Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

حضرت ابن عباس کا قول بتایا ہے ، لہذا س مخالفت کی بنیاد پر ابو اسحاق  کی یہ روایت منکر قرار پائی۔  اورباقی  دوسرے ثقہ راویوں   کی معروف ۔(۱۰۷)

انتباہ:-بعض حضرات نے ’’شاذ و منکر‘ میں مخالفت کا اعتبار نہیں کیا اور شاذ کی تعریف یہ کی   ۔

         اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو ثقہ نے روایت کیا اور اس روایت مین منفرد ہو، اور اس کے  لئے کوئی  اصل موید پائی جائے ۔ یہ تعریف ثقہ کے فرد صحیح پر صادق آتی ہے ۔ اور اول تعریف صادق نہیں ۔ اور بعض نے ’’شاذ ‘‘  میں نہ راوی کے ثقہ ہونے کا اعتبار کیا اور نہ مخالفت کا ۔

        ایسے ہی منکر کو صورت مذکورہ کے ساتھ خاص نہیں کیا  یہ لوگ فسق اور فرط غفلت اور کثرت غلط کے ساتھ مطعون کی حدیث کو منکر کہتے ہیں ۔ یہ اپنی اپنی اصطلاح ہے ۔

        و للناس فیما یعشوقون مذاہب ۔ (۱۰۸)

        منکر کی بایں معنی تعریف اور قدرے تفصیل متروک کے بعد اس سے قبل ذکر کی جا چکی ہے ۔

        ابن صلاح نے منکر مقابل معروف کو مقسم قرار دیکر شاذاور منکر کو اس کی قسمیں بتایا

 ہے ۔

حکم : -  شاذ کے  راوی  ثقہ نہیں تو یہ مردود ہے ورنہ مرجوح ہوگی اور منکر مردود ہے ۔

البتہ  محفوظ و معروف راجح اور مقبول ہوتی ہے ۔

 

 

       زیاتی ثقات

تعریف : -  زیادتی ثقات سے مراد  راویوں کی جانب سے احادیث میں منقول وہ زائد کلمات ہیں جو دوسروں سے منقول نہ ہوں ۔

        زیادتی ثقات در اصل مخالفت ثقات کا ایک پہلو ہے اور گزشتہ اوراق میں ذکر کردہ اقسام در اصل اسی اصل کے جزئیات  ہیں جیسا کہ مذکورہ تفصیلات سے ظاہر ہے ۔ لیکن ان کے عناوین مستقل تھے لہذا ان کو علیٰحدہ  ذکر کر دیا گیا ۔

 



Total Pages: 604

Go To