Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       بدعت سے مراد  اہل سنت و جماعت  کے خلاف کسی چیز کا اعتقاد رکھنا بشرطیکہ   یہ اعتقاد کسی تاویل پر مبنی  ہو ۔

       ایسے بدعتی کی حدیث جمہور کے نزدیک  مقبول نہیں ۔ اور بعض کے نزدیک مقبول ہے بشرطیکہ موصوف بالصدق ہو ۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ بدعتی  وضروریات دین میں سے کسی  ضروری چیز کامنکر ہے تو اس کی حدیث مردود  ہے ورنہ مقبول بشرطیکہ ضبط ، ورع ، تقوی ، احتیاط اور صیانت کے ساتھ متصف ہو۔

        لیکن مختار مذہب  یہ ہے کہ ا گر وہ اپنی بدعت کی جانب دعوت دیتا اور اس کی ترویج کرتا ہے تو اس کی حدیث مقبول نہیں ورنہ مقبول کی جائے گی ۔ بالجملہ  اہل بدعت سے اخذ حدیث میں ائمہ مختلف ہیں اور احتیاط اسی میں ہے کہ ان سے حدیث  اخذ نہ کی جائے کہ یہ لوگ اپنے مذہب کی ترویج کے واسطے احادیث گڑھتے اور بعد توبہ اعتراف کرتے تھے ۔ (۱۱۳)  

 سوء حفط

        راوی کے ضبط  میں طعن کے وجوہ بھی   پانچ شمار کئے گئے تھے ،  ان میں سے فرط غفلت اور کثرت غلط کو منکر کے تحت ذکر کیاگیا تھا ، اور کثرت وہم حدیث  معلل کے ضمن  میں بیان ہوا ، اور  مخالفت ثقات کو مدرج وغیرہا سات اقسام میں شمار کیا ، اب فقط سوء حفظ  کا ذکر باقی ہے ، اس کے سلسلہ  میں اجمالی کلام یہ ہے ۔

                     X لازم              Xطاری

  لازم : -  وہ ہے جو تمام  احوال میں پایا جائے ، ایسے راوی کی حدیث معتبر نہیں  ۔

 طاری : - وہ ہے جو  پہلے نہ تھا کسی سبب سے حادث  ہوگیا، جیسے پیرانہ سالی ، یا ذہاب بصارت  ، یا فقدان کتب ، ایسے راوی کو مختلط کہتے ہیں ۔ اس کی اختلاط سے پہلے کی احادیث قبول کی جائیں گی بشرطیکہ اختلاط سے بعد کی روایتوں سے ممتاز ہوں۔ اور اگر ممتاز نہیں  تو توقف کیا  جائیگا ۔ اور اگر مشتبہ ہیں تب بھی   ان کا حکم توقف ہے ۔  اگر ان کے واسطے متابعات  و شواہد دستیاب ہو گئے تو مقبول  ہو جائیں گی ۔ (۱۱۴)

 ضروری وضاحت

       تعدد طرق سے حدیث کو تقویت حاصل ہوتی ہے  ۔ اس اصول کے تحت حسن لذاتہ کو صحیح لغیرہ کا درجہ



Total Pages: 604

Go To