Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

       امام شعبہ  سے روایت کرنے  والے آدم  اور محمد بن جعفر  ہیں لیکن کسی میں  یہ لفظ نہیں ۔

آدم  سے بطریق  شعبہ  امام بخاریٔ  نے روایت  لی ہے  انکے  الفاظ  یہ ہیں :۔

       عن آدم  بن ابی  ایاس ،  ثنا شعبۃ ،  ثنا محمد  بن  زیاد قال  سمعت اباہریرۃ و کان  یمر بنا و الناس یتو ضئون من المطہرۃ  فیقول :  اسبغوا  الوضوء ، فان  ابا القاسم  صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال:  ویل  للأعقاب من النار۔  (۸۱)

        اس روایت سے یہ معلوم ہوا کہ ’اسبغوا  الوضوء ‘  حضرت ابوہریرہ کا قول ہے ۔

اور محمد بن جعفر  اور امام وکیع  سے بطریق شعبہ  امام مسلم نے روایت  فرما کر ارشاد فرمایا :۔

       وَلیس فیِ حَدِیث شعبۃ أسبغوا الوضُوء ۔( ۸۲)

        امام  شیبۃ کی حدیث  میں اسبغوا الوضوء  کے الفاظ نہیں ۔

       خیال رہے کہ  یہ تفصیل  حضرت ابو ہریرہ  کی  روایت کی بنا پر ہے  ورنہ  صحیح  مسلم  میں حضرت عبد اللہ  بن عمر و بن عاص سے جو  روایت آئی  اس  میں یہ  جملہ  حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ  علیہ وسلم کی طرف سے  یوں منسوب ہے ۔

 کہ آپ نے ارشاد  فرمایا:۔

       ویل للأ عقاب من النار اسبغوا الوضوء ۔ (۸۳)

        خشک  ایڑیوں کیلئے  جہنم کی ہلاکت  ہے ، وضو میں  مبالغہ کرو۔

        اور امام  بہقی  نے ابو عبد اللہ  اشعری  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے بایں  الفاظ  مرفوعا 

روایت لی ۔

       انما مثل الذی یصلی  ولا  یرکع ، وینقر فی  سجودہ  کا لجائع  لایأکل  الا تمرۃ  او تمر تین  فماذا تغنیان عنہ ،  فاسبغوا الوضوء ، ویل  للأعقاب من

النار۔ (۸۴)

        جوشخص  نماز پڑھے  اور رکوع و سجود اطمینا ن سے نہ کرے اسکی  مثال  ایسی ہے کہ بھوکے آدمی کو ایک دو کھجور کھانے کو ملیں ،  تو کیا یہ اسکو کفایت کریںگی ،  لہذا وضو میں مبالغہ کرو،  سوکھی  ایڑیوں  کے لئے دوزخ کی ہلاکت ہے۔

 



Total Pages: 604

Go To