیا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۵۔    پارہ       ۲۷      ع          النجم،

        چونکہ اس خبیت مقصد میں عیسائی اور یہودی ہم پیالہ وہم نوالہ تھے لہذا دونوں نے مل جل کر سرتوڑکوششیں شروع کیں اورعلوم اسلامیہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بے سروپا

اعتراضات کی بوچھار بھی شروع کردی ۔

       سب سے پہلے انہوں نے نشانۂ تنقید قرآن عظیم کوبنایا کہ اسلامی تعلیم کایہ ہی اصل منبع تھا  ،ایک عرصہ گذر گیا اور وہ یہ ہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ کوئی الہامی کتاب نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے رسول ( صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم) کا خود ساختہ  کلام ہے ۔ اور اس میں تغیروتبدل ممکن ہیـ۔ لیکن طویل مدت گذرجانے کے باوجود وہ اس میں کوئی تبدیلی نہ لاسکے ۔کیونکہ قرآن عظیم  کی حفاظت کا ذمہ خود خدا وندقدوس نے لیاتھا ،جو اس میں تبدیلی کی راہیں پیداکرنے کی کوشش کریگا وہ خود ہی خائب وخاسر رہیگا ۔ بہت لوگوں نے اس قبیح فعل کا ارتکاب

کیا تو دنیا نے ان کا عبرتناک انجام دیکھا۔

        مستشرقین نے جب اس میدان میں اپنے کو شکست خوردہ  پایا تودوسرا حملہ انہوں نے

احادیث مصطفی  علیہ التحیۃ والثناء پر کیا ۔

       اس سلسلہ میں انہوں نے اسلامی ذخیرہ کا شب وروزمطالعہ کیا ،اللہ کے رسول  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم پر اگرچہ انکا ایمان نہیں ہے لیکن اپنے اسلاف کی طرح اتناضرور جانتے ہیں کہ یہ آخری رسول ہیں ۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول کا دامن کبھی جھوٹ سے داغدار نہیں ہوتا۔

رسول کا فرمان حق ہوتاہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہوتی ۔

 



Total Pages: 604

Go To