Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

ملتا ہے ۔ راوی کا ضعف سوء حفظ ، یا جہالت کی وجہ سے ہو تو حدیث حسن لغیرہ  ہو جاتی ہے ۔ متروک و منکر احادیث اسی جیسے رواۃ کے تعدد طرق سے مروی ہوں تو مستور اور سوء حفظ کے حامل کی روایت کے درجہ میں شمار ہوتی ہے ۔ اب اگر مزید تائید میں کوئی ایسی ضعیف حدیث مل جاے جس کے ضعف کو گوارہ کیا جا سکتا ہے تو پورا مجموعہ حسن لغیرہ کی منزل میں آجائے گا ۔

اعتبار

 تعریف:- کسی حدیث کی حیثیت جاننے کے لئے دوسری احادیث پر غور کرنا یعنی یہ جاننا کہ

کسی دوسرے نے اس حدیث کو روایت کیا ہے یا نہیں اگر روایت کیا ہے تو اس کی نوعیت کیا ہے ،  دونوں میں موافقت ہے یا مخالفت ، اگر موافقت ہے تو لفظی ہے یا معنوی ، نیز دونوں کی روایت ایک صحابی سے ہے یا دو سے ۔ اگر مخالفت ہے تو دونوں کے راویوں میں باہم کیا نسبت ہے کہ کسی ایک کو ترجیح  ہو ۔ اگر تحقیقی سے معلوم  ہو جائے کہ اس حدیث کو کسی دوسرے نے روایت نہیں کیا تو وہ فرد و غریب ہے ۔

        ہاں کسی دوسرے نے موافقت کے ساتھ روایت کیا ہے تو حسب تفصیل دوسری حدیث کو  متابع اور شاہد کہتے ہیں ۔ اور مخالفت کیساتھ روایت کیا تو وہ تمام تفصیلات آپ شاذو منکر وغیرہا کے بیان  میںپڑھ چکے ہیں ۔

       اس تفصیل سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ متابعت سے تائید و تقویت حاصل ہوتی ہے   یہ ضروری نہیں کہ متابعت کرنے والا راوی اصل راوی کے مرتبہ میں مساوی ہو بلکہ کم مرتبہ کی متابعت بھی معتبر ہے ۔

متابع و شاہد

تعریف متابع:- اکثر کے نزدیک  وہ حد یث جس کو ایک ہی صحابی سے لفظ و معنی یا صرف

معنی کی موافقت سے ذکر کیا جائے ۔

 تعریف شاہد : - اکثر کے نزدیک  وہ حدیث جس کو چند صحابہ سے لفظ  و معنی یا صرف   معنی کی  موافقت سے  ذکر کیا جائے ۔

        بعض حضرات موافقت فی اللفظ کو متابع اور موافق فی المعنی کو شاہد کہتے ہیں ۔ خواہ ایک صحابی    سے مروی



Total Pages: 604

Go To