Book Name:Jame Ul Ahadees Jild 1

،لہذا  مرسل نہیں ، اور سند سے دو راوی  پے در پے بھی  ساقط  نہیں لہذا  معضل  بھی   نہیں ، اسی  لئے ا سکو علیحدہ قسم  شمار کیا گیا ہے۔

حکم:۔ راوی غیر  مذکور کا حال  معلوم نہ ہونے کے سبب ضعیف شمار ہو تی ہے۔

 

 

 مدلّس

 تعریف:۔  جس حدیث کی سند کا عیب پوشیدہ  رکھا جائے  اور ظاہر  کو  سنوار کر پیس کیا

جائے۔

                            دوقسمیں ہیں۔

              Xمدلس الاسناد       X مدلس الشیوخ

 مدلس الاسناد:۔ وہ حدیث جسکو استاذ سے  بغیر سنے ایسے الفاظ سے استاذ کی   طرف نسبت

کرے جس سے  سننے کا گمان ہو۔ اسکی  صورت یہ ہوتی ہے کہ راوی اپنے  شیخ کا ذکر  نہ کرے جس سے  سماع حاصل تھا بلکہ اپنے شیخ  سے بالا شیخ کو ذکر کر دے جس سے سماع حاصل نہیں مگر  ایسے لفظ سے  جو سماع کا  ایہام کر تا ہے۔

 جیسے:۔ قال، عن ،  ان ،  وغیرہا کے  ذریعہ   بیان کرے۔ کہ یہ الفاظ موہم  سماع ہیں۔

        یعنی ایسے الفاظ نہ استعمال کرے جو صراحت کے ساتھ براہ  راست سننے کو بتائیں ورنہ  جھوٹا کہلائے گا۔  اس صورت میں  چھوٹے ہوئے راوی  ایک سے زاید بھی  ہو سکتے   ہیں۔

        تدلیس کا سبب کبھی  یہ ہوتا  ہے کہ  شیخ کے صغیر السن ہونے کی وجہ سے راوی  ازراہ خفت اسکا  تذکرہ نہیں کرنا چاہتا، یا راوی  کا  شیخ کوئی  معروف شخص نہیں ، یا عوام و خواص میں اسکو مقبولیت  حاصل نہیں ، یا پھر مجروح  ضعیف ہے ۔لہذا شیخ  کے نام کو ذ کرنے سے پہلو  تہی

کر تاہے۔

       واضح رہے کہ  بعض اکابر جیسے سفیان بن عیینہ  سے تدلیس مندرجہ  بالا وجوہ کے پیش نظر واقع نہیں  ہوئی 



Total Pages: 604

Go To