Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

راوی سے  ہی اختلاف  منقول ہوتا ہے کہ انہوں نے روایت متعدد مواقع پر کی ، اور کبھی راوی چند ہونے کی وجہ سے اختلاف ہوتا ہے ۔

        واضح رہے کہ اختلاف ایسا شدید ہو کہ ان کے درمیان تطبیق و توفیق ممکن نہ ہو۔ پھر یہ  بھی ضروری کہ تمام روایات قوت و مرتبہ میں مساوی و برابر ہوں کہ ترجیح بھی نا ممکن ہو ، اگر ترجیح یا توفیق ممکن ہوئی تو اضطراب متحقق نہیں ہوگا ۔

                     اضطراب کی دو قسمیں ہیں :۔

               اضطراب فی السند               اضطراب فی المتن

مثال قسم اول :  - یہ قسم ہی زیادہ وقوع پذیر ہے ۔ جیسے:۔

        حدثنا مسدد ، حدثنا بشر بن المفضل ، حدثنا اسماعیل  ابن امیہ حدثنی ابو عمر و بن محمد بن حریث انہ سمع جدہ حریثا یحدث  عن ابی ہریرۃ  ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال : اذا صلی احدکم فلیجعل  تلقاء  وجہہ شیئا ، فان لم یجد فلینصب عصا ، فان لم یکن معہ عصا فلیخطط خطا ثم لا  یضرہ ما مرا مامہ ۔ (۹۳)

        حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد  فرمایا :  جب تم میں کوئی نما ز پڑھنے کھڑا ہو تو اپنے سامنے سترہ قائم کر ے ، اگر کوئی چیز نہ ملے تو اپنا عصا ہی نصب کرے ، اور عصا بھی نہ ہو تو ایک خط کھینچ لے  کہ اس کے سامنے سے گزرنے میں پھر کوئی حرج نہ ہوگا ۔

        اس حدیث کو اسماعیل بن امیہ سے بشر بن مفصل اور روح بن قاسم نے بسند مذکور روایت کیا ، ان دونوں حضرات کی روایت میں ابو عمرو کے بعد  راوی ان کے جد ’’ حریث‘‘  ہیں اور ان کے والد کا نام محمد ہے ۔

        اور  حضرت امام سفیان ثوری کی روایت ’’ اسماعیل بن امیہ ‘‘ سے اس طرح ہے ۔

        عن ابی عمر و بن حریث عن ابیہ عن ابی ہریرۃ۔

        اس سند میں ابو عمرو  ، کے بعد راوی اگرچہ حریث ہیں مگر ان کو ابو عمرو کا والد قرار دیا ہے ۔

        اور حمید بن اسود کی روایت اسماعیل بن امیہ سے طرح ہے:۔

        عن ابی عمروبن محمد بن حریث بن سلیم عن ابیہ عن ابی ہریرۃ ۔

        اس میں ابو عمرو کے بعد راوی ان کے والد ’’ محمد ‘‘ ہیں اور ’’ حریث‘‘ کے والد کا نام’ سلیم‘‘  ذکر کیا ہے ۔

 



Total Pages: 604

Go To