$header_html

Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

٭    اخر حدیث میں ادراج ، جیسے:۔

        عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم للعبد المملوک الصالح اجران ، و الذی نفسی بیدی لو لا الجہاد فی سبیل اللہ و الحج و برامی لا احببت ان  اموت و انا مملوک ۔

       حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ  وسلم نے ارشادفرمایا : نیک غلام کو دو اجر ملتے ہیں۔ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! اگر جہاد حج اور والدہ کی خدمت کا معاملہ نہ ہوتا تو مجھے یہ ہی پسند تھا کہ میں غلامی   کی  حالت میںہی دنیا سے جائوں ۔

        اس حدیث میں’’ نفسی بیدی الخ‘‘ سے  پورا جملہ حضرت ابو ہریرہ کا قول ہے جو اخر حدیث میں مدرج  ہے ، اس لئے کہ حضور سید عالم  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اس طرح کی تمنا نہیں کر سکتے تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ بھی باحیات  نہ تھیں جن کی خدمت غلامی سے مانع ہوتی ۔

        نیز  یہ روایت:۔

       عن ابی خیثمۃ زہیر بن معاویۃ عن الحسن بن الحر عن القاسم بن مخیمرۃ عن علقمۃ عن عبد اللہ بن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم علمہ التشہد فی الصلوۃ فقال : قل التحیات للہ الی آخرہ فاذا قلت ہذا فقد قضیت صلوتک ، ان شئت ان تقوم فقم ، وان شئت ان تقعد فاقعد ۔ (۸۷)

        حضرت علقمہ روایت کرتے ہیں حضرت عبد اللہ بن مسعود سے کہ رسول اللہ  صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے آپہ کو نماز میں پڑھاجانے والا تشہد تعلیم فرمایا، تو ارشاد فرمایا: پڑھو التحیات للہ الی آخرہ جب تم نے یہ پڑھ لیا تو نماز مکمل کر لی ، چاہو تو کھڑے ہو جائو اور چاہو تو بیٹھے رہو ۔

        اس حدیث میں ’’ فاذا قلت ‘‘ سے آخر تک حضرت ابن مسعود کا قول ہے جو اپنے شاگرد حضرت علقمہ سے آپ نے بیان کیا تھا ، حضور کا فرمان نہیں ، لہذا ادراج آخر میں ہے ۔ 

 حکم ۔ محدثین و فقہاء  متفق ہیں کہ صحابہ کے بعد ادراج ناجائز ہے لیکن تشریح لفظ کیلئے جائز ۔

اسی لئے محتاط و محققین علماء سے بھی ایسا ادراج منقول ہے ، بخاری شریف میں اس کی کثیر مثالیں موجود ہیں ۔

تصانیف  فن

        ٭      الفصل للوصل المدرج فی النقل للخطیب       م ۴۶۳ ھ

 



Total Pages: 604

Go To
$footer_html