Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

۱۶۔     السنن للنسائی ،  عن ایمن  بن  ام ایمن ضی اللہ تعالیٰ عنہما،             ۲/۲۲۵

۱۷۔     السنن للنسائی  عن ابن عباس  رضی اللہ تعالیٰ عنہما                    ۲ /۱۲۵

       دوسر ی مثال ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ۔

       الذین آمنوا ولم یلبسوا ایمانہم بظلم اولئک لہم الامن وہم مہتدون ۔  (۱۸)

        وہ جوایمان لائے اوراپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی ، انہیں کیلئے امان ہے

اور وہی راہ پر ہیں ۔

       اس آیت کے نزول پر صحابہ کرام کو یہ اشکال ہوا کہ ظلم سے ہر قسم کا ظلم مراد ہے توپھر امت حرج ودشواری میں مبتلاہوجائیگی ۔بارگاہ رسالت میں عرض کیا تو حضور اقدس  صلی اللہ  تعالیٰ علیہ وسلم نے اسکی وضاحت اورتعیین مراد الہی یوں فرمائی ۔کہ یہاں ظلم سے شرک مراد ہے ،

اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس اشکال کے جواب میں یہ آیت نازل فرمائی ہے ،

       ان الشرک لظلم عظیم ۔(۱۹)

        بیشک شرک بڑاظلم ہے ۔

       تیسری مثال ۔ اللہ تعالیٰ فرماتاہے:۔

       واذاضربتم فی الارض فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ ان خفتم

ان یفتنکم الذین کفروا ۔(۲۰)

        اور جب تم زمین میں سفر کرو توتم پر گناہ نہیں کہ بعض نمازیں قصر سے پڑھو، اگرتمہیں

اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ایذادینگے ۔

       اس آیت کے ظاہری مفہوم سے معلوم ہوتاہے کہ سفر میں نماز قصر کرنے کا حکم خوف کے

ساتھ مشروط ہے ۔ حالانکہ خوف کفار قصر کیلئے شرط نہیں جیسا کہ حدیث میں ہے ۔

       حضرت یعلی بن امیہ فرماتے ہیں ۔

        قلت لعمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ’’فلیس علیکم جناح ان تقصروا من الصلوۃ ان خفتم ‘‘ وقدأمن الناس ، فقال : عجبت مماعجبت منہ حتی سألت النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عن ذلک ،فقال : صدقۃ  تصدق اللہ بہا

علیکم فاقبلواصدقتہ۔(۲۱)

 



Total Pages: 604

Go To